ابنِ خلدون نے قوموں کے عروج و زوال کو موسموں سے تمثیل کیا ہے ۔ جس طرح موسم بدلتے ہیں ایسے ہی قومیں خزاں سے بہار کی طرف ترقی کی منازل طے کرتیں ہیں اور پھر کمزور ہو کر خزاں رسیدہ ہو جاتی ہیں ۔ ابنِ خلدون نے قوم کے عروج اور ترقی یافتہ زندگی کی عمر ایک صدی لکھی ہے مگر یہ ٹھہراوٗ کا زمانہ نہیں بلکہ تحقیقی ، علمی اور فکری ٹکراوٗ کی ایک ایسی صورت کا ابتدائی نقطہ ہے جب سوچ و فکر کی کوئی نئی راہ نکل آتی ہے جو انسانی سوچ کے دائرے سے باہر ہوتی ہے ۔ انسان منطق و دلائل کی راہ سے یکدم ہٹ کر واقعات و حادثات کی روک تھام کرنے کی سعی کرتا ہے ۔ ابنِ خلدون ہر شخص کو بنیادی فنون سے آگاہی کا درس دیتے ہیں ۔ امام ابو حنیفہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ فقہ کا علم سیکھنے سے بہتر ہے کہ پہلے رزق کمانے کا ہنر سیکھ لیا جائے چونکہ معیشت کا دین سے گہرا تعلق ہے مگر امارت و سیاست کے بغیر وحدت کا قیام بھی نا ممکن ہو جاتا ہے۔ قرآنِ کریم کی ابتداٗ ہی امارت ، معیشت اور سیاست سے ہوتی ہے۔ فرمایا ـ ‘‘میں زمین پر اپنا قائم مقام یعنی خلیفہ پیدا کرنا چاہتا ہوں ۔ اللہ نے واضع حکم و ارادے کے تحت زمین پر ایک عظیم خلافت کا اعلان کیا جس سے واضع ہوتا ہے کہ خلافت کا قیام زمین پر ہی ہو سکتا ہے جبکہ اللہ کی حاکمیت ساری کائینات پر ہے جو اسکا موجد، مالک اور حاکم ہے۔ خلیفہ کی حکومت یا حکمرانی محدود اور مالک و خالق کے تابع ہے جسے اللہ کی اطاعت اور رسولؐ کی پیروی سے مشروط کیا گیا ہے۔ جو حکومت یا حکمرانی اطاعت اللہ اور اطاعت رسولؐ کے دائرہ سے باہر ہو اور امیر بے دین ہو اُسکی اطاعت لازم نہیں ۔ دور حاضر کے علماٗ اکثر اس فضول اور بے مقصد بحث میں اُلجھ کر شر و فساد کی ایک صورت پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کی صحیح تربیت و رہنمائی کے بجائے اُن کے ذھنوں میں خلفشار اور انتشار پیدا کرنے کے لیے منظم ہو کر اُن کے عقائد اور اخلاق پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ وہ ایسے حکمرانوں کے حق میں دلائل دیتے ہیں جو مادہ پرست اور منکر دین ہیں ۔
دیکھا جائے تو آج دُنیا میں اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرنے والا نہ تو کوئی امیر ہے اور نہ ہی ریاست ہے۔ عالمی سطح پر انتشاری کیفیت ہے اور دین بیزار طبقات مادی عروج پر ہیں جبکہ دور حاضر کے علماٗ دین یا تو دین فروش ہیں یا پھر طاقتور سفلی قوتوں کے حمائت یافتہ ہیں ۔ ایک ٹولہ ایسا بھی ہے جو بیچ کے راستے پر گامزن اپنے مفادات کے پیشِ نظر دین کی غلط تشریح یعنی آسان دین کی تبلیغ میں مصروف ہے ۔ ظاہر ہے کہ اِس ٹولے کو مادی بے دین قوتوں کی سر پرستی حاصل ہے تا کہ اللہ اور اُس کے رسولؐ کے باغی حکمرانوں کو اِن علماٗ کی مدد سے مسلسل مسلط رکھا جائے۔
بظاہر یہ ایک ایسا دور ہے کہ ہر طرف شیطانی قوتیں غالب ہیں مگر کارخانہ قدرت میں ایسے مراحل کئی بار آچکے ہیں کہ دُنیا کی طاقتور اقوام ، قبیلے اور حکمران چند لمحوں میں قصہ ماضی بن گئے اور سوائے اللہ کے اُن کی تاریخ سے بھی کوئی واقف نہیں ۔ پہلے بھی ذکر ہوا کہ اللہ خالق و مالک نے کتاب حکمت میں بارہا دھرایا کہ زمین کی وسعتوں میں اُترو اور پہلی قوموں کے انجام کا مشاہدہ کرو۔ تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو موجودہ محدود ترقی یافتہ دور کا آغاز پندرویں صدی میں ہوا ۔ اِس عرصہ میں خِطہ ارضی پر لا تعداد تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔ دُنیا کے نقشے سے کئی ملک مٹ گئے، کئی سمٹ گئے اور بہت سے پھیل گئے ۔ کئی ممالک نئی شناخت لیکر دُنیا کے نقشے پر اُبھرے اور کئی ترقی یافتہ ہوئے تو آدھی سے زیادہ دُنیا تنزلی، تہہ دستی اور عالمی عیارانہ حکمت ِ عملیوں کا شکار ہو کر ترقی یافتہ اقوام کی باجگزاری پر مجبور ہو گئیں ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد نو آبادیاتی نظام کی جگہ اقوام متحدہ اور اس ادارے پر اجارہ داری رکھنے والی اقوام نے لے لی تو عالمی اقتصادی ، معاشی اور سیاسی غلامی کا نیا دور شروع ہُوا جو شاید ہی دو صدیوں تک قائم رہ سکے ۔ اگرچہ اِس بات کا اظہار نہیں کیا جا رہا مگر حقیقت میں یہ نظام شکست و ریخت کا شکار ہو چکا ہے ۔ وقت کا دریا اِس کی بے بنیاد دیواروں کے پاوٗں چوم رہا ہے جو جلد ہی اسے گرانے والا ہے۔
