Tarjuman-e-Mashriq

ریاست میں اداروں کا قیام اور ضرورت-3

ملکہ سبا کہنے لگی ملنے اور بات کرنے میں کیا حرج ہے۔ جاتی ہُوں اور سنتی ہُوں کہ کیا کہتا ہے ۔ ملکہ کے نام حضرت سلمان کے خط کی ابتداٗ ہی اللہ کے نام سے ہوئی جو ستارہ پرست ملکہ کیلئے اللہ خالق و مالک کا حکم ماننے اور اُس کی رحیمی و کریمی تسلیم کرنے کا پیغام تھا۔ ملکہ کا خط پر غور کرنا، اپنی کابینہ یعنی سرداروں کا اجلاس طلب کرنا ، سرداروں سے مشورہ کرنا اور پھر بحثیت حکمران اپنا فیصلہ صادر کرنا اور حضرت سلیمانؑ سے ملنے کا ارادہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ایک ریاست کے خدوخال کیا ہوتے ہیں ، اُس کے ادارے کیسے کام کرتے ہیں ، عوام کی خوشحالی کیسے ممکن ہو سکتی ہے، ریاست کے حکمران اور قوم کے قائد کے اوصاف کیا ہیں ؟ قائدانہ اور مدبرانہ صلاحیتوں کا اظہار کیسے ہوتا ہے ، سفارتکاری ، صلہ رحمی اور سیاسی گفت و شنید کے کیا فوائد ہیں ۔

