کائنات میں کتنی مخلوق ہے اسکا حساب کسی انسان یا انسانی ایجادات کے بس کی بات نہیں ۔ سپر کمپیوٹر ہو یا پھر مصنوعی ذھانت ان کی رسائی کی بھی ایک حد ہے۔ چونکہ یہ آلات انسانوں کی ایجادات ہیں اسلیے انسانوں کی طرح اِن کی بھی عمریں متعین ہیں ۔ اگر انسان چاہے تو ان میں تبدیلیاں لا سکتا ہے یا پھر نئے ماڈل اور نئے طریقوں سے چھوٹے یا بڑے سائیز بھی تیار کر سکتا ہے ۔ اسی طرح خالق کائینات ہی کائیناتی تبدیلیوں کی دسترس رکھتا ہے۔ اُس نے ہر چیز چھوٹی یا بڑی کا حساب لوح محفوظ پر لکھ رکھا ہے ۔ لوحِ محفوظ پر لکھی ہر چیز اپنی اہمیت و افادیت کے لحاظ سے بنتی اور مٹتی جا رہی ہے جسکا اندازہ انسانی ذہن اور اُسکی ایجادات نہیں کر سکتیں۔
فرمایا میں نے چاند، سورج ، ستاروں ، سیاروں ، دریاوٗں ، سمندروں اور دیگر اجسام و اجرام کو کام پر لگا دیا ہے اور وہ اپنے اپنے مدار میں کام کر رہے ہیں ۔ دیکھا جائے تو کائیناتی نظام چلانے والے یہی ادارے ہیں جنھیں کوئی انسان یا انسان کی ایجاد کردہ مشین نہیں چلا سکتی مگر انسان اپنے ظاہری ، سائنسی ، باطنی اور روحانی مشاہدات کی قوت سے اِن اداروں کی افادیت اور حرکیت کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔
اِن ہی اداروں یا کائیناتی نظام کا ایک ادنیٰ جُز زمین ہے جسپر انسان اور دیگر آبی و خاکی مخلوق آباد ہے۔ زمین پر زندگی کا انحصار سورج، چاند، ہوا اور پانی سے منسلک ہے جو کسی بھی طرح انسانی دسترس میں نہیں۔ خالق اپنی مقدس کتاب قرآن حکیم میں بار بار انسانوں سے سوال کرتا ہے اور اپنا احسان جتلاتا ہے کہ کون ہے جس نے تمہیں ماں کے پیٹ سے پیدا کیا ، کون ہے جو چاند اور سورج کی منزلیں متعین کرتا ہے، پھر آسمانوں اور کائیناتی نظام کا ذکر کرتا ہے۔ وہ انسانوں سے پوچھتا ہے کہ وہ کون ہے جو بارشیں برساتا ہے، ہواوٗں کو چلاتا ہے، زمین سے طرح طرح کی خوراکیں پیدا کرتا ہے۔ اللہ نے ہی زمین کے نظام کی درستگی اور انسان کی آسائش اور آرام کیلئے زمین پر بھی مختلف ادارے قائم کیئے ۔ سورۃ الحدید میں لوہے کا ذکر کیا جس میں مضبوطی ہے اور انسان اپنی حفاظت کی لیے ہتھیار اور دیگر دفاعی سامان تیار کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو جدوجہد انسانی جبلت کا اہم جُز ہے۔ اگر اپنی حفاظت کیلئے طاغوتی ، شیطانی اور استدراجی قوتوں کیخلاف جدوجہد کی جائے تو اُسکا نام جہاد ہے جسکا اعلان خود خالق کائینات نے کیا ہے ، فرمایا اللہ کے راستے میں قتل ہو جاوٗ اور قتل کرو۔ پھر قتل ہونے اور قتل کرنے کا فرق بھی بتا دیا ۔ اللہ نے شہید کا مرتبہ اور جہاد کی افادیت بیان کی اور عزت و آزادی اور دین کی حفاظت کیلئے کفر کیخلاف جہاد کا حکم دیا۔ غزواۃرسولؐ کے مطالعے سے واضع ہو جاتا ہے کہ ہتھیار بند جہاد کے سیاسی ، سفارتی، معاشی ، معاشرتی اور اخلاقی پہلو بھی ہیں ۔ جہاد میں اگر بیان کردہ پہلووٗں سے انحراف کیا جائے تو وہ جہاد نہیں بلکہ قتال کی صورت میں افادیت کے بجائے مضریت کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
