Tarjuman-e-Mashriq

وردی کی خوشبو اور کشش

اپنے بارے میں لکھنا  بہت مشکل  ہے . آپ ایک ایسی جگہ پر کھڑے ہو کر خود کے آئینے میں اپنا آپ دیکھ رہے ہوتے ہیں جہاں سے سب کچھ اچھا نہیں دکھتا . انسان خود کے سیاہ و سفید کا عینی شاہد ہوتا ہے اور یہ مشاہدہ اسے ایک گھمبیر صورتحال سے دوچار کر دیتا ہے . کہانیوں کی   طرح  انسان کے اندر بھی بہت سے  کردار ہوتے ہیں اور وہ اس کے بیتر میں ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں ،  کچھ ان کرداروں کو اچھے سے نبھا لیتے ہیں اور اس غلام گردش سے نکل جاتے ہیں اور کچھ انہی کرداروں کے اسیر بن کر ساری عمر ایک ایسی  گلی میں چلتے رہتے ہیں کہ جس کا انجام اس شخص کی ذات کے انجام سے جڑا ہوتا ہے .

مجھے یاد نہیں کب مگر پہلی بار جب میں نے اس دنیا کا مشاہدہ کرنا شروع کیا تو  میرا  کینوس محدود تھا . اس میں کچھ محدود  لوگ ، ان کی محدود خواہشات اور  محدود ذرائع تھے مگر  ان کی زندگی میں لامحدود محبت، لا محدود خوشی اور لا محدود  علم تھا .  یہ وہ دن تھے جب گھر  کچے مگر رشتے مضبوط  اور پکے ہوتے تھے .

میرے پیدائش ڈسٹرکٹ کوٹلی ، آزاد کشمیر کے ایک  گاؤں دبلیاہ راجگان میں   ہوئی .    اس علاقے میں ہم کب سے آباد ہیں اس کی کھوج میرے لیے بلکہ میری اپنی کہانی کے لیے بہت   اہم تھی.   اس لیے خاندانی پس منظر میں جھانکنے کے بعد اور بہت سی کتب، خطوط اور  بزرگوں کی ذاتی ڈائریوں اور احوال  کو پڑھنے کے بعد یہ پتہ چلا کہ  میرے خاندان کا کشمیر اور خطے کی  جنگی تاریخ سے   گہراتعلق ہے شاید یہی وجہ ہے   جو مجھے جنگوں کی تاریخ اور جنگجوؤں کی زندگی اور کارناموں کے مطالعے پر مجبور کرتی ہے. میرے نزدیک یہ  وردی کا ڈی این اے ہے جو  ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا . 

ٹاڈ ا راجسھتان کے مطابق میرے قبیلے کے چار بڑوں نے اورنگ زیب کے زمانے میں اسلام قبول کیا اور ہجرت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی تحصیل نوشہرہ آئے، اس علاقے میں ڈوگرہ منہاس  قبیلہ پہلے سے آباد تھا مگر وہ نارمہ راجپوت لشکر کا مقابلہ نہ کرسکے جنگ کے بعد راجہ  لال  خان ،راجہ جلال خان ، راجہ تندو خان اور راجہ کھمبو خان  کھمبا،تندڑ، پنجن نرماه اورپلاہل میں آباد ہوئے. 

راجہ کھمبو خان کے پوتے راجہ معظم خان کے دو بیٹوں  راجہ تانو خان اور راجہ دتہ خان نے پہلی افغان جنگ    میں حصہ لیا . دونوں بھائی کچھ عرصۂ قندھار میں آباد رہے اور  ان کی شادیاں غلزائی قبیلےسے  ہوئیں . پہلی جنگ عظیم میں راجہ تانو خان کے دو بیٹوں راجہ غلام محمد خان اور راجہ حفیظ خان نے برطانوی  فوج میں   شمولیت اختیار کی . راجہ غلام محمد   خان میدان جنگ میں کام آئے  اور حفیظ خان زخمی ہو کر واپس آئے مگر جانبر نہ ہو سکے .