تخت ملکہ سبا

اس سے پہلے سورۃ الدخان کا حوالہ دیا گیا جب حضورؐ کی دُعا کے اثر سے ریاست مکہ جو دُنیا کی پہلی ریاست تھی ، جس کے ادارے مضبوط ، مستحکم اور اداروں کے سربراہان دنیا کے عقلمند ترین ، معاملہ فہم اور ساری دُنیا کے حالات اور تواریخ کا علم رکھنے والے تھے ۔ یہ لوگ عرب کے مشہور تاجر، جنگجو اور انتہائی سخت گیر رویوں کی وجہ سے مشہور تھے ۔ قحط کی وجہ سے معاشی بُحران پیدا ہوا تو سیاسی عدم استحکام کی فضا پیدا ہو گئی ۔ پانچ سالہ قحط نے اہلِ مکہ کو ہر لحاظ سے بد حال کر دیا چونکہ دیگر عرب قبائل نے ان سے لین دین بند کر دیا ۔ ریاست مکہ کی حدود سے باہر یمامہ کے رئیس حضرت ثمامہ بن آسالؓ جو حلقہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے نے اہلِ مکہ کو غلے کی ترسیل بند کر دی۔ یمامہ انتہائی رزخیز خطہ تھا جہاں گندم ، جوار اور جو کی پیداوار سے سارے عرب قبائل فائدہ اُٹھاتے تھے ۔ اہلِ مکہ کے یمامہ سے قریب ہونے کی وجہ سے غلے کی فکر سے ہمیشہ آزاد رہنے کے عادی تھے ۔ معاشی پریشانی لاحق ہوئی تو اہلِ مکہ نے ابو سفیان کی سربراہی میں ایک وفد حضور ؐ کی خدمت میں بھیجا ۔ ابو سفیان نے درخواست کی کے ہم جانتے ہیں کہ آپ ؐ حق پر ہیں ۔ اگر ہم آپ کے پیغام کی مخالفت نہ کریں تو عرب کے خونخوار قبائل ہم پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ ابو سفیان نے کہا کہ آپؐ تو اللہ کے نبیؐ اور رسولِ رحمت ہیں ۔ آپؐ کی موجودگی میں مخلوق کا فاقوں مرنا آپؐ کی شان سے مطابقت نہیں رکھتا ۔
قرآنِ کریم میں ایسا ہی احوال نجران کے بادشاہ ابو حارثہ بن علقم کا ہے جس کا ذکر سورۃ آلِ عمران آیت 45میں ہوا ہے ۔ یہ ریاست رومی سرحد پر واقع تھی اور بڑی حد تک رومیوں کے زیرِ اثر تھی ۔ ریاست کے حکمران کو ریاست مدینہ کی طرف سے خطرہ محسوس ہوا تو بادشاہ نے حضورؐ کے نام خط میں لکھا کہ بیشک آپؐ اللہ کے نبی اور رسول ہیں ۔ ہمیں آپؐ سے صلہ رحمی کی توقع ہے ۔ اگر ہم دینِ اسلام قبول کرتے ہیں تو رومی سب سے پہلے ہماری معیشت کو تباہ کر دیں گے یا پھر حکومت کا تختہ اُلٹ کر ملک میں افراتفری اور بد امنی کا ماحول پیدا کر دیں گے ۔ ان دونوں واقعات کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ تمہیں عرب قبائل اور دوسری جانب رومیوں کا خوف ہے جن کی حیثیت معمولی ہے جبکہ اللہ برتر ، طاقتور ، پیدا کرنیوالا اور مارنے والا ہے ۔ اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔ اصل بادشاہی اللہ کی ہے ۔
قرآنِ کریم میں بیان ہُوئے اِس واقع کی روشنی میں دیکھا جائے تو آج سارا عالم اسلام ایک ایسے خوف میں مبتلا ہے جسکا تدارک بظاہر ممکن نہیں ۔ مسلمان امیر ہو یا غریب ، بادشاہ ہو یا فقیر وہ عملاً تہی دست ، محتاج اور غلام ہے۔ سورۃ فتح آیت 5میں فرمایا آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ کے ہیں۔ اللہ کے لشکروں میں راحتیں اور نعمتیں بھی ہیں اور پھر عذاب اور تباہی بھی ہے ۔ قرآنِ کریم میں کئی بار فرمایا کہ کون ہے جو بارشیں برساتا ہے۔ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے ، تمہارے لیے طرح طرح کے میوے اور فصلیں پیدا کرتا ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل آیت 70اور 71میں فرمایا ‘‘ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی ، اسے جنگلوں اور دریاوٗں میں سواریاں دیں، صاف ستھری صحت مند اور پاکیزہ غذائیں دیں ، پہاڑوں میں چھپنے کے ٹھکانے دیے ’’۔ پھر فرمایا ‘‘انسان انتہائی ناشکرہ اور احسان فراموش ہے’’۔
اگر ہم ہواوٗں اور پانیوں کے لشکروں پر غور کریں ایک دور کی سپر پاور قومِ عاد جو آج کی بڑی مادی طاقتوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور تھی ہواوٗں کے لشکر کا مقابلہ نہ کر سکی ۔ اُن کے مضبوط ، عالیشان مکان اور محل اُنھیں نہ بچا سکے ۔ جو جہاں تھا ریت کے طوفان میں دب کر مر گیا۔ فرمایا اُن کی حالت ایسے تھی جیسے کھجور کے سوکھے پیڑ۔ فرمایا میرا دستور نہ ٹلتا ہے نہ بدلتا ہے ۔ آج دُنیا بھر کے مسلمان اللہ کے دستور کے باغی اور طاغوتی طاقتوں کے احکامات کی بجا آوری میں تحفظ کے خواہاں ہیں۔ وہ بھول گئے کہ اصل قوت، طاقت اور سلطنت اللہ کی ہے۔
