Tarjuman-e-Mashriq

کیا ہم احسان فراموش قوم ہیں ؟

تحریر۔ عارف الحق عارف
ہماری خواہش تھی کہ ہم لندن جائیں تو مسلمانوں کی نئی اسلامی ریاست کا نام پاکستان رکھنے والے محسن چوہدری رحمت علی کے مزار پر حاضری دیں اور فاتحہ پڑھیں ۔ہمارے اس خواب کی تعبیر ۷ ستمبرکو اس وقت پوری ہوئی جب ہمارے بھتیجے سرفراز احمد موسی کے ساتھ ہم برمنگھم سے لندن آرہے تھے۔سرفراز نے کیمرج میں خالد محمود جونوی، فہیم عظیم اور ذیشان قریشی سے پروکرام بنا لیا تھا۔یہ چاروں ہماری ملاقات کی مقررہ جگہ میکڈونلڈ پر مل گئے اور ہم نے مل کر ایمنوئیل کالج، کیمبرج شہر کے قبرستان کی قبر نمبر بی -۸۳۳۰ پر حاضری دی اور فاتحہ پڑھی۔ اس قبر کی حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا کہ ہم نے بحیثیت ایک قوم اس محسن کے ساتھ قیام پاکستان کے بعد کیا سلوک کیا؟ اور وہ بے بسی کی موت کے بعد سرد خانے میں ۱۷ دن تک پڑا انتظار کرتا رہا کہ کوئی پاکستانی آئے اور اس کو دفن کرے لیکن کوئی نہ آیا تو دو مصری طلبہ نے اس کے جسد خاکی کو لاواث سمجھ کر سپرد خاک کر دیا۔ہم نے اپنے محسن کے ساتھ بڑا بے رحمی والا سلوک کیا۔ لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن تک کو احساس نہیں کہ کیمرج کے قبرستان میں پاکستان کا ایک بانی ان کی توجہ کا محتاج ہے۔اگر اس کی باقیات کو پاکستان نہیں لے جایا جاتا تو اسی قبرستان میں اس قبر کو اس کے شایان شان تعمیر کیا جائے اور اس پر پاکستان کے پرچم کو لہرایا جائے تا کہ قبرستان میں آنے والوں کو معلوم ہو کہ پاکستانی قوم اپنے محسنوں کو اچھی طرح یاد رکھتی ہے۔
چوہدری رحمت علی ۱۶ نومبر ۱۸۹۷ کو مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے ایک گاؤں مو ہراں میں ایک متوسط زمیندار جناب حاجی شاہ گجر کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوںنے ایک مکتب سے حاصل کی جو ایک عالم دین چلا رہے تھے۔ میٹرک اینگلو سنسکرت ہائی اسکول جالندھر سے کیا۔ ۱۹۱۴ میں مزید تعلیم کے لیے لاہور آئے اور اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔وہیں سے ایف اے اور بی اے کیا۔وہ علامہ شبلی نعمانی سے بڑے متاثر تھے اس لئے اسلامیہ کالج میں بزم شبلی کی بنیاد رکھی۔اس کے پلیٹ فارم سے ۱۹۱۵ میں تقسیم ہند کا نظریہ پیش کیا۔ بی اے کرنے کے بعد جناب محمد دین فوق کے اخبار کشمیر گزٹ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے اپنے کیئریر کا آغاز بھی کیا۔ وہ ایک سچے مسلمان اور انگریزوں کی غلامی اور ہندوؤں کی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزیوں سے باخبر مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ان کی سیاسی بیداری کےلیے ہر وقت فکر مند رہتے تھے۔ وہ انگریزوں سے آزادی کی صورت میں ان علاقوں میں مایہ آزاد مسلم ریاست کے قیام کے حامی تھے جہاں وہ اپنی آزاد مرضی سے زندگی گزار سکیں۔ ۱۹۲۸ میں ایچی سن کالج میں اتالیق بھی مقرر ہوئے۔وہ ڈیرہ غازی خان کے سردار بلخ شیر مزاری اور سردار شیر باز خان مزاری کے استاد بھی تھے۔ انگلستان تشریف لے گئے جہاں جنوری ۱۹۳۱ میں انھوں نے کیمبرج کے کالج ایمنویل میں شعبہ قانون میں اعلٰی تعلیم کے لیے داخلہ لیااور قانون اور سیاست میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔
انہوں نے ۱۹۳۳ میں برصغیر کے طلباءپر مشتمل ایک تنظیم پاکستان نیشنل لبریشن موومنٹ کے نام سے قائم کی۔ اسی سال چودھری رحمت علی نے دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پر اپنا مشہور کتابچہ “ ابھی یا کبھی نہیں” شائع کیا جس میں پہلی مرتبہ لفظ پاکستان استعمال کیا۔ انہوں نے آزادی کی صورت میں برصغیر میں ہندوستان کے نام کی مناسبت سے مسلمانوں کے تین ملکوں پاکستان، بنگلستان اور عثمانستان کا نقشہ بھی پیش کیا۔پاکستان میں کشمیر، پنجاب،دہلی، سرحد،بلوچستان اور سندھ، بنگلستان میں بنگال،بہار اور آسام اور عثمانستان میں حیدآباد دن کے علاقے شامل تھے۔