دُنیاوی نظام چلانے والے ادارے کائیناتی نظام کی طرز پر ہی تشکیل دیے جاتے ہیں جن کے بغیر دُنیا کا نظام چل ہی نہیں سکتا۔ کائیناتی اور دُنیاوی نظام چلانے والا سب سے بڑا ادارہ نظام عدل ہے ۔ کائیناتی عدل اللہ کے حکم سے چلتا ہے۔ کوئی سیارہ، ستارہ یا کہکشاں اپنے راستے سے ہٹ کر کسی دوسرے نظام میں مداخلت نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی رفتار اور سمت میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ خالق نے ایک منشور کے تحت ہر ایک نظام اور اُس میں کام کرنیوالے اداروں کیلئے حکم جاری کیا جو کائیناتی آئین یا لوح محفوظ ہے۔ اسی طرح خالق نے اپنی الہامی کتابوں اور پیغمبروں کے ذریعے انسانوں کی رہنمائی کیلئے بھی احکامات جاری کیے مگر قوت غضبیہ و شہوانیہ کے مقلد ین نے الہی احکامات سے رو گردانی کی اور زمانے یعنی العصر کی قدر کے بجائے احکامات الہیہ سے ہٹ کر شیطانی چالوں کو اپنا کر زمانے میں شر و فساد برپا کیا۔
عصری تاریخ کے مطالعے سے واضع ہوتا ہے کہ معاشرتی اور سیاسی بگاڑ اور احکامات الہیہ سے رو گر د انی کی صورت میں ہی بیرونی شیطانی قوتیں غالب ہوئیں اور اندرونی مفاداتی قوتوں نے اُن کا ساتھ دیکر ریاستوں کی تباہی اور اقوام کی رسوائی کا سامان پیدا کیا۔
حکمرانوں کی نااہلی ، ادارہ جاتی کرپشن، حکومت کی بے حسی اور عدلیہ کی کمزوری اور جانبداری نے عوام کی مایوسی اور بے توقیری کا سلسلہ شروع کیا تو اندرونی سفلی طاقتوں یعنی مافیا نے نہ صرف اداروں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا شروع کیا بلکہ بیرونی قوتوں کو بھی مداخلت کی دعوت دیکر عوام کو غلام بنا لیا۔ آریاوٗں کی آمد سے پہلے موجودہ برصغیر چار ریاستوں میں تقسیم تھا جن کے درمیان بڑی حد تک ہم آہنگی تھی۔ زندگی سادہ، پرسکون اور معاشرہ پُر امن تھا۔ اِس دور میں بھی ریاستوں کے درمیان جنگوں کا احوال لکھا گیا ہے مگر کسی تیسری ریاست کی مداخلت صلح جوئی کا باعث بھی بن جاتی۔
کیرن آرم اسٹرانگ عصری اور قرآنی تاریخ کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ پچیس ہزار سال قبل مسیح میں عرب گڈریوں کے غول موجودہ ترکی کے شمال مغرب اور روس کے جنوبی علاقوں کی طرف ہجرت کرنے لگے اور صدیوں تک مسلسل یہ سلسلہ جاری رہا۔ وہ راستے میں آنیوالی آبادیوں کو پامال کرتے، عورتوں اور بچوں کو یرغمال بناتے اور مال مویشی لوٹتے رہے۔ وہ قبائل جو جنگ و جدل کے عادی تھے عرب گڈریے اُن سے درگزر کرتے، اُن سے لین دین تو کر لیتے مگر مہم جوئی سے اجتناب کرتے۔ اُنھیں پتہ تھا کہ مضبوط قبائلی نظام کی حامل بستیوں سے اُلجھ کر وہ خود تباہ ہو جائینگے۔ لکھتی ہیں کہ کوئی قبیلہ یا ریاست امیر کی قیادت کے بغیر اپنا دفاع نہیں کر سکتا ۔ ریاست چھوٹی ہو یا بڑی مخلص، نڈر، بیباک اور صلاحیتوں سے بھر پور قیادت کے بغیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی۔
ابنِ خلدون نے ارسطو کو عمرانیات کا امام تسلیم کیا ہے مگر وہ فلسفی امیر کی جگہ عادل، رحمدل اور عوام دوست امیر کو ترجیح دیتا ہے ۔ کنفیوشس نے دُنیا کو بیروکریٹک یعنی متبادل نظام حکومت سے متعارف کروایا اور اسے پبلک سروس کا نام دیا۔ بابلی حکمرانوں نے خود کو خُدا اور بیوروکریسی کو نائب خداوٗں کا درجہ دیا۔
