Tarjuman-e-Mashriq

یہ اُن دِنوں کی بات ہے-27

ایک طرف سردار محمد ابراہیم خان صاحب اپنی وار کونسل کی مکمل منصوبہ بندی کا ذکر کرتے ہیں مگر اُنھیں بھارتی اور ڈوگرہ افواج کے پلندری سے انخلاٗ کی وجوہات کی ہی خبر نہیں تھی۔ دراصل اُن کی وار کونسل اُن ہی کے قبیلے کے افراد پر مشتمل تھی جنکی جنگی منصوبہ بندی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ ان کی منصوبہ بندی اپنے علاقے میں کامیاب رہی اور تولی پیر تک کیپٹن حسین خان شہید کی قیادت میں اچھا کام کیا۔ اصل امتحان پونچھ کا محاصرہ توڑنا اور دیگر سیکٹروں پر لڑنے والوں کو ریلیف پہنچانا تھا جہاں یہ لوگ جان بوجھ کر ناکام رہے ۔ معرکہِ دوتھان ، منگ اورچڑی کوٹ پر آزاد آرمی کا جوابی حملہ بھی قابلِ تحسین ہے مگر جس انداز سے پونچھ والوں نے پراپیگنڈہ کیا اسکا ایک فیصد بھی محاذ جنگ پر ڈیلیور نہ کر سکے۔
سردار محمد ابراہیم خان دو سوالوں کا کبھی جواب نہ دے سکے اور ہمیشہ خاموشی اختیار کی یا پھر بے بسی کااعتراف کیا۔ یہ دو سوال قبائلیوں کو جہادِ کشمیر میں دعوت دینے اور پونچھ محاذ پر پکنک منانے والے پانچ بریگیڈوں کی کارکردگی کے متعلق تھے۔ سردار شوکت حیات کی تحریر ‘‘گم گشتہ قوم’’سے صاف ظاہر ہے کہ قبائلیوں کو ایک سازش کے تحت کشمیر میں بھجوایا گیا تا کہ بھارت کو کشمیر پر قبضہ کرنے میں سہولت فراہم کی جائے۔ قبائل نے بھارتی اور ڈوگرہ افواج کے خلاف تو کچھ نہ کیا مگر آزاد کشمیر میں لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت گری کا بازار گرم رکھا۔ ‘‘کشور کشمیرکی پانچ ہزار سالہ تاریخ ’’ کے مصنف جناب جی ایم میر (مرحوم) کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین دور کے باب میں ا فغانوں اور قبائل کے چھیاسٹھ سالہ دور استبداد کے بیان میں لکھتے ہیں کہ ان 66برسوں میں 24افغان صوبیدار یکے بعد دیگرے مقرر ہوتے رہے۔ عبداللہ ایشک اقاصی جسے فاتح کشمیر لکھا جاتا ہے سراسر جھوٹ اور تاریخ کا قتل ہے۔ افغانستان میں بغاوت کے بعد احمد شاہ ابدالی نے اقتدار سنبھالا تو کشمیری رہنما میر مقیم اور خواجہ ظہیر لاہور آکر احمد شاہ ابدالی سے ملے تاکہ افغانوں کی مدد سے وہ مغلوں کے جبر کا خاتمہ کر سکیں ۔ احمد شاہ ابدالی نے یہ پیش کش پانچ لاکھ طلائی سکوں کے عوض قبول کی اور عبداللہ ایشک اقاصی کو لشکر دے کرکشمیر روانہ کیا۔ معائدے کے مطابق کشمیریوں کی بھرپور مدد و حمائت کیساتھ مغلوں کے اخراج کے بعد افغان لشکر براستہ چترال واپس کابل جانے کا پابند تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ افغان اور ملحقہ قبائل کبھی بھی وعدوں اور معائدوں کی پاسداری نہیں کرتے چاہے وہ آپسی ہوں یا بیرونی ۔
محمد دین فوق لکھتے ہیں کہ عبداللہ ایشک کشمیر میں داخل ہوتے ہی بھیڑیا صفت درندہ بن گیا۔ شاہی خزانہ لوٹ لیا اور اسے شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کر گیا۔ رعایا پر ظلم و ستم کے پہاڑ گرائے اور قتل و غارت گری کا ایسا بازار گرم کیا جسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔ 66سالوں میں جتنے افغان صوبیدار کشمیر آئے سب کے سب سفاک، ظالم اور انسانیت کے دشمن تھے۔