راجہ غلام محمد خان کی بہادری  کے صلے میں ہمارے خاندان کو انگلستان کے بادشاہ کی طرف سے ایک سند، ایک جنگی میڈل اور کچھ انعامات سے نوازا گیا .  اس خاندانی  روایت پر چلتے ہوئے  راجہ غلام محمد خان کے دو بیٹوں راجہ اشرف خان اور راجہ عبدللہ خان  نے افریقی محاذ  پر جرمنوں اور ہانگ کانگ میں جاپان کے خلاف جنگ میں حصہ لیا .

میرے والد لیفٹیننٹ کرنل محمد ایوب   پاک فوج  سےریٹائرڈہوئے جبکہ کارگل کی جنگ میں میرے سگے ماموں کیپٹن  جاوید اقبال شہید ، تمغہ بسالت نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی سب سے قیمتی چیز اپنی جان  قربان کی .

گارگل کی جنگ میرے زندگی کا وہ  اہم موڑ ہے جس نے میرے آج کی تشکیل کی .

میری تعلیم کا آغازتربیلا   سے ہوا جب میرے والد سپیشل سروسز گروپ میں  اپنے فرائض منصبی سر انجام دے   رہے تھے.تربیلا  میں قیام کے دوران  مجھے ایک حادثے کا سامنا کرنا پڑا اور ہنگامی بنیادوں پر مجھے برطانیہ منتقل کیا گیا . میری والدہ کا سارا خاندان برطانیہ میں رہتا تھا اس لیے   یہاں آنا  ممکن ہوا .  میں کچھ سال برطانیہ میں مقیم رہا ، یہاں کچھ عرصۂ اسکول بھی گیا مگر پھر واپس پاکستان چلا  آیا اور میں نے جہلم، منگلا، راولپنڈی ، کھاریاں  سے تعلیم حاصل کی . 1996 میں میں نے  گورنمنٹ ڈگری کالج میرپور میں   تعلیم کی نیت سے داخلہ تو لیا   مگر جنوں کی حد تک وردی پہننے    کا اضطراب تھا  اور ساتھ ہی مجھے یہاں  لکھنے ، پڑھنے ، مباحثوں میں حصہ لینے کا پہلا آزادانہ موقع ملا  مگر پھر    ڈگری کالج میرپور سے ایک روز سامان اٹھایا بلکہ ایک ٹرک  کی چھت  پر رکھا اور سیالکوٹ   میں کچھ ماہ کے لیے  آ آباد ہوا . یہ وہ وقت تھا جب میرے والد صاحب  یہاں پوسٹیڈ تھے اور تب تک مجھے علم ہو چکا تھا کہ  میں فوج کے قابل نہیں ہوں . تربیلا والے  حادثے  کی وجہ سے  میری ایک  آنکھ کی بینائی 6/60 تھی۔ میں نے پھر بھی سب کے بہت روکنے کے باوجود 99  پی ایم اے لانگ کورس میں   کمیشن اپلائی کرنے کا سوچا   اور اس کے لیے لاہور ایک بہانے سے گیا ،  لاہور میں اس وقت کیپٹن جاوید اقبال شہید کی پوسٹنگ تھی ، توپخانے کی ایک مایہ ناز یونٹ جس میں بعد میں آپریشن ضرب عذب کا پہلا شہید ، کیپٹن آکاش ربانی  شہید     کمیشن لیکر آیا یہیں میرے   دوست میرے   مینٹور کیپٹن جاوید اقبال شہید    سینتالیس فیلڈ رجمنٹ میں پوسٹیڈ تھے ،  وہ میری والدہ کے چھوٹے بھائی   تھے . ان کا جنون مجھ سے افضل اور بہتر تھا اور وردی نے انہیں چنا اور   پھر وہ اور وردی  ایک دوسرے سے انمٹ بندھن میں بندھ گئے . 