قومِ لوط، نوح، اصحابِ رس اور ُتبہ کیساتھ کیا ہُوا۔ آج ہمارے علماٗ اور عوام مولانا غامدی کے متبادل بیانیے اور مرزا صاحب جہلمی کی تعلیمات و تشریحات میں اُلجھ کر عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں ، نئی پالیسیوں اور حکمتِ عملیوں سے بے خبر جدید اسلام کے جدید مولویوں کے مقلدین کی تعداد بڑھانے کی جستجو میں ہیں ۔
سنا ہے مولانا غامدی اور مرزا صاحب جہلمی کی ریٹنگ میں شدید مقابلہ چل رہا ہے اور دونوں کے مقلدین کی تعداد کروڑوں سے تجاوز کرنیوالی ہے۔ یوٹیوب چینلوں پر اتنی تعداد دونوں صاحبان کیلئے کروڑوں نہیں تو لاکھوں ڈالر کمائی کا بھی تو وسیلہ ہے ۔ ایک طرف عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور دوسری طرف مولانا جہلمی داتا صاحب ؒ اور دیگر بزرگانِ دین کو روحانی حملوں کی دعوت دے رہے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ اب میں آگیا ہوں سب کی خبر لونگا۔ پتہ نہیں مرزا صاحب کو نسے مغل ہیں ۔ تاریخ رشیدی کے مطابق مغل دراصل ترک منگول ہیں ۔ کیرن آرم سٹرانگ کو بھی اس سے اتفاق ہے ۔ اُس کے مطابق ترک منگول اور دیگر جو آرین کہلوائے دراصل قوم عاد کے وہ قبیلے ہیں جو پچیس ہزار سال پہلے صحرائے عرب سے نکل کر موجودہ روس اور ترکی کے درمیان آباد ہُوئے ۔ ‘‘بدخشاں سے بہاولپور’’ اور ‘‘سات سو سال بعد’’ کے مصنف نے انھیں کتب کے حوالے سے لکھا کہ ڈھائی ہزار سال پہلے ہی عرب گڈریے جو ا ٓریا کہلوائے روسی سطح مرتفع سے نکل کر چین ، یورپ اور ہند کی طرف نکلے۔ مرزا حیدر دوغلات کی تاریخ رشیدی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ترک منگولوں کی بھی دو نسلیں تھیں جن میں جاٹا اور کارواناں مغل دو الگ قبیلے تھے ۔ جاٹا منگول قبلائی خان کی نسل سے تھے جنکا پہلا مسلمان حکمران تیمور تغلق تھا جس نے ایک عالم اور ولی اکمل کے ہاتھ پر بیعت کی اور حلقہ بگوس اسلام ہُوا۔ تاریخ کے مطابق کارواناں مغلوں میں سب سے پہلے امیر تیمور کے دادا نے اسلام قبول کیا مگر تاریخ کے اس بیان کی دیگر مصنفین نے تردید کی ہے۔ شیخ شرف اُلدین کی تاریخ جو امریکہ میں ‘‘وارز اینڈ بیٹلز’’ کے نام سے ترجمہ ہوئی کے شواہد مختلف ہیں۔
اب پتہ نہیں کہ جناب مرزا جہلمی منگولوں کی کس نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور کونسے منگول ہیں۔ اُن کا جنگجوحانہ رویہ واقعی مغلانہ ہے مبلغانہ نہیں ۔ اُنہیں پتہ ہی ہو گا کہ حضرت عثمان علی ہجویری (داتا گنج بخشؒ ) کا تعلق بھی غزنی سے ہے۔ غزنی محمود بُت شکن کا دالخلافہ رہا ہے اور پٹھانوں سے پہلے یہ مقام ترکوں کا شہر کہلواتا تھا۔ محمود غزنوی بھی ترک تھا اور اُسی کے دور میں داتا صاحب لاہور تشریف لائے۔ ہم نہ تو عالم دین ہیں اور نہ ہی ولی یا درویش ۔ مگر یہ جانتے ہیں کہ روحانیت ہمیشہ مادیت پر غالب رہتی ہے ۔ تیمور اور یلدرم دونوں ہی ترک تھے۔ تیمور لکھتا ہے کہ میں یلدرم پر نہ تو حملہ آور ہُوا اور نہ ہی اُس سے ٹکرانا چاہتا تھا۔ اُس کے بیٹے نے تکبر میں آ کر میرے لشکر کے ایک حصے پر حملہ کیا اور مارا گیا۔ میرے صلح کے پیغام پر بھی یلدرم کا جوش ٹھنڈا نہ ہُوا اور نتیجہ جنگ کی صورت میں نکلا۔ اگرچہ میں نے اسے قید کر لیا مگر اُس کے بیٹے کو چھوڑ دیا تا کہ وہ اپنا لشکر دوبارہ تیار کر لے اور یورپی مہم سر کر سکے۔
علمی تکبر علمی نفسیات کا ہی حصہ ہے جس میں خیر کا عنصر نہیں ہوتا ۔ مرزا صاحب جہلمی کا اگر داتا صاحب ہجویری کا ٹکراوٗ ہو گیا تو خدشہ ہے کہ جہلمی صاحب کسی پنجرے میں بند نہ ہو جائیں ۔ ہمارے کھڑی شریف والے حضرت میاں محمد بخش ؒ بھی جہلمی ہی کہلواتے ہیں۔ آپ نے اپنا پتہ بھی جہلم کے حوالے سے ہی لکھا ہے ۔

