گھاٹیوں والی ریاست
میں نے چلنا نہیں سیکھا تھا کہ میری اماں جی اکثر کہتیں ”بیٹا اگرپرواز اونچی کرنی ہے تو نگاہیں بلند رکھو”۔ میں نے دیر سے چلنا شروع کیا تھا مگر جب میں نے چلنا شروع کیا تو سفر میرا مقدر ٹھہرا. میرے سکول کالج اور یونیورسٹی کے ایام ایسے ہیں کہ ان کی کوئی قابل رشک عشقیہ داستان نہیں جو مجھے یاد آتی ہو . تلاش روز گار اور جستجو میرا نصیب بنی اور جگہ جگہ کی سیاحتیں میرا مقدر . مادروطن کے کہساروں اور میدانوں سے آغاز کیا اور یورپ میں جہاں تک میرے دستیاب وسائل نے مجھے اجازت دی میں نے سیاحت کی.زندگی کا مقصد اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے انسان کو ایک جدوجہد سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسی ہی ایک جدوجہد کی داستان یہاں رقم کی ہے امید کرتا ہوں کہ قابل قبول ہوگی۔ انڈورا خوبصورت پہاڑوں اور کھلی وادیوں کا ایک چھوٹا سا ملک ہے جو فرانس اور اسپین کے درمیان پائرینیز کے پہاڑوں میں بڑے آب و تاب کے ساتھ ہر سال ہزاروں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے . انڈورا کے بارے میں نیچے دی گئی معلومات کسی بھی انسائیکلوپیڈیا یا معلوماتی کتابچے سے حاصل کی جا سکتی ہیں . اس معلومات کو یہاں لکھنے کا مقصد اس ملک کے محل وقوع اور اس کے بارے میں چند اہم حقائق کو سامنے لانا ہے
انڈورا کے بارے میں یہ معلومات پبلک ڈومین میں دستیاب ہے اور اسے متعدد ذرائع سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگرکوئی اس ملک کے بارے میں مزید جاننا چاہتا ہے تو وہ انڈورا کے محکمۂ سیاحت (ٹورا زم ڈپارٹمنٹ) سے رابطہ کر سکتا ہے۔ انڈورا ایک ریاست ہے جسے انڈورا کی گھاٹیوں والی ریاست بھی کہا جاتا ہے، جو مشرقی پائرینیز کے پہاڑوں میں اور ہسپانیہ و فرانس کی سرحدوں پر، جنوب مغربی یورپ میں واقع ایک خود مختار چھوٹی سی ریاست ہے۔ یہ نوسو اٹھاسی عیسوی میں ایک منشور کے تحت قائم ہوئی موجودہ ریاست کی تشکیل بارہ سو اٹھہتر عیسوی میں ہوئی تھی۔ اسے ایک ریاست کے طور جانا جاتا ہے کیونکہ یہ دو باہم حکمرانوں ہسپانوی/رومن کیتھولک بشپ آف ارجیل اور فرانس کے صدر کے ماتحت ایک سلطنت ہے۔
انڈورا یوروپ کا چھٹا سب سے چھوٹا ملک ہے، جس کا کل رقبہ چار سو اٹھسٹھ مربع کلو میٹر ہے ۔ اس کا دارالخلافہ انڈورا لا ویلّا یوروپ کا سب سے بلندی پر واقع دار السلطنت ہے، جو سمندر کی سطح سے ایک ہزار تئیس میٹر اونچا ہے۔ سرکاری زبان کیٹیلان ہے، تاہم ہسپانوی، پرتگالی اور فرانسیسی بھی کثرت سے بولی جاتی ہے۔
انڈورا کی ٹورزم سروسز کا تخمینہ دس اشاریہ دو ملین سیاح سالانہ تک کا ہے۔ یہ یوروپی یونین کا ممبر تو نہیں ہے لیکن یہاں بطور کرنسی یورو کا ہی استعمال ہوتا ہے۔ یہ انیسو ترانوے سے اقوام متحدہ کا رکن ہے۔ انڈورا کے لوگ دنیا میں سب سے زیادہ متوقع زندگی پانے والے لوگوں میں سے ایک ہیں ۔
انڈورا ایک پارلیمانی معاون حکمرانوں کی سلطنت ہے، جس کے نائب حکمران فرانس کے صدر اور بشپ آف ارجیل (کیٹالونیا، ہسپانیہ) ہیں۔ یہ انفرادیت فرانس کے صدر کو انڈورا کے حکمراں کی حیثیت سے اپنے عہدے پر برقرار رہتے ہوئے انڈورا کا شہزادہ( ایک منتخب کردہ حکمران) متعین کرتی ہے، حالانکہ وہ انڈورا کے عوام کے اکثریتی ووٹ سے منتخب نہیں ہوتا ہے۔ انڈورا کی سیاست پارلیمانی نمائندہ جمہوریت، جہاں حکومت کا سربراہ چیف ایگزیکیٹو ہوتا ہے، اور اجتماعی متعدد پارٹی والے نظام کے ڈھانچے میں کام کرتی ہے۔
انڈورا کی پارلیمنٹ کو جنرل کونسل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جنرل کونسل اٹھائیس اور بیالیس کے بیچ کونسلرز پر مشتمل ہوتی ہے، جنہیں مقننہ کی شاخ کے ممبران کہا جاتا ہے۔ کونسلرز چار سال کے لیے خدمت انجام دیتے ہیں اور پچھلی کونسل تحلیل ہونے کے بعد تیرہ تا چودہ دنوں کے بیچ انتخابات ہوتے ہیں۔ کونسلرز کو دو مساوی حلقہ انتخابات سے منتخب کیا جا سکتا ہے۔