مجھے  لاہور  میں ایک نیول ڈاکٹر  ملے ، انہوں نے مجھے دیکھا ، میری میڈیکل ہسٹری پوچھی اور بتایا کہ اگر میں فوج میں چلا بھی گیا تو بہت آگے نہیں جا پاؤں گا . میں نے  حقیقت کو تسلیم کیا   اور  خود کو خیالی دنیا سے نکالا  کیونکہ فوج  کے اپنے پیمانے ہوتے ہیں اور  میں اس پر پورا نہیں اترتا تھا . مجھے ان ڈاکٹر صاحب کا نام یاد نہیں مگر انہوں نے کہا تھا ” وردی کےبغیر بھی وطن کی خدمت کی جا سکتی ہے ” .

میں پھر سے سفر پر نکل پڑا اور  آئی ایس پی آر اور ہلال سے ایک رشتہ جڑ گیا . اس وقت کرنل منصور رشید یہاں ہوتے تھے ، ہمارے پڑوسی تھے  . کرنل منصور نے مجھے نائیک سیف علی جنجوعہ شہید پر ریسرچ کرنے  کا ٹاسک دیا اور میں اس  مادی دنیا کے شور  شرابے سے شہدائے وطن  کی روحانی دنیا کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ، میں نے  اس  وقت شہید کشمیر       نائیک سیف علی جنجوعہ  کے  خاندان سے ملاقات کی تھی جب وہ ایک گمنام زندگی جی رہے تھے ، ایک کچا گھر تھا  ، اس میں ان کے بیٹے اور نائیک سیف علی جنجوعہ  کی بیوہ رہتے تھے ، میں نے کچھ روز نکیال کی خاک چھانی  اور جب  واپس آیا تو میرے پاس   سیف علی شہید کے خاندان کی باتوں اور یادوں کا ایک خزانہ تھا . میں نے  بہت محنت سے  نائیک سیف علی جنجوعہ  شہید پر کوئی بیس، پچیس صفحات پر مبنی ایک مقالہ لکھا اور کرنل منصور کے دفتر  جا پہنچا .  کرنل منصور نے اسے ہلال میں چھاپا  مگر تب تک  میرے پاس نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کے حوالے سے  اتنا مواد موجود تھا  کہ ایک مکمل کتاب چھپ سکتی تھی  اور پھر ” ہلال کشمیر ” چھپی اور اس نے ایک خاموش مجاہد کی عظیم قربانی کو اس کا وہ کھویا ہوا مقام دیا کہ جو 1947 میں ہی مل جانا چاہیے تھا  . اس میں نہ میرا کوئی کمال تھا اور نہ ہی میرے قلم کا ، الله  کو ایسا منظور تھا. اس کے بعد  میں پاکستان میں  تعلیم   جاری   نہ  رکھ پایا  اور برطانیہ آ گیا  کیونکہ مجھے یہاں  میڈیا میں اعلی تعلیم کا موقعہ ملا. وردی  کے بجائے قلم ہاتھ میں تھاما  اور اپنے  لیے ایک نئے محاذ کا انتخاب کیا . 

 

میرپور قیام کے دوران میں نے لکھنا   پڑھنا شروع کیا . نیو ہاسٹل میرپور میں   ان  استادوں سے ملاقات ہوئی  جو استاد سے زیادہ  شفیق دوست تھے . میں نے پاکستان کے روزناموں میں لکھنے کا آغاز کیا تو  مکتبہ رضوان والے ہاشمی صاحب نے  اپنی لائبریری کے دروازے میرے لیے کھول دیے  ، ہاشمی  صاحب کی بدولت جی ایم میر  جیسے صاحب علم بزرگوں  کے ساتھ بیٹھنے اور سیکھنے کا موقع ملا.