کشمیر میں بُدھ مت کے زوال کے بعد ھن قبائیل عروج پا گئے اور بُدھ کے پیروکاروں کا قتل عام شروع کر دیا۔ جنوبی ایشیاء کے مختلف راجاوں نے ھن حکمران مہر گل کو شکست دیکر ملک سے نکال دیا تو اس سفاک حکمران نے کشمیر کے حکمران سے پناہ کی درخواست کی۔ جنوبی ھند میں مغربی تجاری کمپنیوں کی طرح مہر گل نے آہستہ آہستہ ملک میں قدم جمائے اور شب خون مار کر بادشاہ کو قتل کردیا۔
مہرگل ھن نے جلد ہی طاقت پکڑ لی اور کشمیر کے علاوہ گندھارا پر بھی قابض ہوگیا۔ مہرگل 630ء تک کشمیر اور موجودہ پاکستان کے بڑے حصے پر قبض رہا۔ کشمیری آج بھی اسے تری کوٹہ یعنی تین کروڑ کے قاتل کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔مہرگل کا لشکر جدھر سے گزرتا گدھ اُس کے ساتھ ساتھ اُڑتے اور انسانی گوشت سے پیٹ بھرتے۔ مہرگل ھن نے خُدائی کا دعویٰ تو نہ کیا مگر اُس کے کارندے یعنی بیوروکریسی مہرگل سے دو قدم آگے تھی۔ جی ایم میر لکھتے ہیں کہ جب حکمران بے حس کرپٹ اور انا پرست ہو تو نوکر شاہی از خود بادشاہ بن جاتی ہے۔ لکھتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد نو آبادیاتی نظام ختم نہیں ہُوا بلکہ شکل تبدیل کی ہے ۔ نو آبادیاتی نظام کی جگہ اقوام متحدہ ، آئی ایم ایف، ورلڈ ٹریڈ آرگنائیزیشن اور پانچ عالمی طاقتوں نے لے لی۔ وہ ملک جہاں مغربی استعماری طاقتوں کا اثر کم تھا وہاں بھی اقوام متحدہ کی حکمرانی اور پانچ ایٹمی قوتوں کی اجارہ داری قائم ہوئی۔ پانچ کے اس کلب کا چیرمین امریکہ بنا جسے عالمی سطح پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے اور طاقت ، سیاست اور سازش کے ذریعے حکومتیں اور حکمران بدلنے کا اختیار مل گیا۔ دُنیا کا سارا کاروبار امریکی کرنسی ڈالر میں شروع ہوا اور دُنیا کے ہر ملک کی خوشحالی کا پیمانہ قومی خزانے میں ڈالروں کے ڈخائر یا پھر سونے کی مقدار مقرر ہوا۔ دُنیا میں پیدا ہونے والی ساری معدنیات جن میں سونا ، تیل اور گیس سرِ فہرست ہیں کا بھاوٗ بھی ڈالروں میں ہی مقرر ہوا چونکہ عالمی تجارتی منڈیوں پر امریکہ کی اجارہ داری تسلیم کی گئی۔ امریکہ دُنیا میں سب سے زیادہ اور مہلک جنگی ہتھیار بنانے والا ملک ہے ۔ یہ ہتھیار روائیتی ، ایٹمی ، کیمیائی ، حیاتیاتی اور اب ریڈیائی سطح پر تو متعارف ہو چکے ہیں اور اُنھیں مزید مہلک اور پیچیدہ بنانے کا عمل بھی جاری ہے۔
اب مصنوعی ذھانت سب سے بڑے اور مہلک ہتھیار کی صورت اختیار کر چُکی ہے ۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو کسی معمولی غلطی، نظام میں نقص، غفلت یا کسی متعلقہ شخص کی جنونی ، نفسیاتی کیفیت یا پھر از خود ایسی تباہی کا باعث بن سکتا ہے جسکا تدارک نا ممکن ہے ۔ کیا انسان یہ سب سامان اپنی ہی تباہی کیلئے تیار کر رہا ہے؟ اس سوال کا آسان جواب قرآن کریم میں پہلے سے موجود رہے کہ ‘‘ہم تمہیں ایک دوسرے کے ہاتھوں سے قتل کرواتے یا تمہارا خاتمہ کرتے ہیں ’’ سورۃ روم میں اُس دور کی بڑی مادی طاقتوں روم اور ایران کی ایک دوسرے کے ہاتھوں غالب اور مغلوب ہونے کی پیشن گوئی موجود ہے جس کے بعد اللہ نے دونوں مادی قوتوں کو دین اسلام کے ماننے والوں کی مختصر جماعت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
