Tarjuman-e-Mashriq

سیاہ بادلوں کا سراب- 10

ریحاب خان نے فرحانہ فیضی کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا دو دِن پہلے اسے دیکھا تھا۔ صبح واک پر نِکلا تو بادلوں کی وجہ سے اندھیرا تھا۔ نینا کے گھر کے قریب پہنچا تو ہلکی پھوار پڑنے لگی اور پھر بارش میں شدت آ گئی۔ مجھے ایسی بارش میں چلنا اچھا لگتا ہے ۔ میں چلتا رہا اور بارش بھی شدید ہوتی گئی۔ واپس راحیلہ بلوچ کے گھر کے سامنے والے بنچ پر بیٹھا تو پارک کی دوسری جانب بادل اُتر آئے۔ دیکھا اِن بادلوں میں ایک بلند سٹیج نمودار ہوا جسپر دو آدمی خاموش کھڑے ہیں ۔
پیچھے سے اچانک فرحانہ نمودار ہوئی اور دونوں مردوں کے درمیان کھڑی ہو گئی ۔ وہ دُلہن بنی تھی اور پہلے سے زیادہ خوبصورت تھی ۔ تمہارے بیان کے مطابق فوارہ زمین پر تھا مگر اس سین میں فوارہ آسمان پر تھا ۔ آسمان سے پانی برس رہا تھا مگر سٹیج اپنی جگہ قائم تھا۔ پھر بادل گرجا اور بارش طوفان میں بدل گئی۔ آندھی، بارش اور گہرے بادلوں کی وجہ سے پارک پر مکمل اندھیرا چھا گیا مگر سٹیج اب بھی موجود تھا ۔ دُلہن کے سر پر روائیتی چادر یا دوپٹہ نہ تھا۔ وہ سر سے ننگی اور راہباوں جیسا لمبا پیراہن پہنے تھی جسکا رنگ سرخ تھا۔ چہرے پر چمک تو تھی مگر دُلہنوں والی شرماہٹ تو کیا کوئی مسکراہٹ ، شوخی یا شرارت بھی نہ تھی۔ دونوں مرد بھی ایسے ہی تھے جیسے کسی وی آئی پی کی آمد سے پہلے سٹیج پر ہما تن گوش محافظ کھڑے ہوتے ہیں ۔ وہ اچانک سٹیج پر آئی اور دائیاں ہاتھ ہوا میں لہرا کر کھڑی ہو گئی ۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی جلسے سے خطاب کرنے والی ہے ۔ آسمانی فوارہ اب آسمانی دریا بن چکا تھا۔ لگتا تھا بادل پھٹنے والا ہے۔ زور دار گرج اور چمک نے اندھیرے میں یکدم روشنی پھیلا دی ۔ قریب ہی کئیں آسمانی بجلی گری اور پھر گپ اندھیرا چھا گیا۔ تم نے تو بتایا تھا کہ سٹیج پر آنے سے پہلے و ہ اکیلی ڈریسنگ روم میں بیٹھی اپنے لباس اور گٹ اَپ کا انتہائی شوخیانہ انداز سے جائیزہ لے رہی تھی۔ بالوں کو جھٹک کر اپنے حُسن اور اداوٗں کا اظہار کر رہی تھی ۔ شاید کوئی دیکھنے والا بھی تھا مگر اوجھل تھا۔ لگتا تھا جیسے وہ کسی کے دل پر اپنے حسن اور اداوں کی بجلیاں گرا رہی ہے۔ مگر میں نے یہ سب نہیں دیکھا؟
آپ نے یہ خواب رات کے کس پہر دیکھا ۔ یہ خواب نہیں حقیقت ہے۔ یہ منظر میں نے صبح چھ بجے پارک میں دیکھا ۔ ریحاب کے سوال کا جواب دیا تو اُس نے کچھ حساب کتاب کے بعد بتایا کہ اُسے Hallucinationکی ایک خاص کیفیت کہا جا سکتا ہے جسکا تعلق میٹا فزکس سے ہے۔ اِس واہمے کو عام طور پر بیماری کے زمرے میں لیا جاتا ہے مگر اس کی دیگر لا تعداد کیفیات ہیں جنکا تعلق قدیم علم ہندسہ و حساب سے ہے ۔ خوبصورت چہروں کا تعلق چاند ، پانی، روشنی اور سیاہ رنگ کی سنہری جھلک سے ہوتا ہے جو سیاہ رنگ سے نکل کر روشنی کا آغاز کرتی ہے۔ جیسے صبح کاذب کے بعد صبح صادق کا منظر اور پھر دِن کا اُجالا اور سورج کی روشنی ہے۔ یہ علم بابلی علماٗ نے علم ہندسہ سے اخذ کیا مگر فلاسفہ نے اِسے درگزر کر دیا۔ ایسے منظر کو روئے روشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کا رونما ہونا سخت نفرت ، شدید محبت یا پھر بیان کردہ واقعہ اور جگہ کی نسبت سے ہو سکتا ہے۔ چونکہ میں نے آپ کو شادی کا واقعہ بیان کیا تھا اور منظر کشی کے لمحے آپ اسی جگہ، شدید بارش اور گہرے بادلوں کی موجودگی میں اکیلے بیٹھے تھے جہاں دُلہن ایک عرصہ تک موجود رہی ۔ البتہ اِس منظر میں سب اچھا اور خوشگوار بھی نہیں۔ لگتا ہے یہ خوشی عارضی تھی اور اب نقشہ بدل چکا ہے ۔ اگر رشتہ قائم بھی ہے تو اُس میں خلل کے آثار نمایاں ہیں ۔ یہ ایک نفسیاتی المیہ ہے جس کی معاشرتی ، معاشی اور علمی وجوہات ہیں ۔ معاشرہ جدید و فرسودہ روایات سے متاثر ہوکر الہی حقیقی روایات سے کوسوں دور جا چکا ہے ، امراٗ ، فقہاٗ ، علماٗ اور شرفا کی کرپشن ، لوٹ مار، بد عہدی ، بد دیانتی اور عوام دُشمنی نے ملک کا معاشی نظام تباہ کر دیا ہے جسکی وجہ سے معاشرہ مزید ابتری کا شکار ہے۔ علمی یا تعلیمی نفسیات کے ماہرین کا تجزیہ ہے کہ جب معاشرہ ابتری کا شکار ہو، ملکی خزانے کا چابیاں خائن کے ہاتھوں میں ہوں تو مجرمانہ نفسیاتی عمل سب سے پہلے تعلیمی نفسیات کا جز بن کر فرسودہ علم کی ترویج کا باعث بنتا ہے۔ جو علم شہرت اور شہوت کا باعث ہو اُس سے ملت ، ملک اور معاشرے میں عدم توازن پیدا ہو کر ریاست کی تنزلی کا باعث بن جاتا ہے۔
سورۃ الجاثیۃ آیت 23میں فرمانِ رَبی ہے کہ دیکھو تو جس نے ٹھہرایا اپنی خواہش کو حاکم وہ راہِ حق سے ہٹ گیا یا اللہ نے اسے راہِ حق سے ہٹا دیا۔ وہ سب جانتا اور سمجھتا تو ہے مگر اللہ نے اُس کے کانوں اور دِل پر مہر لگا دی ہے۔ اُس کی آنکھوں میں اندھیرا ہے۔ سوائے اللہ کے اُسے کوئی راہ حقیقت پر نہیں لا سکتا۔
عورت معاشرے کا اہم جز اور معاشرتی زندگی کی بنیاد ہے ۔ عورت کا ظاہری بناوٗ سنگار ایک حد تک ہی مفید ہے مگر اُسکا باطنی حسن و کردار عالمگیر ہے۔ عورت کے حسن و کردار ، نفسیات و افعال پر جتنی تحقیق ہوئی وہ اُس کے ظاہری عمل اور مردوں کی خواہشات ، عضویاتی نفسیات اور ضروریات کو مدِ نظر رکھ کر کی گئی ۔ پیدائش انسانی، تخلیقِ آدمؑ سے پہلے ہی خالقِ کائینات نے فرشتوں پر اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ میں زمین پر انسانی صورت میں اپنا نائب پیدا کرنیوالا ہوں ۔ پھر فرمایا کہ جب میں اپنی طرف سے یعنی اپنے نور سے اُس میں روح پھونک دوں تو تم اُسکے سامنے سجدہ کرو۔ علماٗ کا کہنا ہے کہ یہ سجدہ آدم ؑ اور حواؓ دونوں کو ہوا چونکہ تخلیقِ آدم ؑ کے ساتھ ہی حواؓ کا وجود بھی تخلیق ہوا جسکا مقصد آدم ؑ کو راحت اور تسکین کا سامان مہیا کرنا اور اپنی ہی جنس یعنی مٹی سے ایک ساتھی کی رفاقت میسر کرنا تھا۔ پھر فرمایا کہ اے لوگو میں نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری نسلیں زمین پر پھیلا دیں ۔ اللہ نے عورت کی کفالت اور حفاظت مرد کے ذمہ کی اور اُسے ایک نعمت قرار دیا۔ عورت کی عظمت کا قرآنِ کریم میں متعدد بار ذکر ہوا مگر جہاں مردوں نے اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کیا وہاں ماحول اور معاشرہ بکھر کر تباہ ہو گیا۔
عورت چونکہ مرد کی ذمہ داری کے زمرے میں آتی ہے اس لیے اُس کی حفاظت باپ، بھائی ، خاندان ، معاشرے اور سب سے بڑھ کر ریاست کی ذمہ داری ہے۔ شادی عورت کی حفاظت اور معاشرتی اصلاح کیلئے ضروری ہے ۔ احادیث رسولؐ اور اعلیٰ معاشرتی روایات سے ثابت ہے کہ اگر مرد بوجہ شادی نہ کر سکے تو اُس پر تزکیہ نفس لازم ہے ۔ عورت صرف ذہنی اور جسمانی بیماری کی صورت میں شادی سے انکار کر سکتی ہے ورنہ شادی سے انکار کی صورت میں اُسکی ، عزت اور حفاظت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔
ریحاب نے پوچھا کہ آپ یعقوب نظامی کو کب فارغ کرنے والے ہیں ۔ فارغ ہیں اور بیگم کے ہمراہ سلطنت عثمانیہ کے دورے پر ہیں ۔ آجکل وہ چلتا پھرتا سفر نامہ ہیں ۔ جہاں جاتے ہیں بیگم کے ہمراہ تاریخی مقامات کی تصویریں انٹرنیٹ پر شٗیرکرتے اور اپنے مداحوں سے داد وصولتے ہیں ۔
سنا ہے کہ اسلام آباد کی کسی پرائیویٹ یونیورسٹی کی طالبہ نظامی صاحب کے سفر ناموں پر ڈاکٹریٹ کر رہی ہے اور اُن کی کتاب ‘‘دیکھ میرا کشمیر’’ آزاد کشمیر یونیورسٹی شعبہ اردو نے اپنے سلیبس میں شامل کر لی ہے۔
کمی تو آپ نے بھی نہیں چھوڑی ۔ نہ صرف نظامی صاحب بلکہ فرحانہ فیضی پر ایم فل تو آپ نے بھی کر لیا ہے۔ ریحاب خان نے اپنا تجزیہ پیش کیا۔ میں تو نظامی صاحب کی کتابیں لایا تھا ۔ آپ لوگوں نے پڑھیں اور اُن پر بحث کا اچھا آغاز ہُوا۔
فرحانہ زیادہ علم رکھتی ہے اور تجزیہ کار بھی ہے اسلیے اُسکا تجزیہ سب سے بہتر ہوتا ہے ۔ تمہاری طرح وہ عالمہ ، عاملہ اور ماہرِ نفسیات ہے ۔ اُس کی آنے والی کتاب ‘‘آدمی نامہ’’ بھی روحانی اور باطنی سفر نامہ ہے جسکی تکمیل ابھی باقی ہے ۔ فرحانہ نے نفس امارہ ، نفس لوامہ اور نفسِ مطمعنہ کی قرآنی علوم کی روشنی میں تشریح کی اور ظاہری نفسیاتی علوم کی خامیوں پر عالمانہ انداز میں تنقید کرتے ہوئے اُنھیں نفس امارہ کی ہی مختلف اشکال ثابت کیا ہے۔
