میرے بچپن کے زمانے میں میری رسائی کوٹلی سے لاہور تک تھی۔ والد محترم مولوی محمد عزیز (مرحوم) ریلوے پولیس میں ملازم تھے اور بڑے بھائی جان (مرحوم) راجہ ذوالقرنین خان پولیس اکیڈیمی والٹن لاہور میں پڑھتے تھے۔ میرے چھوٹے بھائی محمد یوسف کی پیدائش بعد میں ہوئی۔ وہ ایک سال کا تھا جب والد محترم ؒ سرائے عالمگیر اور جگو ھیڈ کے درمیان بس کے حادثے میں فوت ہو گئے ۔ بس جہلم سے میرپور آتے ہوئے اپر جہلم کینال میں گِر گئی۔ صبح کا وقت اور سردیوں کا موسم تھا۔ قریبی گاوٗں کے لوگ بھی ابھی بیدار نہ ہوئے تھے۔ حادثے کی وجہ کیا تھی کسی کو پتہ نہ چلا چونکہ ڈرائیور سمیت مسافروں میں سے کوئی زندہ نہ بچا۔ والدہ پینشن لینے جہلم جاتیں تو ہمیں وہ بس بھی دکھلاتیں جو جہلم کچہری میں تھانے کے احاطے میں عرصہ تک کھڑی رہی۔
والد صاحب کے ساتھ ہم کچھ عرصہ لاہور رہے۔ تب میں سکول تو نہیں جاتا تھا مگر والد صاحب کے ساتھ لاہور کی خوب سیر کی۔ ایک اتوار کو بھائی صاحب ہمیں ملنے آتے اور دوسرے اتوار کے دِن میں اور ابو جی اُنھیں ملنے والٹن جاتے تھے۔ ہمارے گھر کے قریب ہی ریلوے اسٹیشن تھا۔ میں ابو جی کیساتھ خوشی سے دوڑتا ہوا پولیس پریڈ گراونڈ سے گزرتا ریلوے اسٹیشن جاتا اور وہاں سے ٹرین میں بیٹھ کر ہم والٹن ریلوے اسٹیشن اُتر جاتے۔ راستے میں ابو جی بھائی کیلئے پھل خریدتے ۔ والٹن ریلوے اسٹیشن پر اُتر کر میں کچھ دیر رکنے کا کہتا تو والد صاحب مجھے بینچ پر بٹھا دیتے۔ قریب ہی ایک وسیع گراونڈ میں فوجی بینڈ کی دُھن پر کوئی نہ کوئی یونٹ ڈرل کر رہی ہوتی تو ابو جی بتلاتے کے یہ پنجاب رجمنٹ ہے۔ میں کہتا ابو جی میں بھی بڑا ہو کر فوجی بنوں گااور یہاں آکر پریڈ کرونگا۔جب آپ مجھے دیکھنے آئیں گے تو اس بینچ پر بیٹھ جانا ، میں آپ کو پہچان لونگا۔
جب فوجی پریڈ کرتے ہوئے سامنے سے گزر جاتے تو ہم اُٹھ کر والٹن اکیڈیمی کی طرف چل دیتے۔ ابو جی کہتے پہلے تم نے پڑھنا ہے ، قرآن حفظ کرنا ہے اور پھر فوجی بننا ہے۔ وقت گزر گیا۔ ابو جی انگلی چھڑا کر چلے گئے۔ ہم واپس اپنے گاوٗں آگئے۔ بھائی جان میٹرک تک وہاں رہے اور پھر رزق کی تلاش میں گیمن پاکستان سے وابستہ ہوئے اور جب اُن کے بچے باروزگار ہوئے تو خدمت خلق کیلئے واپس گاوٗں آگئے۔ محمد یوسف بچپن میں ہی ماموں کے ہمراہ انگلینڈ چلا گیا۔ عرصہ تک میرا سفر گاوٗں سے جہلم تک رہا جہاں ہم ہر دو یا تین ماہ بعد پینشن لینے جاتے تھے۔ کبھی کبھی ایک ماہ بعد بھی چلے جاتے۔ یہ سب گھریلو ضرورتوں کے سفر تھے جو ہر کسی کو درپیش آتے ہیں۔
میں والدہ محترمہ اور چھوٹے بھائی کے ہمراہ دوبار کوٹلی بھی گیا۔ تب کوٹلی تحصیل اور فوجی چھاونی تھی۔ یہ ایک چھوٹا سا دیہاتی قصبہ تھا۔ شہروں والی کوئی سہولت نہ تھی۔ نہ بجلی، نہ پانی اور نہ ہی رہائش کیلئے کوئی ہوٹل ۔ پہلی بار ہم والد محترم کی وفات کے بعد فوتگی انتقال کیلئے گئے۔ تب وکیلوں کا بھی کوئی نام و نشان نہ تھا۔ کوٹلی جانے میں دو دِن اور واپسی پر بھی دو دِن لگے مگر ایس ڈی ایم جو نائب تحصیلدار ہوتا تھا کی عدالت میں صرف دو گھنٹے سے کم وقت لگا۔ راجہ سرور پٹواری نے نائب تحصیلدار کے سامنے ہمیں پیش کیا اور والدصاحب کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اُن کے سامنے رکھا۔ نائب تحصیلدار نے اسپر کچھ لکھا تو ہم باہر آگئے۔ کچہری میں بھی سارے دفتر کچے ہی تھے چھتیں اونچی تھیں جو ڈوگرہ دور میں تعمیر ہوئیں تھیں ۔ سرور صاحب نے اندراج انتقال کے بعد ایک نقل ہمیں دِی اور کوٹلی سے میرپور جانے والی بس پر بٹھا دیا۔ راستے میں ہم جراہی اڈے پر اُتر گئے ۔ شام تک پیدل چلتے پراہی کے مقام پر صوبیدار کرم داد صاحب کے گھر رکے اور دوسرے روز گھر آ گئے۔
دوسری بار ہم زمینوں کا معاوضہ لینے کوٹلی گئے اور تیسری بار میں اکیلا ریاست باشندہ سرٹیفکیٹ بنوانے کوٹلی گیا۔ تب تک کوٹلی اور کوٹلی تک سفر میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی۔ سرکاری ملازمین پر شاید تب تک ڈوگروں کا رعب تھا۔ رشوت عام نہ تھی ۔ سرکاری ملازمین باوقار اور قوانین کا احترام کرنیوالے تھے۔ میں والد صاحب کے فوتگی انتقال کی نقل لیکر کوٹلی راجہ اکرم صاحب مرحوم (سابق سینئر وزیر حکومت آزادکشمیر) کے پاس گیا تو وہ مجھے لیکر ایس ڈی ایم کے دفتر آ گئے۔ ایس ڈی ایم نے پوچھا آپ کو پُشیتنی سرٹیفکیٹ کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے بتایا کہ میں فوج میں کمیشن کیلئے سلیکٹ ہو گیا ہوں ۔ اُنھیں جی ایچ کیو کا لیٹر دِکھایا جس پر لکھا تھا کہ جتنا جلدی ہو سکے سرٹیفکیٹ جی ایچ کیو میں جمع کروا دیں تا کہ آپ کو پی ایم اے جانے کی انسٹرکشن بھجوائی جائیں ۔ لیٹر پر میجر سرور جدون کے دستخط تھے۔ ایس ڈی ایم نے لیٹر دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور جلدی سرٹیفکیٹ بنوا کر مجھے دیا۔ والد محترم کی خواہش کے مطابق میں حافظ قرآن تو نہ بن سکا اور نہ ہی ڈھنگ سے تعلیم حاصل کی ۔ البتہ خاندانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے فوجی بن گیا۔
گزشتہ مضمون میں میں نے جہاد آزادی کشمیر کے متعلق لکھا تھا کہ کس طرح اِس جہاد کو مفاد پرست جعلی جہادیوں اور اقتدار کے بھوکوں نے ناکام کیا اور پھر ایک سوچے سمجھے منصوبے اور پراپیگنڈے کے تحت پچھتر سالوں سے اسے وسیلہ روزگار بنا رکھا ہے۔ اگر کوئی کشمیری دانشور برادری ازم اور مفاداتی سیاست کا چوغہ اُتار کر صاف نیت اور علمی قابلیت کی قوت سے مغلوں، سکھوں اور ڈوگروں کے ظالمانہ ، سفاکانہ اور درندگانہ نظام حکمرانی کا موجودہ فرسودہ نظام سے موازنہ کرے تو بیان کردہ جبری حکومتی ادوار اور جاری برادری جمہوری نظام کو ایک جیسا ہی تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا۔ اگر 1947ء میں ریاست جموں و کشمیر آزاد ہو جاتی تو اس کا رقبہ موجودہ پاکستان سے کئی گنا زیادہ تھا۔ کارگل، لداخ ، زنسکار، اکسائی چن اور وادی گلوان کی سرحدیں چین تبت اور نیپال تک پھیلی تھیں ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی تصنیف…..