ـ‘‘جہلم گھاٹوں پربت پاسے میرپورے تھیں دکھن’’
‘‘کھڑی ملک وچ لوڑن جہڑے طلب بندے دی رکھن’’

میاں صاحب ؒ رومی کشمیر عارف کھڑی نے علمی نفسیات اور تکبر کے متعلق لکھا ہے کہ

‘‘پڑھنے دا تو مان ناں کریاں نہ کر پڑھیا پڑھیا’’
‘‘اُو جبار قہار کہاوی متے روڑھ چھڈی دودھ کڑھیا’’

حضرت امام غزالی ؒ نے سیاست کے درجات میں پیغمبروں کے بعد عالموں اور مواحذوں کی سیاست کا ذکر کیا۔ مبصرین نے اسے علمائے حق اولیائے کاملین کی سیاست لکھا ہے جو علم ، اخلاقیات ، تدبر ، حلم اور بردباری سے عام لوگوں کی تربیت کرتے ہیں ۔ اُن کے دِلوں سے نفرت ، تکبر ، بغض ، حسد اور کینہ پروری کو محو کرتے اور باہمی اخلاص و محبت کے رشتے میں پیوست کر دیتے ہیں ۔ بد قسمتی سے ہمارے نام نہاد اساتذہ اور ماہرین نے سیاست کا ترجمہ پولیٹکس کیا ہے جو سرا سر غلط اور بے معنی ہے۔ سیاست عربی کا لفظ ہے جو فارسی میں شامل ہُوا ۔ یعنی اسکا مخزن عربی اور بیان فارسی ہے۔ اسکا مطلب جوڑنا ۔ باہم ملانا، تفرقہ ختم کرنا، صلح رحمی اور اخلاص ہے۔
پولیٹکس لاطینی زبان کا لفظ ہے جسکا مطلب خون چوسنے والی مخلوق جیسے چچڑ، جھونک، مکھی، جوں اور اسی طرح کی مخلوق ہے ۔

علامہ جلال الدین سیوتی کا قول ہے کہ مسلمانوں نے نو بہ نو انداز میں تین ہزار علوم قرآن پاک سے اخذ کیے ۔ اس قول کا بیان مقدمہ ابنِ خلدون کے صفحہ نمبر 54پر موجود ہے۔ علماٗ نے اس بیان کی تشریح میں لکھا ہے کہ ریاست کا وجود افراد کے قیام اور اُن کی بود و باش سے مربوط ہے ورنہ زمین کا بنجر و بیابان ٹکڑا ریاست نہیں ہو سکتا۔ ریاست کی تاریخ کے بیان میں ابنِ خلدون لکھتے ہیں کہ تاریخ اقوام اور حکمرانوں کے قصے، قصیدے اور احکامات کا نام نہیں بلکہ انسانوں کی فکری ، علمی، نظری، مذہبی ، سیاسی اور سماجی جدوجہد اور رویوں کا منظم بیان یا ریکارڈ ہے۔ بیان کردہ عمل و جستجو سیاست کے بغیر متحرک نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اِن اعمال کا کوئی مثبت پہلو اجاگر ہو سکتا ہے۔ سیاست ہی وہ عمل ہے جس میں کشش، جستجو اور فکری و نظریاتی تحریک کو متحرک کرنے کی روح پائی جاتی ہے۔ فقہا و علمائے سیاست و عمرانیات کے مطابق عمرانیات کا علم سب سے افضل ہے جو انسانوں کو دیگر حیوانات سے الگ اور افضل مخلوق ہُونے کا احساس دلاتا ہے۔ عمرانیات افضل علم ہے اور عمرانیات کی سب سے مستند ، معتبر اور سچی کتاب قرآن حکیم ہے۔