خلفائے راشدین کے ادوار میں ریاست مدینہ چین سے مصر اور مغرب میں یورپ تک پھیل گئی ۔ خلفائے راشدین کے بعد خلفائے اسلام کا دور آیا جن کی طویل حکمرانیاں عدل و انصاف کے معاملات سے سستی ، بادشاہوں کی عیش پرستی اور سپاہ کے عوام پر تشدد کی بنا پر زوال پزیر ہوئیں ۔ اسلامی ثقافت پر بے دین ثقافتی اثرات غالب ہوتے گئے تو دین کی جگہ فرسودہ روایات نے لے لی جنھیں سہل پسند علماٗ نے ذاتی مفادات اور حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے قانون کی شکل دے دی۔ رہی سہی کسر مسالک ، فرقہ پرستی ، علاقائیت ، قبیلہ پروری اور لسانیت نے پوری کی جسے علماٗ کے علاوہ شعراٗ ، مصنفین اور خو د ساختہ دانشوروں نے معاشرے اور ریاست میں وباٗ کی صورت میں پھیلا دیا۔ ہند، چین، ترکی ، ایران اور مصر جیسی طاقتور حکومتیں اپنے عروج پر تو تھیں مگر علمی ، سیاسی، سائنسی اور تحقیقی پہلووٗں سے بڑی حد تک غافل اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے والے دانشوروں اور محققین کی سرپرستی سے عاری تھیں ۔
برطانوی خفیہ ایجنسی کا اہلکارہیمفرے اپنے اعترافات میں لکھتا ہے کہ یہی وہ موقع تھا جب یورپ میں تحریر و تحقیق کے ادارے قائم ہو رہے تھے، سائنسی تحقیقی عمل شروع ہو چکا تھا اور یورپی اقوام نو آبادیاتی نظام قائم کرنے اور دنیا بھر کی معدنی ، صنعتی اور زرعی دولت پر قابض ہونے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں ۔ سیاسی، سفارتی، تجارتی اور سیاحتی مہم جوئی کو ہم آہنگ کرنے کے علاوہ ترکی، ایران، مصر ، چین اور ہندوستان جیسی خوشحال ریاستوں کے اندرونی معاملات سمجھنے اور اُن کی ادارہ جاتی کمزوریوں کا سروے کرنے کیلئے سیاحوں، تاجروں اور طالب علموں کو تیار کیا جا رہا تھا۔ مہم جوئی کی اِس دوڑ میں دیگر اقوام کی نسبت برطانیہ سب سے زیادہ متحرک تھا جہاں نو آبادیاتی نظام کی وزارت قائم ہو چُکی تھی۔ اِس وزارت کا اولین کام سارے یورپ سے ذھین افراد کا چناوٗ کرنا اور سوچ و فکر کے ایک ایسے ادارے کا قیام تھا جسکا فوکس اسلام، خلافت ِ عثمانیہ ، مغلیہ ہندوستان ، ایران اور چین ہو۔
ادارے کے قیام کیلئے ضروری سمجھا گیا کہ عیسائی علماٗ اور راحبین میں سے اُن افراد کا چناوٗ کیا جائے جو چاروں آسمانی کتابوں کے اصل علم سے واقف ہوں اور دورِ حاضر کے مسلمانوں ، یہودیوں اور چینیوں کی روایات ، رجحانات ، مذہبی میلان کا کتاب کے اصل علم و افادیت سے موازنہ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ہیمفرے لکھتا ہے کہ روس سمیت ساری دُنیا سے عیسائی علماٗ اور صوفیاٗ کو خصوصی طور پر لندن بلایا گیا اور اس موضوع پر طویل بحث کے بعد نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اسلام کے تناور سائیہ دار درخت کو جڑھ سے اکھاڑھ پھینکنا کسی صورت ممکن نہیں البتہ اس کی شاخیں کاٹنا اور مزید ثمر آوری سے روکنا بڑی حد تک نہ صرف ممکن ہے بلکہ اہل ِ یورپ کیلئے ہر لحاظ سے فائدہ مند بھی ہے۔ نو آبادیاتی نظام کی وزارت کے تحت بہت سے شعبے قائم ہوئے جنکا کام مسلمانوں کی تاریخ ، ثقافت ، روحانیت ، سیاست، فرقہ وارانہ اختلافات اور حکمران طبقے کی نجی زندگیوں اور عوام سے روابط کا جائیزہ لینا تھا۔ مقصد کے حصول کیلئے زندگی کے ہر شعبے سے انتہائی ذہین ، جسمانی لحاظ سے صحت مند ، مضبوط ، قوت برداشت اور عزم صمیم رکھنے والوں کا چناوٗ کیا گیا جو سخت اور جان لیوا حالات کا مقابلہ کرنے اور موقع کی مناسبت سے جلد منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ فیصلہ کیا گیا کہ خصوصی تربیت کے حامل اِن جوانوں کو مختلف اسلامی ممالک میں بھیجا جائے جو اُن ملکوں کی زبانوں پر عبور حاصل کریں اور عوام کی بودوباش کا گہرائی سے جائیزہ لے سکیں ۔ نوجوانوں کی اِس کھیپ نے طالب علموں ، سیاحوں اور صوفیاٗ کے روپ دھارے ، اسلامی تعلیمات کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور حکومتی کمزوریوں اور حکمرانوں کی عادات ، خصلیات و کردار کا جائیزہ لیکر جہاں تک ممکن ہُوا فرقہ وارانہ نفرت اور قبائیلی تعصب پھیلانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ پہلی کھیپ مزید ھدایات لینے اور اپنے تجربات و تجزیات پیش کرنے واپس پہنچی تو فیصلہ ہُوا کہ ہندوستان سمیت بہت سے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کیے جائیں اور اُن ملکوں میں تجارتی مراکز قائم کرنے کے بعد بتدریج اپنا سیاسی ، سماجی اور عسکری اثر و رسوخ بڑھایا جائے۔
مغل بادشاہ اکبر کے دور میں حکومت برطانیہ نے کلکتہ میں کاروباری مرکز کی بنیاد رکھی جس کی تقلید میں دیگر مغربی ممالک بھی جنوبی ہند کے ساحلی شہروں میں وارد ہوئے ۔ مغربی تاجروں نے مقامی نوابوں ، تاجروں ، صنعت کاروں ، ہنر مندوں ، بڑے زمینداروں اور جاگیر داروں سے رابطے قائم کیے اور منافع بخش کاروبار اور صاف ستھرے لین دین کا آغاز کیا۔ پرتگالیوں ، ولندیزیوں اور دیگر اقوام کا اصل ھدف مشرق بعید تھا۔ 31دسمبر 1600ء میں برطانوی سرمائیہ دار جان واٹس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اسی سال ملکہ الزبتھ اوّل نے کمپنی کو مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت کا لائسنس جاری کر دیا جسکا بنیادی مقصد انڈونیشیاء میں ویسٹ انڈیا کمپنی کا تجارت کے میدان میں مقابلہ کرنا اور ولندیزیوں کی گرم مصالحے کی تجارتی اجارہ داری کا خاتمہ تھا۔
مشرق اور مغرب کے درمیان رابطے کا واحد راستہ جنوبی ہند سے گزرتا تھا جس کی اہمیت رم لینڈ سے بھی کچھ زیادہ تھی۔ دیگر مغربی ممالک کی طرح برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی سورت میں اپنا دفتر قائم کیا تو کمپنی کے کارندوں کو پہلے سے حاصل شدہ معلومات سے بڑھ کر ایسی معلومات حاصل ہوئیں جو تاجرانہ ذھنیت کی حامل قوم کیلئے باعث حیرت تھیں ۔ بنگال اُس دور میں ایشیا کا سب سے ذرخیز خطہ تھا جہاں مصالحہ جات کے علاوہ نیل اور پارچہ جات کی تجارت عروج پر تھی ۔ فرانسیسی اور ولندیزی پہلے سے یہاں موجود تھے جبکہ چینی ، عرب اور افریقی تاجروں نے بھی اپنے کاروباری مراکز کھول رکھے تھے ۔ ایران ، ترکی اور دیگر اسلامی ریاستوں کیساتھ مغلوں کے انتہائی دوستانہ تعلقات تھے۔