‘‘ Kashmir Jammu and Ladakh the Trefoil land’’ مارگریٹ اینڈ رولف شٹلر کی ‘‘ کشمیر ، لداخ اور زنسکار’’ غلام رسول گلوان کی ‘‘Servant of Sahibs: A Book to be Read Aloud’’ پیٹر ھوب کرک کی ‘‘فارن ڈیولز آن سلک روٹ’’ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہزاروں سالہ تہذیبی، ثقافتی اور عالمی عسکری ، جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کی حامل ریاست کشمیر کی عالمی اور علاقائی سطح پر کیا اہمیت تھی جسے ہمارے کاغذی مجاہدین نے پونچھ کے خشک بتاڑ نالے میں ڈبو کر ڈھائی اضلاع کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ ، فوتگی انتقال کی نقل اور معاوضہ وصول کر لیا۔ ہمیں تو والد محترم کی سرکاری خدمت کے بدلے میں پینشن ملتی رہی مگر کشمیری یتیموں کی دُنیا بھر میں کوئی شنوائی نہیں ۔ ایک طرف مودی کا ظالمانہ نظام ہے اور دوسری طرف کرپٹ ، نو دولتیے ، سفاک و عیاش مافیائی نظام کے پر چارک حکمران ہیں ۔
گورنمنٹ مڈل سکول دیوتا گولہ میں گزرے تعلیمی دور کی کہانی بھی فاروق عبداللہ کے ٹری فوئل کی طرح ہے۔ مفاداتی صحافت اور جعلی جمہوری بچوں کو لوٹ مار اور نفرت کی سیاست کے علاوہ کچھ سوجھتاہی نہیں اور نہ ہی ان کاخاندانی پس منظر ایسا ہے کہ وہ شعوری اور عقلی قوتوں کا مظاہرہ کریں یا عام لوگوں کی طرح سوچ و فکر کے مرتکب ہوں ۔ اِن کے صلح کار اور صاحبان اقتدار بھی ایسے ہی ہیں جن کی خدمت گزاری اور جی حضوری کے صلے میں اِنھیں مغلوں ، سکھوں اور ڈوگروں کی جانشینی کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے۔
غلام رسول گلوان کی طرح یہ بھی پاکستانی سیاسی صاحبان کے غلام ہیں ۔ لیفٹینٹ کرنل ینگ ہاسبنڈ کی بیگم نے گلوان کی کتاب پر تبصرہ لکھا ۔ وہ لکھتی ہے کہ غلام رسول بڑا محنتی ، خوددار اور جفا کش تھا۔ اُس کے صاحبان امریکی اور برطانوی سفارتکار ، مہم جو، خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدیدار اور نامور لوگ تھے۔ شاید آنیوالے دور میں کوئی حامد میر، عرفان صدیقی، سہیل وڑائچ ، حسن نثار یا شامی آزاد کشمیر اور پاکستان کے گلوانوں کی سچی تاریخ لکھ جائے کہ 1947ء کے بعد اِن گلوانوں نے ملکی اور غیر ملکی صاحبان کی کیسے خدمت کی اور چانکیہ نیتی میں بھارتیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ ان گلوانوں نے نسل در نسل غلامی کا طوق گلے کا ہار اور عزت کا معیار بنائے رکھا۔ اسلام کے نام پر میکاولین سوچ و فکر کی تقلید کرتے رہے اور قوم کو بد حال اور ملک کو کنگال کیا۔
فاروق عبداللہ کا ٹری فائیل آزاد کشمیر اور ان کے صاحبان کے ٹری فائیل کا ہم نام تو ہے مگر کردار و خصلیات کے لحاظ سے الگ ہے۔ یہ ٹری فائل بھی تین شاخہ ہی ہے مگر اِس میں قدرتی حسن ، رعنائی اور دِل کو موہ لینے والی کوئی خصوصیت نہیں ۔
اِس ٹری فائیل کی پہلی شاخ کرپشن ، دوسری لاقانونیت اور تیسری انسان دُشمنی اور نفرت ہے ۔ نفرت اور تقسیم کی شیطانی سیاست کا آغاز شیخ عبداللہ نے کیا اور پھر 1947ء کے بعد اِس کے پیروکاروں نے اسے اپنا رکھا ہے۔ جہاد کشمیر 1947ء کی ناکامی مفاد پرستانہ سیاست اور عالمی سازش کا نتیجہ تھی۔ اس سازش کے مہرے آج بھی متحرک ہیں اور مفاد پرست ٹولہ اب مافیا کی صورت میں حکمران ہے۔ ژون گجری کی تصویر والا کلنڈر اور اشتہار بھارت میں لاکھوں میں بکتا ہے اور مجاہدہ حسین بی بی شہید (ستارہٗ جراٗت) اور لیفٹینٹ راجہ مظفر خان شہید (ستارہ جراٗت دوبار) کے ناموں سے کسی کو واقفیت ہی نہیں ۔
جہاد کشمیر 1947ء کی وقتی کامیابیوں اور مستقل ناکامیوں کا سچائی سے تجزیہ کیا جائے تو ہری پور ضلع بھمبھر جہاد کشمیر کا درہ دانیال اور پونچھ واٹر لو تھا۔
گورنمنٹ مڈل سکول دیوتہ گولہ اور ہری پور کے ذکر کے ساتھ دو اہم شخصیات کا ذکر کیے بغیر آگے چلنا مشکل ہے۔ میرے اس سکول کے ایک جانب شہید کشمیر لیفٹینٹ راجہ مظفر خان شہید (ستارہ جراٗت دوبار) اور دوسری جانب جناب مولوی عبداللہ صاحب مرحوم آسودہ خاک ہیں ۔
(جاری ہے)
یہ اُن دِنوں کی بات ہے-20
پرانی پوسٹ