پتہ نہیں ہمارے تاریخ دان اور دانشور کہلوانے والے افغانوں کی تاریخ کیوں نہیں پڑھتے۔ جو کچھ افغانوں نے 1753ء سے 1819ء تک کشمیریوں کے ساتھ کیا ویسا ہی سلوک 1947ء میں افغانوں اور قبائیلیوں نے ایک بار پھر کشمیریوں کے ساتھ کیا۔ میرپور، مظفر آباد اور اوڑی کے شہر لوٹے اور آگ لگا کر بھسم کردیے۔ مہورا پاور اسٹیشن جلا یا اور عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مرتکب ہوئے۔ اوڑی تحصیل کے خزانے سے تین لاکھ کی رقم غنیمت کے طور پر اُٹھالی تو مقامی مجاہدین کے احتجاج پر اُن پر حملہ آور ہو گئے۔ قبائلی بغیر لڑے تین دن تک بارہ مولہ کے مقام پر بیٹھے رہے اور تین سکھ کمپنیوں کی سرینگر آمد کے بعد دُم دبا کر بھاگ گئے۔
ایسا ہی کارنامہ نوشہرہ کی فتح کے بعدکیا ۔ دیر اور سوات سکاوٹ نے لیفٹیننٹ راجہ مظفر خان شہید کے مجاہدین سے ملکر نوشہرہ فتح کیا تو اورکزئی لشکر نے نوشہرہ اور گردونواح کے علاقوں کو لوٹنے کے بعد واپسی کا راستہ لیا ۔ بھارتی جرنیل کو خبر ہوئی تو اُس نے ریزرو بریگیڈ کی مدد سے جوابی حملہ کیا اور نوشہرہ سمیت تمام علاقوں قبضہ کر لیا ۔
لیفٹیننٹ راجہ مظفر خان شہید نے آخری جنگ کیری کے محاذ پر لڑی ۔ 3جولائی 1948کے دن آپ نے کیری پر جوابی حملہ کیا تو مشین گن کی باڑ سے آپ کا سینہ چھلنی ہو گیا ۔ شدید زخمی حالت میں آپ کو ناڑا کوٹ صوبیدار راجہ صلاح محمد کے گھر لایا گیا جہاں آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
بدقسمتی سے جہادِ کشمیر 1947کی تاریخ لکھنے والے وہ ہی لوگ ہیں جنھہوں نے کشمیر سونے کی طشتری میں رکھ کر بھارت کے حوالے کیا۔ یوں لگتا ہے کہ تقسیمِ ہند کے کسی خفیہ خانے میں تقسیمِ کشمیر کی گھناونی سازش بھی شامل تھی جو ابھی تک پائیہ تکمیل کو نہیں پہنچی ۔ اگست 2019میں بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی جبکہ 1973ء میں ذولفقار علی بھٹو نے فاروق عبداللہ کے ذریعے شیخ عبداللہ کو پیغام بھجوا دیا تھا کہ اس وقت ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ آپ بھارتی آئین کی حدود میں رہتے ہوئے کوئی لائحہ عمل اختیار کریں ۔ اِس واقعہ کا مفصل ذکر ایس کے دلت نے اپنی تصنیف ‘‘دی واجپائی ائیرز’’ میں کیا ہے۔ جہادِ کشمیر سے بے خبری کا یہ عالم رہا کہ آزاد کشمیر کے ایک سابق صدر اور 1947ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے بنائی گئی کشمیر وار کونسل کے وزیر دفاع پیر علی جان شاہ ‘‘ملٹری سٹر گل فار کشمیر’’ میں لکھتے ہیں کہ سنا ہے کہ نوشہرہ کے علاقے میں بھی مجاہدین بھارتی اور ڈوگرہ افواج سے اچھا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ اگر کشمیر وار کونسل کے وزیر دفاع کو ہی پتہ نہیں تھا تو سردار ابراہیم خان کی معلومات افواہوں اور پراپیگنڈے تک ہی محدود ہو سکتی تھیں ۔ پیر علی جان شاہ صاحب کی دوسری تحریر ‘‘پولیٹیکل سٹر گل فار کشمیر’’ بھی ادھوری اور مختصر معلومات پر مشتمل ہے جبکہ سوائے میجر راجہ امیر افضل خان ، کرنل ایم اے حق مرزا اور کرنل حسن مرزا کے کسی بھی عسکری تجزیہ نگار نے جہادِ کشمیر کے اصل واقعات اور ناکامی کے اسباب پر کچھ نہیں لکھا۔ جنرل اکبر خان کی تحریر ‘‘ ریڈرز اِن کشمیر ’’ بھی ایک ادھوری کہانی ہے۔ جناب جی ایم میر نے قبائیلوں کی ظالمانہ کاروائیوں پر لکھا مگر بوجہ پورے واقعات نہ لکھ سکے جس کا اعتراف ساری زندگی کرتے رہے۔ جناب رضا علی عابدی نے ‘‘ اخبار کی راتیں ’’ میں جہادِکشمیر کے متعلق جھوٹی اور من گھڑت خبروں اور اِن خبروں کو شائع کرنیوالے روزنامہ جنگ کا مکمل احوال لکھا ہے ۔