علامہ جلال الدین سیوتی

اللہ نے قرآن کو علم و حکمت کی کتاب اور تمام ظاہری و باطنی علوم کا منبع و مخزن قرار دیا ہے ۔ علامہ جلال الدین سیوتی کے اس بیان کی جرمن محقیقن نے تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ مسلمان علماٗ و حکماٗ نے ڈیڑھ لاکھ نہیں بلکہ ڈیڑھ سو علوم قرآن حکیم سے اخذ کیئے ۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ڈیڑھ سو علوم کو پرکھا جائے تو اسکا جوہر بیس جدید علوم جن میں پندرہ سائنسی اور پانچ دیگر علوم مرتب ہوتے ہیں مگر سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں فی الحال دس علوم بھی کار فرما نہیں۔ دُنیا کی جدید لیبارٹریاں ، تھنک ٹینک اور جدید علوم سے آراستہ یونیورسٹیاں ان ہی علوم پر دن رات محنت سے علم و ہنر کے نئے اسلوب وضع کرنے کی جستجو میں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مسلمان علماٗ اور حکماٗ نے جو کچھ قرآن کریم سے اخذ کیا وہ صرف مسلمانوں کی میراث نہ تھا بلکہ اہلِ مغرب و مشرق کا بھی اُن پر اتنا ہی حق تھا کہ وہ اِن علوم سے اخذ کردہ نتائج پر تحقیق سے فائدہ اُٹھا سکیں ۔
سورۃ کہف آیت 109میں فرمایا کہ اگر سارے سمندر سیاہی بن جائیں اور تم اللہ کی باتیں لکھو تو تمہیں مزید اتنے ہی سمندر درکار ہونگے مگر اللہ کی باتیں پھر بھی ختم نہ ہونگی ۔ پھر درختوں ، قلموں اور سمندروں کا بھی ذکر ہے۔ پھر پہلی وحی کا آغاز بھی اسی سے ہُوا کہ پڑھ اُس ربّ کے نام سے جس نے مخلوق کو پیدا کیا اور انسان کو جمے ہوئے خون سے ۔ پڑھ تیرا ربّ بڑا کریم ہے جس نے علم سکھایا قلم سے اور سکھایا آدمی کو جو وہ نہ جانتا تھا ۔ سورۃ التین آیت 5میں فرمایا کہ ہم نے بنایا آدمی کو خوب انداز ے پر اور پھینک دیا اُسے سب سے نچلے درجے پر (اُس کے اعمال کے نتیجے میں)۔ آیت 6میں فرمایا مگرجو یقین لائے اور اچھے عمل کیئے اُن کیلئے بڑا اجر و ثواب ہے۔
یقیناً جناب غامدی اور جہلمی صاحب قرآن کے بڑے قاری اور احادیث کے بیان پر دسترس رکھنے والے تو ہیں مگر وہ مخلوق کو جوڑنے کے بجائے اپنے نظریے اور اختراحی تشریحات کی بنا پر امت میں تفریق کا باعث ہیں ۔ آج امت کا مسئلہ سردیوں یا گرمیوں کے روزے، نماز و تراویح نہیں اور نہ ہی گھڑی دیکھ کر روزہ افطار کرنے اور آذان کا انتظار نہ کرنا ہے۔ پانچ نمازوں کی جگہ تین نمازیں پڑھنا اور دو کو باہم ملا دینا بھی مسئلہ نہیں اور نہ ہی خورشید ندیم جو آجکل رحمت الالعالمین اتھارٹی کے چیرمین ہیں اور جناب غامدی کے معتقد ہیں کا متبادل بیانیہ دین کی خدمت ہے ۔ آج امت کا سب سے بڑا مسئلہ علم سے دوری، سیاسی عدم استحکام ، فرقہ پرستی اور زر پرستی ہے۔ علامہ جلال الدین سیوتی کے بیان کردہ ڈیڑھ لاکھ اور جرمن محققین کے ڈیڑھ سو علوم کی مستند اور رہنما کتاب قرآن کریم آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے اور تاقیامت موجود رہے گی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ غامدی اور جہلمی سکول آف تھاٹ قرآن سے اخذ کردہ ڈیڑھ لاکھ یا پھر ڈیڑھ سو علوم کی روشنی میں اہلِ اسلام کی اور عالم انسانیت کی خدمت سے قاصر ہیں ۔ آخر متبادل بیانیے والا شخص رحمت الالعالمین اتھارٹی کا سربراہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اللہ رَب العالمین اور حضورؐ رحمت العالمین ہیں ۔ اگر کوئی شخص حب اللہ اور حُبِ رسولؐ میں اپنی عبادات میں اضافہ کرتا ہے ، بیس تراویح کا اہتمام کرتا ہے ایک منٹ کے وقفے سے آذان کی ادائیگی پر روزہ افطار کرتا ہے یا بند کرتا ہے ۔ اللہ کے حکم کے مطابق وضو کرتا اور نماز کے اوقات کی پابندی کرتا ہے اور سنتیں بھی ادا کرتا ہے تو اِس میں کیا حرج ہے ؟؟ اگر علماٗ کا متبادل بیانیہ دیکھا جائے تو دیگر مذاھب میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں اور لوگوں نے عبادات میں کمی کرتے کرتے نمازیں ہی ترک کر دیں ، زکوٰۃ و عشر کی جگہ چیرٹی اور این جی اوز نے لے لی مگر دین اسلام میں ایسا ممکن نہیں اور نہ ہی کروڑوں معتقدین اور یو ٹیوب سے حاصل ہُونے والے ڈالر مسلمانوں کے دلوں سے حب اللہ اور حُبِ رسولؐ محو کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نے اسلامی تاریخ اور قرآنِ پاک کو تعلیمی سلیبس کا حصہ بنانے کی کوشش کی، القادر ریسرچ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی اور امام شازلیؒ ریسرچ سینٹر قائم کرنے کی کوشش کی تو سارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کہرام مچ گیا کہ ہائے اب ہمارے بچوں پر قرآن کا بوجھ پڑھ جائیگا ۔ عبادات میں تخفیف کا نتیجہ ہمیشہ ترک عبادات کی صورت میں نکلتا ہے چونکہ شیطان انسان کو تن آسانی اور تزکیہ نفس و مجاہدہ قلبی سے دور رکھنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ ہر دو معلمین و مبلغین اسلام نے کبھی تزکیہ نفس کی بات ہی نہیں کی اور نہ ہی قرآن کی تعلیمات کو سائنسی اصولوں پر پرکھنے کا درس دیا ہے ۔ یہ بات دُنیا کا ہر عالم و محقق جانتا ہے کہ جدید سائنسی علوم کی بنیاد مسلمانوں نے رکھی جن کے معلم حضرت جعفر صادق ؓ تھے ۔ بدخشاں سے بہاولپور کے مصنف محمد ایوب نے مغربی فلاسفہ و حکماٗ کی کتابوں کے حوالوں سے لکھا ہے کہ آج جو کچھ اہلِ مغرب کے پاس ہے اُس کے اصل معلم عرب مسلمان ہی تھے۔ جسطرح یونانی فلاسفہ و حکماٗ کے ادھورے کاموں کو ابنِ رُشد ، ابنِ خلدون اور امام غزالی ؒ نے مکمل کیا اور اُن ادھورے اور فرسودہ خیالات کی قرآنی علم کی روشنی میں اصلاح کی اسی طرح مسلم علماٗ و حکماٗ کے ہر لحاظ سے کامل اور مکمل علمی خزانے کے وارث اہلِ مغرب ٹھہرے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے علماٗ و فقہاٗ نے اپنی علمی میراث سے کیوں منہ موڑ رکھا ہے اور اُمت کو یکجہتی کا سبق دینے کے بجائے فرقوں میں بانٹ کر متبادل بیانیے گھڑنے اور شہرت و شہوت کے دلدل میں دھنسنے کا پیشہ اختیار کر لیا ہے۔ مناظروں اور علمی مقابلوں سے دین نہیں پھیلتا اور نہ ہی اصلاح و فلاح کا راستہ متعین ہوتا ہے۔ ابنِ خلدون لکھتے ہیں کہ کسی قوم کے زوال کی تین نشانیاں ہیں ۔ اول اشراف کا ضُعف ، دوئم سپاہ کا تشدد اور سوئم عیش و عشرت ۔ مولانا مودودی ؒ کا بیان ہے کہ ریاست میں ہر برائی کی ذمہ دار حکومت ہوتی ہے چونکہ فوج، پولیس، انتظامی ادارے اور عدالتی نظام حکومت چلاتی ہے۔ ججوں ، اعلیٰ عہدے داروں اور امور سلطنت چلانے والے اداروں کے سر براہان کا تعین حکومت کرتی ہے ۔ اگر حکومت بد دیانت، بد کردار اور بد اطوار افراد پر مشتمل ہو گی تو ریاست کا نظام گراوٹ اور بد امنی کا شکار رہے گا ۔مولانا مودودیؒ کے خطبات پر مبنی کتابچے میں لکھا ہے کہ جب خزانے کی چابیاں غلط ہاتھوں میں تھما دی جائیں تو رہزنوں اور رہنماوٗں کا فرق مٹ جاتا ہے ۔ بد قسمتی سے عوام رہزنوں اور رہنماوٗں میں فرق کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انتخابات کی صورت میں آنیوالے حکمران جسطرح حکمرانی کرتے ہیں اُس میں اچھائی اور بہتری کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ میں نے اپنی تحریروں میں شیخ سعدیؒ کا یہ قول کئی بار نقل کیا ہے کہ:

عاقبت گرگ ذادہ گرگ شود
گرچہ با آدمی بزرگ شود

بھیڑیے کا بچہ بھیڑیا ہی رہتا ہے اگرچہ اُس کی پرورش آدمیوں میں ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ہاں میکاولین اور چانکیائی سوچ و فکر رائج ہے اور سیاسی جماعتیں اور سیاسی خاندان اسی سوچ و فکر کے حامل ہیں ۔ شہرت، شہوت ، لالچ ، تکبر و رعونت اِن جماعتوں کے عہدیداروں اور حکمرانوں کی فطرت کا لازمہ بلکہ بڑی حد تک عقیدہ ہے۔ قائداعظمؒ ، خواجہ ناظم الدین جنھیں سکندر مرزا چیف مُلا لکھتا ہے کہ بعد حسین شہید سہروردی کے علاوہ کوئی بھی ایسا حکمران ایسا نہیں جسکی سوچ چانکیائی اور میکاولین نہ ہو۔ جو عام آدمی کا خون چوسنے ، شہرت و شہوت، لالچ و تکبر اور رعونت کے دلدل میں دھنسا ہوا نہ ہو۔
جس ریاست کا نظام ایسے لوگوں کی گرفت میں ہو اُس کے وجود کا قائم رہنا کسی معجزے سے کم نہیں ۔ بد قسمتی سے مملکتِ خداداد کا نظام چلانے والے ادارے سوائے حکمرانوں کی خواہشات پوری کرنے اور سفلی و استدراجی سوچ و فکر میں حکمران خاندانوں کے ہم آہنگ ہونے کے کوئی فریضہ سر انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ علماٗ اور صوفیا ٗ ہونے کے دعوے دار بھی اسی نظام کا حصہ ہیں اور کائینا تی ریاست اور اس کے اداروں کی تشریح کرنے میں ناکام ہیں۔
(جاری ہے)

Exit mobile version