مورش ایمپائر کا مصنف ‘‘ میکن (Meakin)’’ لکھتا ہے کہ قوموں کا عروج تحقیقی و تخلیقی علم سے ہوتا ہے اور زوال تہذیب و ثقافت میں گراوٹ سے شروع ہو کر معاشرے اور ریاست کی بنیادیں ہلا دیتا ہے ۔ اہلِ مغرب کو اِس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ اُن کی سائنسی ترقی اور اقتصادی اجارہ داری پر تہذیبی گرھن کا سیاہ سائیہ پڑ چکا ہے جس کی اصلاح ضروری ہے ۔ مغربی محققین کو فکر ہے کہ اگر مادی ترقی کی دوڑ میں تہذیبی زوال آگیا تو معاشرہ اور ریاستی نظام بکھر جائیگا ۔ دیکھا جائے تو تہذیبوں کا تصادم ایک فرسودہ اصطلاح ہے۔ تہذیب کا مطلب شائستگی ، آرائیستگی ، تربیت و تعلیم ہے۔ تربیت یافتہ یعنی ہنر مند ، سلیقہ شعار ، با ذوق ، با وقار اور با اخلاق لوگ جن کی تعداد اگرچہ زیادہ نہیں ہوتی مگر وہ اپنے علم و ہنر ، اخلاق و اقدار کی وجہ سے معاشرے کا میلان و رجحان بدل کر ایسے تمدن کو فروغ دیتے ہیں جنکا طرزِ معاشرت و سیاست عمدہ و مثالی ہوتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے کردار و عمل سے روایات تشکیل پاتی ہیں جو آگے چل کر اخلاقی ضابطوں اور ریاستی قوانین کی شکل اختیار کر لیتی ہیں ۔
تہذیب یافتہ ، با اخلاق اور اچھی روایات کے لوگوں کا رہن سہن، لباس و خوراک ، باہمی میل جول ، لین دین ، رسومات ، تقریبات اور دیگر مشاغل ثقافت کے زمرے میں آتے ہیں جسے کلچر کا نام دیا گیا ہے ۔ کلچر تہذیب و ثقافت کے مجموعے کا نام ہے جو ایک قبیلے، قوم ، ملک اور خطے کی پہچان بن کر دوسری اقوام کیلئے قابلِ تقلید ہوتا ہے۔
انسانی زندگی میں عبادات کے علاوہ سینکڑوں ایسی مصروفیات شامل ہوتی ہیں جنکا تعلق ذاتی، اجتماعی ، علاقائی ، معاشی ، علمی، سیاسی ، سماجی اور عالمی حالات و واقعات سے منسلک ہوتا ہے۔
انسانی تہذیب اپنے معنی و مطالب کے لحاظ سے یکساں ہے جس میں تصادم کی کوئی وجہ نہیں بنتی ۔ البتہ اپنی جبلت کے لحاظ سے انسان زمانے یعنی عصر کے پاکیزہ فطری دائرے سے نکل کر ایک ایسے سفلی ، استدراجی یا ناسوتی دائرے میں داخل ہو جاتا ہے جہاں فرسودہ خیالی سے جنم لینے والے نظریات نہ صرف ٹکراوٗ یا تصادم کا باعث بنتے ہیں بلکہ ایک سفلی معاشرے اور ریاست کی تباہی کا بھی باعث بن جاتے ہیں ۔ نظریاتی ٹکراوٗ ہی تصادم کی بنیاد بنتے ہیں جن کی وجہ سے انسانوں کی ایک نسل تباہ ہو کر دوسری نسل کیلئے میدان خالی کر دیتی ہے۔ ظہورِ اسلام کے بعد پہلی امتوں کی طرح کسی بھی خطہ زمین سے نسل انسانی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو گا مگر نظریاتی اختلافات کی وجہ سے معاشروں ، ریاستوں اور خِطوں کے درمیان خونریز تصادم ہونگے جن کی وجہ سے مادی لحاظ سے کمزور اور تہی دست اقوام مادی برتر قوتوں کی کمزوری اور تباہی کا باعث بن جائینگی۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر اقوام متحدہ کا ادارہ برائے امن قائم ہوا مگر امن قائم کرنے میں ناکام رہا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران دُنیا پہلے دو حصوں میں تقسیم ہوئی جو نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کا باعث بنی مگر جنگ کے بعد پھر دو حصوں میں نہ صرف بٹ گئی بلکہ ساتھ ہی سرد جنگ کا بھی آغاز ہو گیا ۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران عالمی سطح پر جو قیادت سامنے آئی اُس کی سوچ نہ تو مثبت تھی اور نہ ہی امن و ترقی کے لحاظ سے معیاری اور مستقل تھی۔ عالمی لیڈروں کی سوچ اور مستقبل کی عیارانہ پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہی قائد اعظم ؒ نے الگ اسلامی نظریاتی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا جو نہ صرف ہندوستانی قائدین بلکہ امریکہ اور برطانیہ کیلئے بھی باعث حیرت تھا۔