1947ء کے جہادِ سے کشمیر تو آزاد نہ ہوا مگر بھارت، پونچھ کا محاصرہ کرنیوالے پانچ بریگیڈوں کے کمانڈروں ، قبائلی جتھوں اور روزنامہ جنگ کے مالکان نے سیاسی اور مالی مفادات حاصل کیئے اور مالا مال ہو گئے۔ پونچھ والوں نے بھارت کو اپنے حصے کا کشمیر سونے کی طشتری میں رکھ کر دیا اور آزاد کشمیر کے مالکانہ حقوق حاصل کرلیے۔ باغ بریگیڈ کے کمانڈر نے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی اور جب تک زندہ رہے آزاد کشمیرکے اقتدار پر قابض رہے۔ سردار ابراہیم خان نے غازی ملت کا لقب اختیار کیا اور مجاہدِ اول کے متبادل کا کردار ادا کرتے رہے ۔ قبائیلیوں نے ظلم و جبر کے صلے میں شہرت اختیار کی اور آج بھی پاکستانی سیاسی جماعتوں کے اکابرین آزاد کشمیر کی فتح کا سہرا قبائیلی درندوں کے سر سجاتے ذرہ بھر نہیں شرماتے۔ حال ہی میں جماعتِ اسلامی کے نئے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے ایک جلسہ عام میں قبائیلیوں کو کشمیریوں کے قتل اور اُن کے بچوں کو یرغمال بنا کر بیچنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ بانی پی۔ٹی۔آئی بھی ہمیشہ یہی راگ الاپتے رہے جبکہ امیر عبداللہ روکڑی نے ایک طویل اخباری بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ کشمیر کا چپا چپا اُنھہوں نے آزاد کروایا تھا ۔ چند روز پہلے پی۔ٹی ۔ آئی کے اسد قیصر نے بھی قبائیلیوں کو کشمیر بھارت کے حوالے کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا جبکہ اس سے پہلے علی امین گنڈاپور نے KPK کی اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا کہ کشمیر ہم نے آذاد کروایا جو لا علمی، جہالیت اور جھوٹے پراپگنڈے کی انتہا ہے ۔ جن لوگوں کو مسئلہ کشمیر کا پتہ ہی نہیں وہ اِس کے حل کیلئے کونسا تیر مارینگے۔ آزاد کشمیر میں پونچھ سے تعلق رکھنے والا جب بھی کوئی صدر یا وزیرِاعظم آتا یا لایا جاتاہے تو پاکستانی اخبارات خاصکر نوائے وقت میں سرخی جمتی ہے کہ ‘‘حقدار کو اُس کا حق مل گیا’’ پتہ نہیں جنرل انور اور سردار مسعود خان یا اُن کے خاندان نے کسی محاذ پر فتح کا جھنڈا گاڑھا تھا یا پھر کشمیر ان کے باپ داد کی جدی جائداد یا جاگیر تھی۔
آزاد کشمیر کے عوام حتٰی کہ اقتدار کے حقداروں کو یہ بھی معلوم نہیں کے آزاد کشمیر کس کا تجویز کردہ نام ہے اور اسکا قومی پرچم کس نے تخلیق کیا تھا۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کے اہلِ علم و سیاست کو اس فریب سے نکل کر حقیقت کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پون صدی سے زیادہ عرصہ تک بولے جانے والے جھوٹ اور پراپیگنڈہ پر مبنی تاریخ کو طوالت دینے کے جرم سے بری ہو سکیں ۔
سردار ابراہیم صاحب کی حیرت مبنی بر حقیقت تھی چونکہ وہ محاذِ جنگ پر ہونے والی کاروائیوں سے بے خبرتھے۔ پہلے گجرات کے رام پیاری محل اور پھر راولپنڈی میں ڈی اے وی کالج میں منتقل ہونے والے ہیڈ کوارٹر آزاد کشمیر ریگولر فورسز کے وزیر دفاع پیر علی جان شاہ کو بھی محاذِ جنگ پر ہونے والی کاروائیوں کی کچھ خبر نہ تھی۔ یہ ہیڈ کوراٹر نمائیشی اور صرف پونچھ والوں کے ویلفیر کا مرکز تھا ۔ وزیر اعظم پاکستان نے کبھی اِس ہیڈ کوارٹر کا دورہ ہی نہیں کیا اور نہ ہی اس کے عہدیداروں کو کبھی ملاقات کا موقع دیا ۔