   کارگل کی جنگ سے کچھ عرصۂ  پہلے ، ڈاکٹر شہباز اسلم ، ارشد رچیال اور میں نے ایک  ماہانہ میگزین کا آغاز کیا جس کا نام ”  میری آواز ”  تھا ، اس کا باضابطہ شمارہ ایک ہی چھپا اور  پھر ڈاکٹر شہباز اسلم اپنی پیشہ ورانہ  زندگی میں مصروف ہو گئے ، ارشد رچیال ایک قومی اخبار  سے منسلک ہو گئے اور میں نے مزید دو شمارے چھاپے   اور پھر  کارگل  کے پہاڑوں  سےجب  سبزہلالی  پرچم میں  لپٹے  شیر جوانوں کے جسد خاکی  لوٹنا شروع ہوئے  تو  مجھے لاہور والے ڈاکٹر کے الفاظ یاد آئے کہ جنہوں  نے  کہا تھا " وردی کے بغیر  بھی وطن کی خدمت کی جا سکتی ہے ” . وہ وقت تھا جب مجھے احساس ہوا کہ  اب میرا  عہد وفا نبھانے کا وقت ہے  میرا قلم  ان شہدا  کا  مقروض تھا اور میں نے عساکر پاکستان پر لکھنا شروع کیا .

نائیک سیف علی جنجوعہ شہید  کی داستان شجاعت  اور ذاتی زندگی پر مبنی کتاب ” ہلال کشمیر ”  کے بعد  کارگل کے ہیرو کیپٹن جاوید اقبال شہید  "تمغہ بسالت ” کے احوال زندگی میں مبنی کتاب ” سربکف”  اس کوشش کی ایک کڑی  تھی. میں نے "میری آواز "کا شہید نمبر ترتیب دیا اور چھاپا  کیونکہ  کارگل کی جنگ ایک عجیب تجربہ تھا .  یہ میرا ذاتی خیال ہے کہ  ان تمام ناقدین کو  جو  فوج پر پرائم ٹائم میں آ کر بولتے ہیں اور جنہوں نے کبھی اصل فوج دیکھی نہیں اور اگر وہ  فوج کی روح کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے  سیاچن  میں ایک رات قیام کا بندوبست کیا جانا بہت ضروری ہے . کارگل کی جنگ صرف کارگل تک محدود نہیں  تھی ، یہ کشمیر کے مختلف سیکٹرز میں لڑی گئی اور میں نے ایک آبزرور ایک طالب علم صحافی کی آنکھ سے یہ جنگ دیکھی ، میں ایک نہیں دو بار شہدا کے جسد خاکی اپنے ہاتھوں میں محسوس کیے اور آج بھی میرے پاس ایک شہید کی گھڑی  موجود ہے جو اس وقت رک گئی تھی جب بوفور توپ کا ایک سپلینٹر اس کی شہہ رگ میں آ پیوست ہوا تھا . آج جب میں یہ لکھ رہا ہیں تو میں اپنی سوچوں میں  واپس کارگل  پہنچنا چاہتا ہوں ، میں وہاں کبھی نہیں گیا مگر لگتا ہے اس محاذ جنگ نے مجھے ایک مقصد دیا . قربانیوں کی لازوال داستانوں سے  بھرپور جنگ لڑی گئی اور  وطن عزیز کے بیٹے  مادر وطن کی حرمت  کی خاطر قربان ہوئے ، ان کا مقصد بس وہ قسم تھی جو ان کے ڈی این اے میں ہوتی ہے .  گارگل میں ہمارے اسکول  کے  ایک سینیر   لیفٹیننٹ فیصل ضیا گھمن شہید کو بعد از شہادت "ستارہ جرأت” ملا  اور کچھ ایسے واقعات دیکھنے، سننے اور محسوس کرنے کا موقع ملا کہ جن کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہی  نہیں نا ممکن بھی  ہے .

