اتنے میں کسی مورچے سے آذان کی آواز آئی اور ساتھ ہی میرے گاوٗں کے دو آدمی رنگ خان اور نور محمد میرے پاس آئے اور کہا کہ ٹیکری کے نیچے نمبردار محبت خان ، رائے خلیل خان اور محمد اکبر مجاہدین کیلئے کھانا لا کر بیٹھے ہیں ۔ میں کھانا تقسیم کرنے نیچے چلا گیا تو دشمن کی شدید فائیرنگ کے باوجود کچھ مجاہدوں نے با جماعت نماز ادا کرنا شروع کر دی۔ دشمن کے پائیلٹ نے حرکت دیکھ کر فائیر شروع کر دیا جس کے نتیجے میں تین نمازی شہید اور کچھ زخمی ہو گئے۔
دشمن کی شدید گولہ باری کی وجہ سے زخمیوں اور شہیدوں کے انخلاء میں رکاوٹ تھی مگر ہمارا دایاں بازو مضبوط تھا۔ اسطرف سے بروقت غلافی فائیر کا انتظام ہوا تو دشمن بھاگ کر مورچوں میں چلا گیا۔ اسی اثنیٰ میں مشین گن گروپ نے جہاز کو بھی نشانے پر لے لیا جو دھواں چھوڑتا ہوا بیری پتن کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ۔ جہاز گرنے کے بعد فائیرنگ میں وقفہ ہوا تو ہم نے شہیدوں اور زخمیوں کو اُٹھا کر پیچھے ہیڈ کوارٹر میں بھجوانے کا بندوبست کیا مگر بد قسمتی پھر ہمارے آڑے آگئی۔ اتنی قربانیوں کے بعد فتح کیا ہوا یہ اہم مقام ایمونیشن کی شدید کمی کی وجہ سے ہمیں خالی کرنا پڑا۔ طویل اور بھرپور کاروائی کے بعد پتہ چلا کہ ایمونیشن تقریباً ختم ہونے والا ہے۔ دشمن نے جوابی حملہ کیا تو ہم اپنا دفاع بھی نہیں کر سکیں گے جبکہ ایمونیشن کا کنٹرول پاک فوج اور آزاد آرمی کے پاس گلپور اور دیگر دور مقامات پر تھا جس پر ہماری کوئی دسترس نہ تھی۔
ہمارے انخلاء کے بعد دشمن نے جھنگڑ اور متلاسی میں پختہ بنکر بنانے شروع کر دیے چونکہ متلاسی کو بھارتی جرنیل نے درہ دانیال قرار دے رکھا تھا۔
متلاسی تیرتھ کی ہندووٗں کے نزدیک مذہبی اہمیت بھی تھی۔ یہاں عرصہ سے ایک سادھو دھونی جمائے بیٹھا تھا جس کے پاس بے اولاد عورتیں بچے کی خواہش لیکر آتی تھیں ۔ سادھو کی شہرت سنکر سور گباشی مہاراجہ بہادر بھی بچے کی خواہش لے کر آئے مگر مہاراجہ کی آمد کا سنکر سادھو جنگل میں چھپ گیا۔ سادھو فراڈ اور بد کار تھا۔ وہ عام عورتوں کے ساتھ تو تخلیہ کر لیتا تھا مگر مہارانی کو تخلیے میں بٹھانا جان سے جانے کے مترادف تھا۔
مہاراجہ کچھ دیر تک متلاسی میں رُکا اور پھر مایوس ہو کر براستہ جہلم جموں چلا گیا ۔ ڈوگروں کو یقین تھا کہ سادھو کی آتما اُنھیں سرخرو کرے گی اور متلاسی تیرتھ پر مجاہدین ناکام رہینگے۔ ہماری ناکامی کی وجہ سادھو نہیں بلکہ اپنوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور تحریکِ آزادی سے عدم دلچسپی تھی۔ ایک طرف بھارتی فوج تھی اور دوسری جانب بے سروسامان مجاہدین جن کے پاس نہ پہننے کو موسم کے مطابق وردی، نہ کھانے کیلئے راشن اور دوسری طرف ایک تربیت یافتہ جدید ہتھیاروں سے لیس کئی گنا بڑی فوج جسکا مقابلہ کرنے کیلئے ایمونیشن کی بھیک مانگی جاتی تھی ۔ ایک طرف ڈھونگی سادھو تھا تو دوسری طرف اللہ پر بھروسہ کرنیوالے مجاہد تھے جنکا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ پچھلے روز کی شدید لڑائی کے دوران دیر سکاوٗٹ کے سپہ سالار شدید زخمی حالت میں پیچھے بھجوا دیے گئے۔ آج رات جب ایمونیشن کی کمی کی وجہ سے واپس آئے تو دیر سے نوجوان اور حوصلہ مند میجر تیمور خان تشریف لائے ۔ اُن کی آمد پر تحصیلدار حضرت علی صاحب کو سپہ سالار مقرر کیا گیا اور میجر تیمور صاحب نے ہمارے ساتھ شامل ہو کر منصوبہ بندی کا کام شروع کر دیا۔ اُن کے آتے ہی ہم نے تمام محاذوں کا جائزہ لیا اور میں نے اُنھیں دشمن کی مورچہ بندی اور ممکنہ تعداد سے واقفیت دلائی۔ فیصلہ ہوا کہ کیوں نہ دشمن کے خلاف ایک بھرپور کاروائی کے بعد اسے پسپائی پر مجبور کیا جائے۔ خیال تھا کہ ہماری فتح کی صورت میں جنگ پر بڑی تبدیلی آ جائے گی اور ہمارے ہمدرد ہمیں اسلحہ و ایمونیشن کے علاوہ افرادی قوت سے ہماری پوزیشن مضبوط بنائینگے۔ تدبیراتی اور تجویزاتی لحاظ سے بھارتی جرنیل نے اس محاذ کو درہٗ دانیال قرار دے رکھا تھا۔ اِس محاذ کی کامیابی اور مضبوطی کے اثرات بانیال سے تبت تک پڑنے تھے مگر ہمارے اعلیٰ ذھنوں میں شدید خلفشار تھا ۔ کشمیر کی آزادی کو بے اہمیت اور بے وقعت تصور کئے بیٹھے تھے ۔ ایک طرف کشمیر جل رہا تھا اور ہم اِس آتش عشق کا ایندھن تھے جبکہ ہمارے بھائی اور بظاہر ہمدرد و غم گسار امن و چین کی بانسری نہیں بلکہ بین بجا رہے تھے ۔
میجر تیمور صاحب نے وقت ضائع کیے بغیر جھنگڑ پر حملے کی منصوبہ بندی تیار کی جسے میری مشاورت کے مطابق حتمی شکل دی گئی ۔ مشاورت میں آزاد فوج کے کیپٹن اعظم خان بھی شامل تھے مگر حملے سے پہلے ہی وہ سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بوجہ میرپور چلے گئے ۔ ایک طرف آزاد فوج کے آزاد منش افسر اور جوان تھے اور دوسری طرف دیر سکاوٹ کے غازی اور مجاہد تھے جنھوں نے گزشتہ کاروائی کی کامیابی کو ناکامی میں بدلتے دیکھ کر کھانا چھوڑ رکھا تھا۔ وہ تہیہ کیے ہوئے تھے کہ بھارتی فوج کا غرور خاک میں ملا نا ہے ۔ اُس کے ٹینکوں ، ہوائی جہازوں اور دیگر بھاری اور جدید اسلحہ کی قوت کو برباد کر کے جھنگڑ کا مضبوط قلعہ توڑ کر نوشہرہ اور متلاسی تیرتھ پر اسلام کا جھنڈا لہرانا ہے۔