قائد اعظم ؒ کی سیرت و کردار، سیاسی حکمتِ عملی اور جدوجہد پر سب سے زیادہ اُن کے مخالفین نے لکھا مگر اُنھیں قائد اعظمؒ کی زندگی کا کوئی منفی پہلو نظر نہیں آیا۔ اس کے برعکس مسلمان خاصکر پاکستانی مصنفین ، دانشوروں اور صحافیوں کی ایک جماعت نے نہ صرف قائد اعظمؒ کی ذات بلکہ تحریکِ آزادی پاکستان اور قیامِ پاکستان کی مخالفت زندگی کا اہم فریضہ سمجھ کر شروع کی جو آج تک جاری ہے۔ ایسے دانشوروں میں حامد میر، پرویزھُودبھائی اور اُس کے ہم خیال شامل ہیں ۔ حامد میر ایک عرصہ تک ارد شیر کاوٗس جی اورھُود بھائی کو اپنے ٹیلویژن شو میں مدعو کرتے جو قائداعظمؒ کی ذات، کردار اور پاکستان کے وجود کی نفی کرنے کا فریضہ سر انجام دیتے ۔ اسی طرح علماٗ کی بھی ایک جماعت ہے جو پاکستان اور قائد اعظم ؒ کے خلاف بغض رکھنے میں مشہور ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اگرچہ قائد اعظمؒ اور پاکستان کیخلاف ہمیشہ سے ایک موقف رکھتی ہے مگر نہ تو دوغلے پن کا شکار رہی ہے اور نہ ہی اپنے بھارت نواز رویہ سے منحرف ہوئی ہے ۔ خُدائی خدمتگاروں نے اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے قربانیاں بھی دی ہیں مگر کبھی منافقت نہیں کی ۔ اجمل خٹک کابل سے سرخ پھولوں سے سجی ڈولی پر تو نہ آئے مگر جماعت نے اُنھیں بے اصولی کی سزا دے کر سیاست سے بے دخل کر دیا۔
مسلم لیگ کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف دوسری بڑی جماعت ہے جسکا کوئی سیاسی ، اخلاقی اور فکری اصول یا ضابطہ نہیں ۔ جسطرح مسلم لیگ قائد اعظمؒ کی ذات تک محدود تھی ایسے ہی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان تک ہی محدود ہے۔ سیاسی دانش و بصیرت اور کردار کے حوالے سے دیکھا جائے تو عمران خان میں قائد اعظمؒ جیسی ایک بھی خوبی نہیں ۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ ہر قوم اور ہر دور کا ایک ہی سلطان ہوتا ہے۔ محمد علی جناح ؒ اس دور اور مسلمانوں کا سلطان ہے مگر میں اب ہندوستان کا سلطان نہیں رہا، ہند میں کئی سلطان پیدا ہو گئے ہیں ۔ مہاتما کا اشارہ نہرو، پٹیل اور سبھاش چندر بوش کی طرف تھا جسے نہرو نے انگریزوں کی مدد سے فارغ کر دیا چونکہ سبھاش چندر بوش کی موجودگی میں نہرو خاندان کی سلطانی خطرے میں رہتی۔ قائد اعظمؒ نے تن تنہا انگریزی سرکار، کانگرس ، جمعیت علماٗ اسلام ہند اور کانگرس کے حمائت یافتہ مسلمانوں کا مقابلہ کیا اور صرف سات سال کی عملی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان تو حاصل کر لیا مگر مملکت کے قیام کے فوراً بعد پیدا ہونے والے مسائل سے اُن کی کابینہ اور مسلم لیگی قائدین نے اُنھیں بے خبر رکھا۔ سول ملٹری بیورو کریسی نے مغربی استعماری طاقتوں سے روابط قائم کر لیے اور تاحیات اُن کے اشاروں پر ناچنے اور مملکت کو نقصان پہنچانے کا مستقل معائدہ کر لیا۔ سیاسی گھرانے تو پہلے ہی انگریزوں کے مراعات یافتہ تھے جنھیں ہم خیال نوکر شاہی نے مزید مضبوط اور اُن کی جائیدادوں کو محفوظ بنا دیا ۔ پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جن کا حکمران طبقہ اپنا ملک لوٹ کر دوسرے ملکوں میں اپنا مال محفوظ کرتا ہے اور دوسرے ملکوں سے پاکستان میں سرمائیہ کاری کی بھیک مانگتا ہے ۔ قائد اعظمؒ کی زندگی میں ہی مغرب نواز سیاستدانوں اور نوکر شاہی نے حتمی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی غلامی کا چوغا نہیں اتارینگے بلکہ ایک ایسی روایت قائم کرینگے کہ اُن کی آئیندہ نسلیں بھی غلامی اور ذلت کا طوق نسل در نسل گلے میں سجائے رکھے گی ۔ پاکستان بننے کے بعد قائد نے اپنی پہلی تقریر میں جن باتوں کا ذکر کیا اُن میں قانون کی حکمرانی، آئین ساز اسمبلی کا قیام ، عوام کی فلاح و بہبود اور کرپشن کا خاتمہ سرِ فہرست تھیں ۔ آپ نے فرمایا کہ کرپشن ہندوستان سمیت غریب اور پسماندہ ممالک کے وسائل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ آنیوالی آئینی ، جمہوری اور عوامی حکومت ایسے قوانین بنائے گی جو اس ناسور کا نہ صرف خاتمہ کردینگے بلکہ کرپٹ افراد سے آہنی ہاتھوں سے نبٹیں گئے۔
قائد اعظمؒ کی زندگی میں ہی نودولتیے سیاسی گھرانوں کی بنیاد رکھی گئی اور آنیوالی ہر حکومت میں ایسے افراد، گھرانوں اور خاندانوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ عوام نے ایک غلامی سے دوسری اور اب تیسری غلامی کو قبول کر لیا ہے جس کی راہ پاکستانی اشرافیہ ، علماٗ ، دانشوروں ، صحافیوں اور گدی نشینوں نے ذاتی مفاد اور شاہانہ مراعات کے بدلے میں ہموار کی ۔ پہلے بھی بارہا ذکر ہوا کہ بیان کردہ طبقات ہی عظیم مغل سلطنت کے زوال کا باعث بنے ، انگریزوں کی غلامی قبول کی اور ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہے۔ 1757ء کی جنگ پلاسی کے بعد ٹیپو سلطان کے خلاف انگریزوں کی بھرپور مدد اور پھر 1857ء کی جنگ آزادی میں ہندوستان کے نوابوں ، جاگیرداروں ، دانشوروں ، گدی نشین پیروں اور سیاسی گھرانوں نے انگریزوں کا کھل کر ساتھ دیا۔ سردار کالا خان کھٹڑ اور رائے احمد خان کھرل اپنوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔ رانی آف جھانسی ، بیگم حضرت محل اور جنرل بخت خان مسلمانوں ، ہندووٗں اور سکھوں کی سازشوں کا شکار ہوکر شکست کھا گئے اور غداروں کے خاندان انگریزوں کے منظورِ نظر ٹھہرے۔ نئے گدی نشین ، نواب ، جاگیردار ، خان بہادر اور تمن دار ذلت اور رسوائی کا چوغا پہن کر انگریزوں کے دست راست بنے۔ 1857ء میں پیدا ہونے والی اعلیٰ اشرافیہ نے 1947ء میں اپنے آقاوٗں کے اشارہ پر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور قائد اعظم ؒ کی مخالفت کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ مہاجرین کی آباد کاری ، باجوڑ پر افغانوں کا حملہ، ہندووٗں کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں کی غیر منصفانہ تقسیم ، قبضہ مافیا اور نوکر شاہی کے درمیان کٹھ جوڑ اور کشمیر کے مسئلے پر قائد اعظم ؒ کو اندھیرے میں رکھنے سمیت درجنوں سازشوں کے سرغنہ حکومتی وزیر اور جاگیر دار تھے۔ خود وزیر اعظم لیاقت علی خان بھی گورنر جنرل سے مشورہ کرنا ضروری نہیں سمجھتے تھے جس کا ذمہ دار محترمہ فاطمہ جناح نے بیگم رعنا لیاقت علی خان کو ٹھہرایا۔ یہ سچ بھی ہے کہ بیگم رعنا لیاقت علی خان کا خاندان پہلے ہندو ٗ تھا اور جب انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ جما لیا تو اِس خاندان نے عیسائیت قبول کرلی۔ رعنا لیاقت علی خان کا خاندان ہندوستان کے مشہور کاروباری خاندانوں میں شامل تھا جن کے انگریزوں اور نہرو خاندان کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ ان تعلقات کا جنگِ آزادی کشمیر کے دوران کئی بار مظاہرہ بھی ہُوا جس کا ذکر جنگِ آزادی کشمیر پر لکھی جانیوالی متعدد تحریروں میں شامل ہے ۔ اِن مشکلات کے دوران ہی چودھری رحمت علی جن کے متعلق مشہور ہے کہ وہ لفظ پاکستان کے خالق ہیں اچانک لندن سے کراچی آئے اور قائد اعظم ؒ کے خلاف ایک مہم کا ٓآغاز کر دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ وہ پاکستان نہیں جن کا ذکر اُنہوں نے کیا تھا۔