۱۹۳۵ میں انھوں نے کیمرج سے پاکستان کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار بھی جاری کیا تھا۔ جب انہیں علم ہوا کہ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کو آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس لاہور میں ہو گا تو انہوں نے اس میں شرکت کی کوشش کی لیکن چند روز قبل خاکساروں پر فائرنگ کی وجہ سے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب سکندر حیات نے ان کے پنجاب میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ پاکستان بنا تو وہ اس کے باوجود بہت خوش تھے کہ یہ وہ پاکستان نہیں تھا جس کا خاکہ انہوں نے پیش کیا تھا۔پاکستان میں وہ علاقے شامل نہیں تھے جو مسلمانوں کے اکثریتی علاقے تھے۔
پاکستان بن گیا تو وہ ۱۹۴۷میں اقوام متحدہ گئے اور کشمیر پر اپنا موقف پیش کیا۔۶ اپریل ۱۹۴۸ کو لاہور واپس آئے اور موجودہ پاکستان پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کرتے رہے۔وہ چھوٹا سا پاکستان قبول کرنے پر قائد اعظم کے خلاف بیان بازی پر اتر آئے اور ان کو Qaide Azam کے بجائےQuisling-e-Azam) کہنے لگے. اس کا اس وقت کی حکومت نے سخت نوٹس لیا اور ملک بدر کر دیا۔اُن کی ملکیتی جائیداد ضبط کر لی ۔ اکتوبر ۱۹۴۸ میں انہیں برطانیہ جانا پڑا اور ۱۱۴ ہیری ہٹن روڈ پر مسٹر ایم سی کرین کے گھر کرائے پر رہنے لگے۔ مسٹر کرین کی بیوہ کے مطابق چوہدری رحمت علی اپنا خیال ٹھیک سے نہیں رکھتے تھے۔ جنوری کے مہینے میں سخت سردی کے دوران ایک رات آپ ضرورت کے کپڑے پہنے بغیر باہر چلے گئے اور واپسی پر بیمار ہو گئے۔۲۹ جنوری ۱۹۵۱ کو نمونیہ میں مبتلا ہو کر شدید بیماری کی حالت میں نرسنگ ہوم میں انہیں داخل کرایا گیا لیکن صحت یاب نہ ہو سکے اور وہیں پر ۳ فروری فروری۱۹۵۱کو مسلمانوں کےلئے بہتری کی سوچ رکھنے والے اس محسن نے صرف ۵۴ سال کی عمر میں کسمپرسی کی حالت میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ایمنوئیل کالج، کیمبرج شہر کے قبرستان اور کیمبرج کے پیدائش و اموات کے ریکارڈ کے مطابق ۳ فروری، ۱۹۵۱بروز ہفتہ کی صبح ان کی موت کی تاریخ درج ہے۔ یہ الفاظ لکھتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ان کا جسد خاکی ۱۷ روز تک کولڈ اسٹوریج میں ہم وطنوں، ہم عقیدوں، ہم مذہبوں کا انتظار کرتا رہا کہ کوئی آئے اور اس کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارے لیکن جب کوئی نہ آیا تو دو مصری طلبہ نے اس غریب الوطن کے جسد خاکی کو انگلستان کے شہر کیمبرج کے قبرستان کی قبر نمبر بی -۸۳۳۰ میں لا وارث کے طور پر امانتاً دفن کر دیا۔
اس محسن اعظم کے نام رکھے پاکستان کا سویلین، فوجی اور نوکرشائی سے تعلق رکھنے والا ہر حکمران لندن کے دورے کرتا رہا ملکی خزانے کو شیر مادر سمجھ کر لوٹتا رہا اور اس لوٹی ہوئی دولت کو اسی لندن اور دوسرے ملکوں میں منی لانڈرنگ کے ذریعہ منتقل کرتا رہا لیکن اس کو خیال تک نہ آیا کہ سونے کا انڈا دینے والی چڑیا پاکستان سے وہ دولت تو لوٹ رہاہے لیکن جس مرد مجاہد نے اس کا نام پاکستان رکھا تھا اس کو وہ حرف غلط کی طرح بھول گیا۔ وزراتوں، الاٹمنٹوں، کلیموں، ہوس اقتدار کے ان ماروں کو خبر بھی نہ ہوئی کہ ان کے ملک کی تحریک کے صف اول کا مجاہد ۲۰۰ پونڈ کا قرض اپنی تجہیز و تکفین کی مد میں کندھوں پر لے چلا ہے اور وہ جنت کی اوٹ سے ان کی لوٹ مار اور پاکستان سے ان کے کھلواڑ کو دیکھ دیکھ کر کڑھتا ہے۔
Exit mobile version