دفاعی امور تو انگریزوں کے ہاتھ تھے مگر وزارتِ داخلہ اور خارجہ کو بھی کشمیر کے امور سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ سر ظفر اللہ خان کو تو کشمیر سے روحانی اور مذہبی دلچسپی تھی جو سراسر بھارت کے مفاد میں تھی مگر وزیر داخلہ مشتاق گورمانی کشمیریوں سے ہاتھ ملانا اپنی توہین سمجھتے تھے۔ اِس نوعیت کے ایک واقعہ کا ذکر جناب قدرت اللہ شہاب نے اپنی مشہور عام تصنیف شہاب نامہ میں بھی کیا ہے۔
جناب سردار ابراہیم صاحب کی حیرت کی وجہ یہ تھی کے بھارت نے اپنی جنگی منصوبہ بندی کے تحت ایک بریگیڈ پونچھ اور دوسرا کوٹلی روانہ کیا ۔ پونچھ بریگیڈ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی منزل پر پہنچ گیا مگر آئی این اے سے تعلق رکنے والے کرنل اکمل ، میجر محمد حسین اور مجاہد افسر کیپٹن عبدالحق مرزا نے بھارتی بریگیڈ کے خلاف بھرپور کاروائی کرتے ہوئے اسے پونچھ اور سرینگر گیریژن سے ملاپ کا موقع نہ دیا ۔ اکمل فورس کا خیال تھا کہ پونچھ کا محاصرہ کرنیوالے بریگیڈوں کیلئے پونچھ گیریژن کا خاتمہ کوئی بڑی بات نہیں ۔ اتنی بڑی اور جنگی لحاظ سے خود کفیل فورس کیلئے صرف دو ڈوگرہ کمپنیوں کا خاتمہ صرف چند گھنٹوں کی بات ہے مگر دوسری طرف جنگی لحاظ سے خود کفیل ایک ڈویژن سے زیادہ فوج ایکشن سے زیادہ‘‘ پراپیگیشن ’’ کو اہمیت دے رہی تھی۔ تین ماہ تک یہ فورس جی ایچ کیو راولپنڈی ، فورسز ہیڈ کوارٹر اور پاکستانی پریس کو جھوٹی اور من گھڑت خبریں فراہم کرتی رہی۔
یوں لگتا تھا جیسے یہ لوگ پونچھ گیریژن میں محصور ڈوگرہ کمپنیوں کی حفاظت کر رہے ہیں تا کہ اکمل فورس ان کا خاتمہ نہ کر دے۔ ایسا ہی احوال راجوری کا تھا۔ بھارتی بریگیڈ پونچھ اور سرینگر سے لنک اپ تو نہ کر سکا مگر موسم کھلنے کے انتظار میں راجوری جا کر بیٹھ گیا۔ اِس سیکٹر کا مکمل احوال کیپٹن عبدالحق مرزا نے اپنی جنگی ڈائیری میں لکھا ہے جسے انوار ایوب راجہ نے ‘‘لینٹھا’’ کے نام سے شائع کیا ہے ۔ اس ڈائیری کا کچھ حصہ سٹریجیکل سٹڈی سنٹر اسلام آباد نے بھی ‘‘دِی ود رنگ چنار’’ کے نام سے شائع کیا ۔
بھارتی بریگیڈ کمانڈر نے محاصرہ کرنیوالے بریگیڈوں کے چیف اور ریگولر بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈئیر اعظم خان (بعد میں جنرل) سے رابطہ کیا اور پونچھ سے زخمیوں اور بیماروں کے انخلا کی درخواست کی ۔ بریگیڈیر اعظم خان نے بغیر سوچے سمجھے بھارتی بریگیڈ کمانڈر کے جھانسے میں آکر فوراً اجازت دے کر بھارتیوں کا کام آسان کر دیا ۔ اجازت ملتے ہی جموں سے پانچ بھارتی طیارے باری باری پونچھ کی ہوائی پٹی پر اترے اور محصور ڈوگرہ کمپنیوں کو بھاری ہتھیاروں کے علاوہ تین بھارتی انفینٹری کمپنیوں سے مضبوط کر دیا۔ اِس واقعہ سے پہلے پیر پنجال فورس کے کمانڈر کرنل اکمل نے بریگیڈئیر اعظم سے درخواست کی تھی کہ وہ پونچھ گیریژن صرف تین دِن کیلئے اُن کے حوالے کر دیں اور راجوری سے پیر پنجال تک کے مفتوعہ علاقے کا دفاع چند روز کیلئے سنبھال لیں ۔ تین دِن کے اندر ہم پونچھ کو آگ میں جھونک دینگے اور اس چھچھوندر سے جان چھڑا کر سرینگر اور نوشہرہ کا رُخ کریں گے۔ کرنل عبدالحق مرزا لکھتے ہیں کہ پونچھ قربانی مانگتا تھا مگر پونچھ کا محاصرہ کرنے والے نہ خود قربانی دیتے تھے اور نہ کسی اور کو قربانی کی اجازت دیتے تھے۔ پونچھ والوں نے بھارتی بریگیڈ کمانڈر کی بات تو مان لی مگر پیر پنجال والوں کو انکار کر دیا۔
(جاری ہے)

Exit mobile version