سپہ سالار صاحب اور میجر تیمور خان صاحب نے 23دسمبر 1947ء کی رات تین بجے فورس کو مقررہ جگہ پر جمع کیا اور میرے مشورے سے اسے جنگی ترتیب کے مطابق تقسیم کرتے ہوئے اُنھیں ھدف الاٹ کیئے ۔ دو پلاٹون نفری نائب سپہ سالار کی کمان میں جنوبی پہاڑیوں کی طرف سے مکڑی اور متلاسی کیلئے مقرر ہوئی ۔
ایک پلاٹون زیر کمان صوبیدار نذر گل سامنے سے حملے کیلئے چُنی گئی جس کے ہمراہ میں نے خود جانے کا فیصلہ کیا ۔ دیگر فورس صوبیدار اِمروز خان کے زیر کمان پشت پر رکھی گئی۔ میجر تیمور صاحب بھی اس میں شامل ہوئے تاکہ بوقتِ ضرورت درست فیصلہ کرتے ہوئے سامنے سے حملہ کرنے والی فورس کی مدد کی جاسکے ۔ میجر صاحب نے مارٹر پوزیشن لگائی اور مشین گنوں کو دشمن کے مورچوں پر فِکس کیا۔
مقررہ وقت پر میں صوبیدار نذر گل کی فورس کے ہمراہ اللہ کا پاک نام لیکر دشمن کی جانب چل پڑا اور سڑک عبور کرتے ہوئے تقریباً ڈھائی سو گز کے فاصلے پر پوزیشن سنبھال لی۔ ہماری پشت پر صوبیدار اِمروز خان بھی اپنی جگہ پر پہنچ گیا۔ اِس وقت صبح کے پانچ بجے تھے مگر دشمن کو ہماری خبر نہ ہو سکی حالانکہ یہ سٹینڈ ٹو کا وقت تھا جب دشمن انتہائی چوکس اور جنگی حالت میں ہوتا ہے ۔ صوبیدار محمد اشرف خان اور جناب محمد رشید بھوپالی جنکا تعلق آئی این اے سے تھا ہمارا ساتھ دینے کا عزم کر رکھا تھا۔ دونوں غازیوں نے دشمن پر کارگر مارٹر فائیر گرا کر اسے ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ مشین گن پوزیشنوں سے میجر صاحب اور سپہ سالار صاحب نے بہترین غلافی فائیر مہیا کیا تاکہ حملے سے پہلے دشمن سنبھل نہ سکے ۔ دشمن حملے سے پہلے انتہائی بے فکر تھا اور اس کے جوان مورچوں سے نکل کر رفع حاجت کے لیے جا رہے تھے ۔
پہلے مورچے پر حملہ ہوتے ہی دشمن نے برین گن اور مشین گن کا فائیر شروع کر دیا ۔ دشمن کا فائیر ہوتے ہی مجاہدین نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور دشمن پر یلغار شروع کر دی ۔ دیری مجاہدین جدید اسلحہ کا استعمال کم جانتے تھے ۔ اُن کے پاس درہ میڈ ایک گولی والی رائفل اور روائیتی ہتھیار تلواریں تھیں ۔ پندرہ منٹ تک بہترین گولی چلی اور پھر غازیانِ اسلام شوقِ شہادت سے لبریز تلواریں لیکر دشمن کے مورچوں میں کود گئے ۔ آج معرکہ بدر کا سماں تھا۔ اللہ اکبر کی صداوٗں سے پہاڑ گونج رہے تھے اور غازیوں کی تلواریں چمک رہی تھیں ۔ دشمن نے اندھا دھند فائیر کیا مگر غازیوں کا حوصلہ بڑھتا ہی گیا ۔ آخر تنگ آکر دشمن نے ہتھیار پھینک دیے اور قریبی گاوٗں میں پناہ لی جہاں اُسکا کمپنی ہیڈ کوارٹر تھا۔