جناب ضیاء الدین سلہری اپنی تصنیف ‘‘مائی لیڈر’’ میں لکھتے ہیں کہ جمعیت علماٗ اسلام ہند، تحریکِ خاکسار ، پنجاب سے تعلق رکھنے والے طلباٗ تنظیموں کا کچھ حصہ اور کانگرسی مسلمانوں نے ابتداٗ سے ہی قائد اعظم ؒ کی کردار کشی کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ لکھتے ہیں کہ یہ لوگ تانگوں پر قائد اعظم ؒ کی تصاویر والے بڑے بڑے بورڈ سجاتے اور پھر گلیوں میں سارا سارا دِن منادی کرتے۔ ایک مولوی بھونپوں لیکر منادی کرتا کہ مسلمانو ہوشیار ہو جاوٗ اور اِس تصویر کو دیکھو۔ یہ محمد علی جناح ہے ۔ اس کا انگریزی لباس دیکھو، ہاتھ میں سگار دیکھو اور سر پر انگریزوں والا ٹوپ دیکھو ۔ نہ داڑھی ہے ، نہ دستار ہے اور نہ ہی اسلامی شرعی لباس ہے ۔ اسے کوئی حق نہیں کہ یہ ہندوستان کے لاکھوں مسلمانوں کی قیادت کرے۔ جناب سلہری لکھتے ہیں کہ مولویوں کی اس منادی کا مسلمانوں پر ذرہ بھر اثر نہ ہوا بلکہ قائد اعظم ؒ کے خلاف اس مہم نے مسلمانوں کا تجسس بڑھا دیا۔ قائد اعظم ؒ کے خلاف مہم مسلم لیگ اور قائد اعظم ؒ کی تشہیر کا وسیلہ اور مخالفین کیلئے ندامت اور مایوسی کا باعث بنی۔ کردار کشی کی اِس مہم میں پنجاب سرِ فہرست اور سندھ دوسرے نمبر پر تھا جس کی وجہ جاگیر دار ، پیر ، ہندو سرمائیہ دار اور انگریزوں کے باجگزار طبقات تھے۔ عوام کو اس طبقے سے کوئی سروکار نہ تھا چونکہ عام لوگ اس طبقے کو انگریزوں کا پٹھو اور مسلمانوں کا استحصال کرنے والا گروہ سمجھتے تھے ۔ وہ جس قدر انگریزوں سے نفرت کرتے تھے اُس سے بڑھ کر وہ اِن کے ایجنٹوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔
جناب رحمت علی کی تحریک کا آغاز ہُوا تو دوسری جانب گاندھی نے ہندووٗں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتلِ عام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لاکھوں ہندووٗں کا لشکر لیکر پاکستان کی طرف امن مارچ کا ڈھونگ رچایا۔ پاکستان ہر لحاظ سے گوناں گوں مسائل کا شکار تھا کہ چوھدری رحمت علی کی تحریک اور گاندھی کے امن مارچ نے ایک نیا بحران پیدا کردیا۔ قائد اعظم ؒ نے چوھدری رحمت علی کی ملک بدری کا حکم جاری کیا اور خبردار کیا کہ اگر آپ نے امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا تو آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا ۔ مسلم قائدین میں صرف قائد اعظم ؒ ہی وہ شخصیت تھے جو گاندھی کی شاطرانہ چالوں کو سمجھتے تھے۔ تحریک خلافت کی قیادت، عدم تعاون اور انڈیا چھوڑ دو جیسی تحریکیں گاندھی کی مسلمانوں کیخلاف سازشیں تھیں جنھیں مسلمان نہ سمجھ سکے اور گاندھی کی ایماٗ پر نقصان اُٹھاتے رہے ۔ اِن تحریکوں سے ہندووٗں اور قابض انگریزوں کے تعلقات پر کوئی اثر نہ ہُوا بلکہ دِن بدن یہ تعلقات مضبوط ہوتے رہے۔ گاندھی اپنی سیاسی چالوں کے ذریعے انگریزوں کو باور کراتا رہا کہ مسلمان انگریزوں کی دشمن ، ناقابلِ اعتماد ، امن مخالف اور دقیانوسی خیالات کے حامل اُجڈ اور معاشی اور معاشرتی ترقی کے مخالف ہیں۔ باوجود اِس کے مسلمان علماٗ ، شرفاٗ اور انگریزوں کا مراعات یافتہ طبقہ بھی گاندھی اور کانگرس کا نہ صرف حامی بلکہ مسلم اتحاد اور اخوت کا دُشمن رہا۔ بد قسمتی سے انگریزوں اور کانگرسیوں کا یہی حمائت یافتہ طبقہ اور اُن کے مقلدین کی مافیائی سوچ و فکر کے علماٗ و سیاستدان استعماری قوتوں کے جانشین آج اسلامی نظریے پر قائم ہونے والی ریاست کے حکمران ہیں ۔