انڈورا کی خود اپنی مسلح افواج نہیں ہیں، ویسے تقریبات کے لیے ایک چھوٹی سی فوج موجود ہے۔ ملک کے دفاع کی ذمہ داری بنیادی طور پر فرانس اور اسپین پر عائد ہوتی ہے. انڈورا میں ایک چھوٹا سا لیکن جدید اور پوری طرح مسلح پولیس دستہ موجود ہے ۔
انڈورا سات کلیسائی حلقوں (کلیسائی حلقہ : ایک چھوٹا سا انتظامی علاقہ جس کا عام طور پر خود اپنا گرجا اور ایک پادری یا پیشوا ہوتا ہے) پر مشتمل ہے، جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں
انڈورا لا ویلا ، کینیلو،اینکیمپ ،اسکالڈیز اینگارڈینی ، لاما سا نا ، آرڈینو ،سینٹ جولیا ڈی لوریا
مشرقی پائرینیز پہاڑی علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے، انڈورا میں زیادہ تر سنگلاخ یہاڑ ہیں، جس میں سب سے اونچا پہاڑ کوما پیڈروسا 2,942 میٹر (9,652 فٹ) بلند ہے اور انڈورا کی اوسط بلندی 1,996 میٹر (6,549 فٹ) ہے۔ یہ وائے کی شکل میں تین تنگ گھاٹیوں میں تقسیم شدہ ہے جو ایک مرکزی دھارا، گرین ولیرا ندی میں ایک ساتھ مل جاتے ہیں، جو اس ملک سے نکل کر اسپین میں (840 میٹر یا 2,756 فٹ کے انڈورا کے سب سے نچلے پوائنٹ پر) داخل ہوجاتی ہے۔ انڈورا کا زمینی رقبہ 468 مربع کلو میٹر (181 مربع میل) ہے۔ نباتی جغرافیائی لحاظ سے، انڈورا کا تعلق بوریئل سلطنت کے اندر آنے والے سرکمبوریئل علاقے کے اٹلانٹک یوروپین صوبے سے ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق، خطہ انڈورا کا تعلق پائرینیز کے صنوبری اور ملے جلے جنگلات کے ماحولیاتی علاقے سے ہے۔
سیاحت جس پر انڈور کی چھوٹی سی، خوشحال معیشت کا دارومدار ہے، جی ڈی پی کے لگ بھگ 80% پر محیط ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال یہاں 10.2 ملین سیاح آتے ہیں، جو انڈورا کی ڈیوٹی فری والی حیثیت اور یہاں کے موسم گرما و سرما کے تفریح گاہوں کی وجہ سے راغب ہوتے ہیں۔ انڈورا کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ اسکی تفریح گاہوں سے ہونے والی سیاحت ہے یہاں کھیلوں کے لیے 7 ملین سے زائد سیاح آتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ہر سال 340 ملین یوروز کی کمائی ہوتی ہے، جس سے تقریبا 2000 بلا واسطہ اور 10000 بالواسطہ ملازمتیں جڑی ہوئی ہیں۔
بینکنگ کا شعبہ بھی یہاں کی معیشت میں زبردست حد تک معاون ثابت ہوا ہے .سرکاری اور تاریخی زبان کیٹیلان ہے۔ لہذا ثقافت کیٹیلان ہے، جس کی اپنی مخصوص شناخت ہے۔20 ویں صدی تک، انڈورا کے پاس باہری دنیا سے نقل و حمل کے روابط کافی محدود تھے، اور ملک کے الگ تھگ جائے وقوع کی وجہ سے اس کی ترقی پر اثر پڑتا تھا۔ ابھی بھی، قریب ترین بڑے ہوائی اڈےتولوز اور بارسلونا میں واقع ہیں جو انڈورا سے گاڑی کے ذریعہ تین گھنٹے کی مسافت پر ہیں۔ ہمارا سفر تولوز کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے شروع ہوتا ہے۔ جب ہم ہوائی اڈے پر اترے تو دن کافی سرد تھا۔ میرے خیال میں صبح کا وقت تھا اور ہم میں سے کچھ بہت پر جوش تھے لیکن جو لوگ پہاڑوں میں سفر کرنے کو تیار نہیں تھے ان کے لیے یہ ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ تولوز میں اترتے ہی ماحول میں عجیب سی بے چینی نے جنم لیا . اگر نیت خراب ہو تو انجام بھی خراب ہوتا ہے . سوزی اورکلیئر کو اس سفر کے حوالے سے تحفظات تھے اور سفر کے پہلے پڑاؤ پر پہنچتے ہی سوزی اور کلیئر دونوں کا سامان گم ہوگیا اور وہ کافی اداس تھیں ، ہوائی کمپنی نے یہ سامان گم کیا تھا ،س شائد کسی اور فلائیٹ میں چلا گیا ہو گا یا پھر سٹین سٹیڈ ائیر پورٹ سے یہ سامان جہاز میں لوڈ ہی نہیں ہوا ۔ پیٹر نے بہت کوشش کی کہ جلد سے جلد سامان کی بازیابی کروائی جائے کیونکہ ہم نے ایک کوچ میں سوار ہونا تھا اور سب کچھ پہلے سے بک تھا لہذا پیٹر نے سامان ڈیلیور کروانے کے لیے ہوائی اڈے کے اہلکاروں کو اپنے رابطے کی تفصیلات فراہم کیں اور ہم کوچ میں سوار ہوئے . اصل سفر یہاں سے شروع ہوتا ہے۔
سابقہ اقساط پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں
قسط 1 https://www.tarjumanemashriq.com/2021/07/23/1044/
قسط 2 https://www.tarjumanemashriq.com/2021/08/11/1266/