دشمن نے مکانوں کی دیواروں میں سوراخ کیے اور مجاہدین پر فائیر شروع کر دیا ۔ اِس فائیر کی وجہ سے دو مجاہد شہید اور تین زخمی ہو ئے ۔ صوبیدار نذر گل صاحب نے دشمن کو ہتھیار ڈالنے اور گاوٗں سے بحفاظت باہر آنے کی پیش کش کی مگر دشمن نہ مانا۔
دشمن کے انکار کے بعد غازیوں نے گاوٗں کو آگ میں جھونک دیا۔ آگ کے عذاب سے بچکر جو باہر آتا وہ مجاہدین کی تلواروں سے کٹ کر واصل جہنم ہو جاتا۔
متلاسی پر ہماری جانب سے نعرہ تکبیر بلند ہوا تو میجر تیمور صاحب اور سپہ سالار صاحب نے کمال ذھانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مارٹر اور مشین گنوں کا رُخ جھنگڑ کیمپ کی طرف کر دیا۔
فائیری مستقر لگانا مہارت اور ذھانت کا کام ہے ۔ بسا اوقات نا تجربہ کار اور نا اہل کمانڈر کے غلط فیصلے سے اپنی ہی سپاہ فائیر کی زد میں آ جاتی ہے ۔ فائیری مستقر اگر موزوں جگہ اور درست فاصلے پر ہو تو مستقر کمانڈر متبادل جگہ پر جائے بغیر ایک ہی جگہ سے اپنی سپاہ کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے مختلف اھداف کا سر دبانے اور دشمن کے ہتھیاروں کو بے اثر کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔
جونہی ہم نے متلاسی تیرتھ پر کنٹرول حاصل کیا فائیری مستقر نے جھنگڑ پر شدید فائیرشروع کر دیا۔ اسی اثنٰی میں کیپٹن محمود کی پارٹی نے جھنگڑ پر حملہ کر دیا جسے پنڈار کی جانب سے آزاد آرمی کے کمانڈر رانا صاحب نے حفاظتی فائیر مہیا کیا۔
متلاسی ، سریاہ اور جھنگڑ پر انتہائی ربط، تحمل اور تیار شدہ حکمتِ عملی کے تحت یلغار کی گئی جو جنگی تاریخ اور کمانڈروں کی جنگی حکمتِ عملی کا اعلیٰ ثبوت ہے۔ کیسا عجیب منظر تھا۔ ایک طرف جدید اسلحہ ، ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں، دوسری عالمی جنگ لڑنے کا تجربہ رکھنے والی فوج اور لڑاکا ائیر فورس جسکا مقابلہ درہ میڈ رائفلوں اور دیری مجاہدین نے تلواروں سے کیا۔
یہ سب کاروائی ڈیڑھ گھنٹے میں مکمل ہوئی ۔ آج اللہ کی مہربانی سے ہمیں دشمن کا چھوڑا ہوا راشن ، ایمونیشن ، بھاری ہتھیار اور دیگر جنگی سازوسامان بڑی مقدار میں ملا جو اگلی کاروائی کے کام آئے گا۔ اس معرکہ میں جمعدار جلال خان ، عزیزم ھدایت اللہ خان ولد اللہ دتہ خان آف تھروچی نے زبردست کام کیا۔ اللہ اُنھیں دُنیا اور آخرت میں سرخرو کرے۔