ولی کاشمیری لکھتے ہیں کہ انگریزوں نے مقامی تاریخ پر تحقیق کی اور مرزا ناتھن کی ‘‘بہارستان غیبی’’ کا انگریزی زبان میں ترجمہ کروایا۔ مرزا ناتھن کی اس تحریر سے بنگال کی خوشحالی کا اصل چہرہ واضع ہوتا ہے ۔ دُنیا کی کونسی صنعت تھی جو اس خطہ زمین پر نہ تھی ۔ مغلیہ دور میں بنگال پیداوار کے لحاظ سے دُنیا بھر میں اہمیت کا حامل تھا۔ جہاز سازی کی صنعت عروج پر تھی جبکہ دیگر صنعتوں میں جفت سازی ، پارچہ بافی، ظروف سازی اور دیگر گھریلو صنعتوں میں بنگال چین کا ہم پلہ تھا۔ مغلیہ دور میں بنگال سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والا صوبہ تھا جس کی وجہ سے خوشحالی کا دور دورہ تھا۔ اکبر کے دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارتی اثر و رسوخ بڑھایا اور برطانوی حکومت نے اکبر کے دربار میں اپنا ایلچی بھی بھجوایا ۔ اسی دور میں اکبر کی بیٹی آگ لگنے سے جھلس گئی جسکا علاج بھی کمپنی کی جانب سے بھجوائے گئے انگریز ڈاکٹر نے کیا۔ 1613ء میں جہانگیر نے سورت میں انگریزوں کو فیکٹریاں قائم کرنے کی اجازت دے دی۔ اورنگزیب نے انگریزوں کی نیت میں فتور اور سازشی ذہنیت کو بھانپتے ہوئے اُنھیں بنگال سے بیدخلی کا حکم دیا اور اُن کی املاک ضبط کر لیں جسکا ذکر پہلے ہو چکا ہے ۔ اورنگزیب کی اچانک وفات کے بعد اُس کے بیٹوں میں اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی۔ گورنروں نے اپنی اپنی خود مختاری کا اعلان کیا تو اُن کیخلاف بھی بغاوتوں اور سازشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ برطانیہ کے جارج دوئم کے زمانے میں لارڈ کلائیو کو کمپنی کا ایجنٹ مقرر کیا گیا جس نے کلکتہ کے ہندووٗں سے سرمائیہ لیکر 1757ء میں پلاسی کی جنگ جیتی اور بدلے میں ہندو سرمائیہ داروں کو تجارتی اور صنعتی مراعات سے نوازا۔
انگریزوں نے تاجدارِ ہند شاہ عالم اور حاکمِ بنگال میر قاسم کی مشترکہ فوج کو غدار مسلمانوں اور سرمائیہ دار ہندووٗں کی مدد سے شکست دی تو بنگال پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا قبضہ ہو گیا۔ 1757ء سے 1857ء کے حالات کا مختصر جائیزہ پچھلے باب میں کیا جا چُکا تھا ۔ 1857ء سے 1947ء تک کی تاریخ پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے مگر بد قسمتی سے مسلمان تاریخ دانوں نے ہندووٗں کی نسبت ہر لحاظ سے کمزور موقف اختیار کیا۔ ہماری تاریخ ہر لحاظ سے دھندلی اور تضادات کا مجموعہ ہے جسپر مسلکیت، فرقہ واریت ، علاقائیت ، قبائیلی تعصب ، لسانیت ، تکبر و رعونت ، غلامانہ ذھنیت اور سب سے بڑھ کر عالمانہ جاھلیت کا غلبہ ہے۔ تاریخ دانوں کو اب نو تاریخیت کی نئی بیماری لاحق ہو چکی جنھہوں نے تاریخ کی تنسیخ اور من گھڑت واقعات کے حوالوں سے ایسا ادبی کاروبار شروع کیا ہے جو نظریہ پاکستان کی مکمل نفی کرتا ہے ۔ بد قسمتی سے ایسے کاروبار میں پاکستان کے اشاعتی ادارے اور حکمران سیاسی گھرانوں کے علاوہ نظریہ پاکستان کی مخالف جماعتیں اور ادارے بھی شامل ہیں جو آگے چلکر پاکستان اور مسلمانوں کے نظریاتی اور اسلامی تشخص کی جگہ کسی نئے نظریے کا آغاز کرنے والے ہیں ۔