برطانیہ آنے کے بعد  میں نے لوٹن یونیورسٹی کے میڈیا اسکول سے  میڈیا پروڈکشن میں 2004 میں ، میں نے  بی اے آنرز کیا  اور اس کے  فوری بعد ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن سے منسلک ہو گیا.

 2006 میں ، میں نے لندن  میں ایک ٹی وی چینل پر کام شروع کیا اور یہاں سے بریک فاسٹ شو اور  ایک ہفتہ وار    ٹی وی شو کی ہوسٹنگ اور پروڈکشن  میرا کل وقتی کام رہا . 2008میں میں نے برطانیہ کے سب سے بڑے ایشیائی  ریڈیو گروپ میں کام شروع کیا ، یہاں بھی  میں نے ریڈیو اور ٹی وی پر کچھ عرصۂ کام کیا اور  پھر میں براڈکاسٹنگ سے باہر آ گیا اور کل وقتی  مترجم کے بطور برطانوی نظام عدل میں اپنی خدمات سرانجام دینا شروع کیں  اور آج بھی میں لفظوں کی  دنیا میں اپنا رستہ تلاش کر رہا  ہوں .

اس کہانی سے اگر میں اپنی ایف جی اسکولز کی تعلیم ،  چھاونی کا وہ ماحول کہ جس میں،  میں نے اور میرے ہم عصروں  نے  بچپن گزارا نکال  دوں  تو پیچھے کچھ نہیں بچتا   کہ جس کا  بیان اہم ہو . آج پاکستان میں   یوم تکریم شہدا تھا  ، آج ان تقاریب کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کیا ہم اپنے شہدا کی عظمت   کے سائے کو بھی چیلینج کر سکتے ہیں ؟    کیا ہم بھول گئے ہیں کہ  وہ  اپنی سنہری جوانیاں ہمارے  حال پر قربان کر گئے  کیونکہ  وہ ایک ایسی عظمت کے مقام کو سمجھ گئے  تھے جہاں بہت کم لوگ پہنچ پاتے ہیں .  میں کسی سیاسی  بحث  یا لگاؤ سے آزاد  اپنے تجربے سے یہ  کہہ سکتا ہوں کہ وطن عزیز کے شہدا کی تکریم   کسی مخصوص دن یا تقریب کی محتاج نہیں ہے . ہم ان شہدا   کی عظمت کو کیسے خراج پیش کریں  جن کی عظمت الله نے خود بیان کی ہے .  بس آج بار بار کیپٹن  کرنل شیر شہید کا چہرہ یاد آتا ہے   جنھیں میں  پہلی بار پی ایم اے کے گیٹ پر  89 پی ایم اے لانگ کورس کی  پاسنگ آوٹ پریڈ  کے  وقت ملا تھا اور پھر دوسری بار میں انہیں  منگلا میں  ملا . ایک ایسا عظیم شہید کہ جس کی تکریم اس کے دشمن نے بھی  کی ، مجھے  میرے مینٹور کیپٹن جاوید اقبال شہید  کا وہ آخری ڈائری نوٹ   یاد آتا ہے جس میں اس شہید نے اپنی تکریم کے مقام تک پہنچنے سے پہلے اپنی آخری پیغام لکھ دیا تھا ، مجھے   لیفٹیننٹ فیصل ضیا گھمن شہید  کا بعد از شہادت اپنی ماں کی انگلیوں کو  چومنے والا    واقعہ بھی نہیں بھولا جو اس وقت اخبارات کی زینت بنا تھا ، یہ سب  اس مقام تکریم کو پہنچے کہ  جو آزاد اور خودمختار پاکستان کا اساس بنا   . ان سب شہیدوں کے چہرے ، مسکراتے چہرے میرے آس پاس ہیں اور   آنکھیں نم ہیں  کیونکہ  ہم ان کے عظیم مقصد کو شائد بھول گئے ہیں .

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Exit mobile version