اسی آپریشن کے دوران جب میں نے متلاسی میں واقع درختوں والی پوزیشن پر حملہ کروایا تو دشمن نے پسپائی اختیار کی۔ پیچھے سے زبردست فائیر آ رہا تھااور دشمن بھاگ رہا تھا۔ وہ مکانات جنھیں مجاہدین نے آگ لگا رکھی تھی کے قریب پہنچا تو دشمن کے فائیر کی زد میں آگیا ۔ گولی میرے دائیں بازو کو لگی اور پٹھے کو چیرتی ہوئی باہر نکل گئی۔ خُدا کا شکر ہے کہ ھڈی بچ گئی۔ آدھ گھنٹے تک تو میں نے کوئی پرواہ نہ کی مگر خون بہنے سے کمزوری محسوس کرنے لگا۔ حوالدار خداداد خان پشاوری نے فوراً پٹی باندھ دی تو طبعیت سنبھل گئی۔ اس مورچے سے دشمن کا ایک زخمی مسلمان سپاہی دین محمد گرفتار ہوا۔ زخمی سپاہی نے بیان دیا کہ نذرِ آتش کیے گئے مکانوں میں ہمارا کمپنی ہیڈ کوارٹرتھا جہاں دو سے زیادہ کمپنیوں کی نفری موجود تھی جن کی کمان دو میجر کر رہے تھے جو جل کر مر گئے ہیں ۔ اس نے بتایا کہ اس کا تعلق 16/8 انڈین یونین رجمنٹ سے ہے۔ اور ۱/2 راجپوتانہ رائفل بھی اسی محاذ پر لڑ رہی ہے۔ اُس نے یہ بھی بتایا کہ ہماری ایک بٹالین مکمل تباہ ہو چکی ہے اور دوسری بٹالین کے کافی جوان مر چکے ہیں یا پھر زخمی ہیں ۔ اگر آپ آج حملہ نہ کرتے تو 24اور 25کی درمیانی شب ہم نے آپ پر ایک بریگیڈ کی قوت سے حملہ کرنا تھا۔ نوشہرہ چھاونی میں ہماری دو انفنٹری اور ایک آرٹلری رجمنٹ جمع ہو چکی ہے جسکا کمانڈر مسلمان بریگیڈئیر محمد عثمان خان ہے۔
زخمی سے بیان لینے کے بعد اُسے آزاد آرمی کے حوالے کیا گیا تا کہ اُسکا علاج ہو سکے۔
اسی اثنٰی میں سپہ سالار حضرت علی اور میجر تیمور صاحب میرے پاس پہنچے اور مبارک باد دی ۔ کیا عظیم جذبہ ہے ۔ یہ لوگ میری ھدایات پر میرے ہی وطن کیلئے لڑرہے ہیں اور مشکور و احسان مند بھی ہیں ۔ اللہ اِن پر اپنا سایہ رحمت ہمیشہ قائم رکھے۔
آگے لکھتے ہیں کہ دشمن کا بھی شکریہ ۔ بھارتیوں کو پتہ چل گیا تھا کہ مجاہدین کے پاس نہ اسلحہ و ایمونیشن ہے اور نہ ہی راشن ہے ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ جھنگڑ میں ہمارے لیے ہر قسم کا جنگی سازوسامان وافر مقدار میں چھوڑ کر بھاگ گیا ہے ۔ جھنگڑ سے بھاگنے والی بھارتی سپاہ نے نوشہرہ کا راستہ لیا تو کلیسان کے مقا م پر کچھ آفریدی اور محسود قبائل آزاد آرمی کے صوبیدار فرمان علی خان، واجد دین اور فقیر محمد خان کی پارٹی کے ساتھ مل گئے ۔ اس پارٹی نے بھاگنے والوں کو گھات میں لیکر گنگا کی راہ دکھائی۔ اس اچانک معرکے کی کامیابی سے بھی کافی تعداد میں ہتھیار میسر آگئے۔
اِس جھڑپ سے ہمارا پیارا اور بہادر مجاہد سید گل شہید ہوا۔ ہمارا اگلا ھدف نوشہرہ ہے ۔ نوشہرہ میں اس وقت دشمن کی چار توپیں موجود ہیں جو انشاء اللہ جلد ہماری ہونگی ۔ اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نوشہرہ کی فتح کیساتھ اِن چار توپوں کا تحفہ بھی عنایت فرمائینگے تاکہ ہم دشمن کے غرور کو خاک میں ملا سکیں ۔
(جاری ہے)