قائد اعظم ؒ کی پاکستان کے قیام ، مسلم اتحاد و یکجہتی اور نئی اسلامی ریاست کے مستقبل پر مبنی سوچ و فکرپر لکھی جانیوالی تحریروں میں جناب زیڈ اے سلہری کی تحریر سب سے بہتر اور حقیقت کی ترجمان ہے۔ لکھتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کی کوششوں میں قائد اعظم ؒ کا رویہ انتہائی سخت ، غیر لچکدار اور شروع سے ہی حتمی اور اٹل تھا ۔ لکھتے ہیں کہ نہ صرف انگریز، ہندو قائدین ہمیشہ سے دو کشتیوں کے سوار مسلمان بلکہ وہ خود بھی حیران تھے کہ کیا یہ وہی محمد علی جناح ہیں جو کل تک ہندو مسلم اتحاد کے داعی ، کانگرس کے سرگرم رکن ، مغربی تہذیب و تمدن کے پیروکار اور سیکولر مسلمان تھے ۔ اگرچہ وہ شریعت و طریقت کا پرچار تو نہیں کرتے مگر سچائی ، دیانتداری ، اصول پرستی، امت محمدیہ کے اتحاد و استحکام سے لیکر علم کے فروغ اور مثالی اسلامی معاشرے اور ریاست کے قیام سے ہٹ کر کوئی بات ہی نہیں کرتے۔ وہ اپنی ذات سے ہٹ کر مسلمانوں کی آزادی ، حرمت ، یکجہتی ، اجتماعی و اقتصادی خوشحالی اور اصولی سیاست کے سب سے بڑے مبلغ اور متحرک سیاستدان ہیں۔ سرسید احمد خان اور علامہ اقبالؒ کی طرح قائد اعظم ؒ بھی ملائیت کے خلاف تھے۔ اُن کے نزدیک مسلمان جدید علم کے حصول کے بغیر اپنا کھویا ہُوا مقام حاصل نہیں کرسکیں گے۔ قائد اعظم ؒ کے سیاسی نظریے میں اسلامی معیشت اور جدیدسائنسی اور تحقیقی علم کا حصول بھی شامل تھا جنکا ذکر جناب زیڈ اے سلہری نے اپنی دوسری تحریر ‘‘پاکستان امن و ترقی کی شاہراہ پر’’ میں کیا ہے ۔ لکھتے ہیں کہ قائد اعظم ؒ کا پاکستان پُر امن، ہنر مند ، خوشحال اور معیشت کے لحاظ سے دُنیا میں منفرد اسلامی اور مثالی ملک ہو گا۔
گاندھی کی ہمیشہ کوشش رہی کہ مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں پست رہیں تاکہ ہندووٗں کی اجارہ داری قائم رہے ۔ بد قسمتی سے گاندھی کی اِس مسلم دُشمنی میں ملاوٗں کا ایک خاص طبقہ ہمیشہ گاندھی کے فرسودہ خیالات کا حامی رہا تا کہ مسلمان علمی لحاظ سے پسماندہ رہیں ۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان اُن کے مسلکی مدارس سے نکل کر جدید علم کی روشنی میں ترقی یافتہ اقوام کا مقابلہ کرنے کی قوت حاصل کریں ۔
گاندھی کا امن مارچ اِس سلسلے کی آخری بڑی کوشش تھی جسے قائد اعظم ؒ نے ناکام بنا دیا۔ آپ نے ملکی دفاعی اداروں کو حکم دیا کہ گاندھی کے لشکر کو پاکستانی سرحدوں پر روک دیا جائے۔ قائد اعظم ؒ کے ساتھیوں نے قائد کے اِس فیصلے سے بھی اختلاف کیا ۔ وہ گاندھی کا شاہانہ استقبال کرنے کا مشورہ دے رہے تھے مگر قائد نے فیصلہ کن انداز میں اِس تجویز کورَد کردیا۔
زیڈ اے سلہری لکھتے ہیں کہ 1940ء کے آغاز پر عالمی سطح پر تبدیلیاں محسوس کی جانے لگی تھیں ۔ برطانوی اور امریکی لیڈر عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد ایک ایسے نظام کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جس کے ذریعے دُنیا پر امریکہ کی اجارہ داری قائم ہو اور مغربی ممالک امریکہ کے معاون اور مددگار رہیں ۔ قائد اعظم ؒ کو خدشہ تھا کہ جنگ کے خاتمے پر لیگ آف نیشنز(League of Nations)کا بھی خاتمہ ہو جائے گا اور امریکہ برطانیہ کی مدد سے ایک ایسا نظام وضع کریگا جس کے ذریعے وہ ساری دُنیا کی معیشت ، سیاست ، معاشرت و ثقافت پر اثر انداز ہو گا۔ یہی وہ دور تھا جب قائد اعظم ؒ کے رویے میں سختی آگئی اور وہ سوائے اسلامی پاکستان کے کسی دوسری تجویز کو نفرت سے دیکھنے لگے ۔ برطانیہ ، امریکہ اور کانگرسی قیادت مسلمانوں کے ایک خاص طبقے کی مدد سے تقسیم ہند کے سخت مخالف تھے ۔ قائد اعظم ؒ نے مخالفین کی اِن کوششوں کا ایک سیاسی جرنیل کی طرح مقابلہ کیا اور تقسیم ہند کیخلاف ہر کوشش کو ناکام بنا دیا۔ وہ جانتے تھے کہ گاندھی اور نہرو کے ہندوستان میں مسلمانوں کی حیثیت غلامانہ ہو گی اور چند ہی سالوں میں وہ بے حیثیت اور بے وقعت ہو کر اپنا دینی، اخلاقی اور اسلامی تشخص کھو بیٹھینگے۔ ایک موقع پر قائد اعظم ؒ نے مسلم عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا :
"Time has come for Muslim Nation to resort to direct action to achieve Pakistan and get rid of present slavery under the British and contemplated future cast Hindu domination”