نام نہاد علماٗ کی ایک جماعت پہلے ہی اِس میدان میں اُتر چکی ہے جسے حکومتی اور عالمی سطح پر تحفظ حاصل ہے ۔ آسان دین کا کاروبار کرنے والے نئی نسل کو سہولت کے مطابق شرعی احکامات کی ادائیگی کا درس دے رہے ہیں ۔ فرصت کے وقت نمازوں کی ادائیگی اور سہولت کے وقت روزوں کا اہتمام اب عام ہو چکا ہے ۔ معاشرتی اکائیاں بکھر رہی ہیں اور نفسیاتی بیماریوں اور بیماروں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اخلاقیات ، اچھی خاندانی روایات ، مذہبی ہم آہنگی اور درگزر کا خاتمہ ہوا تو مفاداتی سیاست کی بدولت نو دولتیے سیاستدان اور بد اعمال حکمران بن گئے ۔ پاکستان ایٹمی قوت کا حامل ملک تو ہے مگر مقروض اور سیاسی اور معاشی لحاظ سے مفلوج بھی ہے ۔ عوام اور حکومتی اداروں میں کشمکش نے مافیائی حکومت کی راہ ہموار کی تو ادارے بے وقعت اور حکومت بے معنی ہو گئی۔ پاکستان کا حکومتی اور معاشی نظام عالمی معشیاتی ادارے چلا رہے ہیں اور دیگر اسلامی دُنیا بے یقینی اور عدم تحفظ کا شکار ہے ۔ اِن عوامل اور اداروں کے درمیان بد اعتمادی اور ملکی وسائل کی لوٹ مار اور معاشی منصوبہ بندی کا فقدان ہے ۔ ہمارے سیاستدانوں ، حکمرانوں اور اعلیٰ اشرافیہ نے تقسیمِ ہند کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجارتی، معاشی ، سماجی ، سیاسی اور انتظامی پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں نے لی تو مذہبی سیاسی جماعتوں نے بھی شراکت داری کی جگہ بنا لی۔ نوکر شاہی نے مافیائی سیاست اور نودولتیے سیاستدانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھایا اور ملکی اداروں پر اپنا تسلط قائم کر لیا ۔ جسطرح اللہ خالق و مالک کے حکم ، ارادے اور منصوبے کے تحت کائیناتی ادارے کارفرما ہیں ایسے ہی اللہ اور رسولؐ کے اطاعت گزار بندو ں کی حکمرانی میں ادارے کام کرنے کے پابند ہیں ۔ اگر ادارے حکمرانی کا حق چھین لیں تو حکومت بے معنی اور حکمرانی کا تصور مٹ جاتا ہے ۔ ریاست تحلیل ہو کر بِکھر جاتی ہے اور عوام غلامانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ 1707ء سے 1757ء تک کے حالات نے انگریزوں کو ایک عظیم مغلیہ سلطنت پر قبضہ کرنے کی دعوت دی اور پھر 1757ء سے 1857ء تک انگریز مقامی حالات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریز ہندوستان پر قابض ہوئے اور پھر 1947ء تک ایک طویل سیاسی، عقلی اور علمی جنگ کے بعد ہندوستان آزاد ہوا۔ 1947ء کے بعد بھارت نے برطانوی نظام حکمرانی میں مثبت تبدیلیاں کیں اور ترقی کے سفر کا آغاز کیا۔ بد قسمتی سے پاکستان میں ایسا نہ ہو سکا جس کی وجہ مجرمانہ نفسیات کے حامل حکمران اور سیاستدان بنے ۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کی ساری وجوحات پاکستان میں دہرائی جا رہی ہیں جو ملکی سلامتی کیلئے زہرِ قاتل ہیں ۔ موجودہ نسل کی یاد دہانی کیلئے اِن وجوحات کو زیرِ نظر تحریر میں کئی بار دھرایا گیا ہے تا کہ نوجوان نسل نو تاریخیت کے اثرات سے بچ کر اصل تاریخ پر توجہ دے سکیں۔ 1947ء کے بعد رونما ہونے والے حادثات ، سیاسی اور نظریاتی اختلافات نے ملک میں عدم استحکام کی فضا پیدا کر رکھی ہے جس کی واحد وجہ قیادت کا فقدان ہے ۔ بیان کردہ وجوہات کی بنیاد پر دیکھا جائے تو 1947ء کے بعد جنگِ آزادی پاکستان کا دوسرا دور شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔
جنگِ آزادی پاکستان دوسرا دور
پرانی پوسٹ