‘‘سات سو سال بعد’’ کے مصنف نے اپنی تحریر کے صفحہ 117پر لکھا ہے کہ 22مارچ 1947ء کے دِن لارڈ ماونٹ بیٹن انڈیا وارد ہوئے اور آتے ہی 35اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں ۔ اِن ملاقاتوں کا مقصد تقسیمِ ہند کو رکوانہ اور آزاد متحدہ ہندوستان کو کانگرس کی حکمرانی میں قائم رکھنا تھا۔ علمائے دیو بند، سرحدی گاندھی ، عبدالصمد اچکزئی ، کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا جس میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، یونینسٹ پارٹی ، شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس ، جی ایم سید ، فقیر آف ایپی، افغان حکومت تقسیم ہند کے مخالف اور کانگرس کے ہمنوا تھے۔ امیر آف کابل کا مطالبہ تھا کہ چترال سے کوئٹہ اور مارگلہ سے مغرب کا سارا علاقہ افغانستان میں ضم کیا جائے۔
اس سلسلہ میں گاندھی نے وائسرائے کو مشورہ دیا کہ قائد اعظم ؒ سے فوری ملاقات کی جائے اور اُنھیں تا حیات متحدہ ہندوستان کا وزیراعظم مقرر کر دیا جائے ۔ قائد اعظم ؒ کو اِس سازش کی خبر ملی تو اُنھہوں نے اسے گھناونا مذاق اور ایک گھٹیا تجویز قرار دے کر مسترد کر دیا۔
الن کیمپبل جانسن نے ‘‘مشن وِد ماونٹ بیٹن’’ میں لکھا کہ آخر کار وائسرائے نے شکست تسلیم کر لی اور قائد اعظم ؒ سے ملاقات کے بعد حکومت کے نام مراسلے میں لکھا :
"Jinnah was most rigid, haughty and disdainful frame of mind. Jinnah has even warned Mountbatten that if the Muslim League’s demand for Pakistan was ignored or any option other than Pakistan was resorted to, British India would perish for which he would not be responsible. The responsibility for this, as a matter of fact, Jinnah argued, would lie on none but the British who were running the affairs of the State and of the Empire”
ڈاکٹر صفدر محمود کے ایک مضمون کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ 15مارچ 1946ء کو ہاوٗس آف کامنز میں کابینہ مشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم لارڈ اِیٹلی (Clement Attlee)نے بڑی رعونت سے بیان دیا کہ:
” We are mindfull of the right of minorities on the other hand we can not allow a minority to place a veto on advance of a majority”
کابینہ مشن کا مقصد تقسیم ہند کو رکوانا تھا۔ حکومت نے سر پیتھک لارنس کو اِس مشن میں شامل کیا جو ایک انتہائی مکار و عیار سیاسی بازیگر تھا مگروہ قائداعظمؒکا سامنا نہ کر سکا ۔ لیو نارڈو موزلے ‘‘برطانوی راج کے آخری ایام’’ میں لکھتا ہے کہ کابینہ مشن کے ممبران کی قائد اعظم ؒ کے نام سے ہی ٹانگیں کانپتی تھیں ۔
ـ "Jinnah depressed them by his cold, arrogant, insistent demand for Pakistan or nothing. An encounter with Jinnah cast them down”
بیرسٹر ایس کے موجمدار ‘‘جناح اور گاندھی’’ میں لکھتے ہیں کہ جناح عزم و استقلال کی چٹان تھے اور گاندھی سیاسی شعبدہ باز تھے ۔ جناح نے پاکستان کا مقدمہ دلیل اور دلائل سے لڑا اور جیت گئے ۔ گاندھی کو ہارتا دیکھ کر نہرو او ر پٹیل نے گاندھی کو سیاست سے الگ کردیا۔ یہی حشر مولانا آزاد کا بھی ہُوا۔
سٹینلے وال پورٹ نے قائد اعظم ؒکی ساری زندگی کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے لکھا :
"Few individuals significantly alter the course of history, fewer still modify the map of the world, hardly anyone can be credited with creating a Nation state, Muhammad Ali Jinnah did the both”
بیرسٹر خشونت سنگھ لکھتے ہیں کہ قائد اعظم ؒچاہتے تھے کہ میں پاکستان میں ہی رہوں وہ مجھے لاہور ہائی کورٹ میں جج تعینات کرنا چاہتے تھے ۔ دِلی آکر پتہ چلا کہ نہرو کی لگامیں پٹیل اور کرشنا مینن کے ہاتھ ہیں ۔ قائد اعظم ؒگاندھی اور نہرو کے مقابلے میں ایک عظیم مدبر، نفیس انسان اور عزم و استقلال کا ہمالیہ تھے۔
علامہ اقبال ؒ میرے گرو تھے ۔ میں اقبال ؒ کا اِس لیے بھی مداح ہوں کہ اُنھہوں نے قائد اعظم ؒکی سوانح حیات ایک ہی شعر میں بیان کردی:
نگاہ بلند، سخن دلنواز ، جاں پُر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
‘‘قائد اعظم ؒ پر قاتلانہ حملہ ’’ کے مصنف بیرسٹر اکبر اے پیر بھائی لکھتے ہیں کہ غلامی اور کسمپرسی کے بھیانک دور میں ہندوستان کے سیاسی اُفق پر ایک ایسا شخص نمودار ہُوا جسکا نام محمد علی جناح ؒ تھا۔ قائد اعظم ؒنے ہندو مسلم اتحاد کیلئے انتھک کوششیں کیں اور پھر اُن کی زندگی میں ایک نئی سوچ و فکر نے جنم لیا جسکی بنیاد مسلمانوں کے دینی، فکری اور اسلامی سیاسی و ثقافتی نظریہ حیات کا تحفظ اور ایک الگ اسلامی فلاحی ریاست کا حصول تھا ۔ مسلمانوں کیلئے ایک الگ وطن کے حصول پر اُن کے اٹل اور ناقابلِ ترمیم و تنسیخ فیصلے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی پر شکستہ قوم کو پر افشاں کرنے کیلئے قائد اعظم ؒکیسی کیسی پُر پیچ ، پُر آشوب ، پُر آبلہ ، پُر خطر اور پُر غم گھاتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ پھر بھی رزم ہو یا بزم وہ کردار کی پختگی سے ہی سر بلند ہوتے رہے۔ اِس حد تک کہ اُن پر قاتلانہ حملے کی سماعت والے جج مسٹر جسٹس بلیڈان اِن کی شہادت کے بعد جیوری کے سامنے یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوا :
‘‘اس مقدمے میں اصل گواہ مسٹر جناح ہیں ۔ آپ اور صرف آپ ہی فیصلہ کرنے والے منصف ہیں کہ آیا اُن کے بیان پر یقین کر لینا صحیح ہے اور محفوظ ہے لیکن مجھے یہ کہنے میں ذرا بھر تامل نہیں کہ عمر بھر کے تجربے میں مَیں نے کبھی ایسا گواہ نہیں دیکھا جو مسٹر جناح سے بڑھ کر شک و شبے سے بالا اور سچا ہو’’ قائد اعظم ؒپر قاتلانہ حملہ کرنیوالا بھی ایک مسلمان رفیق صابر مزنگوی مزنگ لاہور کا رہنے والا اور علامہ عنائت اللہ مشرقی کی جماعت خاکسار تحریک کا رکن تھا ۔ رفیق صابر کو قائد اعظم ؒکے قتل پر آمادہ کرنیوالے پاکستان مخالف مسلم قائدین تھے مگر اللہ نے اُن کی یہ چال ناکام بنا دِی ۔ رفیق صابر 26جولائی 1943ء کے دِن قائد اعظم ؒکی رہائش گاہ مالا بار ہلز بمبئی پہنچا اور زبردستی اُن کے دفتر میں داخل ہوا ۔ رفیق صابر نے خنجر سے قائد اعظم ؒکی شہ رَگ پر حملہ کیا مگر پستہ قد ہونے کی وجہ سے اُن کے گلے تک نہ پہنچ سکا ۔ قائد اعظم ؒنے فوراً ہی اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔ مگر پھر بھی ٹھوڑی پر زخم آگیا۔ قائد اعظم ؒنے اپنے سیکرٹری کی مدد سے اُسے نہتا کیا اور بمبئی پولیس کے حوالے کر دیا۔
جناب زیڈ اے سلہری لکھتے ہیں کے علامہ مشرقی سمیت کسی کانگرسی اور پاکستان مخالف لیڈر نے نہ تو افسوس کا اظہار کیا اور نہ ہی اس واقع کی مذمت کی۔ لکھتے ہیں کہ لاہور میں احتجاج کے دوران انگریز سرکار کے حکم پر حکومت پنجاب نے خاکساروں پر شدید فائرنگ کی جس کی وجہ سے تحریک کے درجنوں لوگ مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ سنکر قائد اعظم ؒلاہور آئے اور حکومتی بربریت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔ آپ نے ہسپتالوں اور گھروں میں جا کر زخمیوں کی عیادت کی اور مرنے والوں کے خاندانوں سے اظہارِ افسوس کیا ۔ آپ نے لیگی وکلا کو ذمہ داروں کیخلاف قانونی کاروائی کیلئے ہدایات دیں اور متاثرین کیلئے امداد کا بھی اعلان کیا۔
بد قسمتی سے ظلمت کدہ ہند کے اُفق پر نمودار ہونے والا یہ ستارہ پاکستان کے معرض ِ وجود آنے کے بعد جلد ہی غروب ہو گیا۔ قائد اعظم ؒکی رحلت کے بعد پاکستان مخالف قوتوں کے آلہ کار اس کے مالک و مختار بن گئے اور پاکستان کو مافیائی سیاست کا مرکز بنا دیا۔
قائداعظم ؒ
پرانی پوسٹ