فرحانہ نے‘‘ آدمی نامہ ’’ میں علامہ اقبال ؒ کے خطبات علم اور روحانیت ، انسانی نفس آزادی و سر مدیت اور روحانی تجزیے کی علمی جانچ پر سیر حاصل تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ اقبالؒ کا ناسوتی مشاہدہ ہے ورنہ اسپر محققین اور علماٗ تنقید نہ کرتے ۔ اقبالؒ کے تصور زروان کے علاوہ برگسان اور سینٹ آ گسٹ کے نظریات سے متاثر ہونا بھی حقیقی نظریے سے ہٹ کر غیر حقیقی نظریے کی تقلید بڑی حد تک قابل تنقید ہے ۔ وہ خطباتِ اقبالؒ پر الطاف اعظمی کی تنقید کو کسی حد تک درست سمجھتی ہے ۔ لکھتی ہے کہ زروان کائینات کا بادشاہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی خالقِ کائینات کے ناموں میں زروان کی گنجائش ہے۔ اقبالؒ کا تصور زمان و مکان زروئیت سے ثابت کرنا بھی درست نہیں بلکہ شائبہ ہے کہ اقبال کے خطبات کی اصل روح مسخ کرنے کی کوشش میں اِن خیالات کو اقبال سے منسوب کر دیا گیا ہے ۔ زمان و مکان کا حقیقی تصور ابنِ خلدون نے سورۃ عصر سے اخذ کیا جو قرآنی روحانی علم کی اصل روح اور مبنی بر حقیقت ہے۔
ابنِ خلدون نے قرآن سے اخذ کیے گئے علوم کی تعداد تین ہزار لکھی ہے۔ لکھتے ہیں کہ قرآن پاک کی ہر سورۃ فرداً فرداً علم و معنی کے لحاظ کائینات اکبر ہے۔ جن کے ہر لفظ میں ہزاروں ظاہری و باطنی طاقتیں ، عظمتیں اور فضیلتیں پوشیدہ ہیں ۔ قرآن کریم ایک ایسا خزانہ ہے جسکا راز انسان کے دِل میں رکھا ہے مگر کم لوگ دل کے اندر چھپے اس راز کو عیاں کرنے کی جستجو کرتے ہیں ۔
فرحانہ کی کتاب کب شائع ہو گی ؟ یہ تو اُس کو پتہ ہوگا ۔ ریحاب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا ۔ کبھی اچھے موڈ میں ہو تو کچھ شیر کر لیتی ہے ورنہ خاموشی میں مدہوش رہتی ہے ۔ اُس کے پاس میری آخری کتاب نظامی صاحب کی ‘‘ روشن صدی کی بات’’ تھی جو اُس نے حسب عادت تبصرے کے ساتھ واپس کی ہے ۔ لکھتی ہے کہ نظامی صاحب نے کتاب کی ابتداٗ سورۃ البقرۃ کی آیت 257سے کی ۔
فرمایا ‘‘ اللہ مددگار ہے ایمان والوں کا ۔ نکالتا ہے اُنھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف اور جو لوگ کافر ہوئے اُن کے رفیق ہیں شیطان نکالتے ہیں اُنھیں روشنی سے اندھیروں کی طرف یہی لوگ ہیں دوزخ میں رہنے والے ۔ وہ ہمیشہ اُسی میں رہینگے ۔ نظامی صاحب نے آیت مبارکہ کا ترجمہ اپنے انداز میں کیا ہے۔ اگرچہ طاغوت بھی شیاطین کے زمرے میں آتا ہے مگر اس سے شیطانی قوت کا اظہار ہوتا ہے ۔
اس آیت مبارکہ کے بعد حضرت ابراہیم ؑ اور نمرود بادشاہ کا ذکر ہے جو خُدائی کا دعویدار تھا اور جبراً لوگوں سے سجدہ کرواتا تھا ۔ نمرود ایک شیطانی قوت تھی اور اُس کی سلطنت میں ظلم و جبر ، استحصال اور عدم تحفظ تھا۔ عدل و انصاف کا فقدان تھا اور لوگوں پر نمرود کا اسقدر خوف تھا کہ وہ اسے خُدا تسلیم کرنے اور سجدہ کرنے پر مجبور تھے ۔
انسانی تاریخ کا جب تک قرآنی تاریخ سے موازنہ نہ کیا جائے، ظاہری انسانی تاریخ کی اہمیت قصے کہانیوں اور افسانوں سے بھی کم تر ہو جاتی ہے۔ قرآن کریم کائیناتی ظاہری و باطنی علوم کی مستند تاریخ ہے اور سیرتِ رسول ؐ ایک ایسی ہستی کی سوانح حیات ہے جس کی تصدیق و تعریف خالق کائینات نے کی ہے ۔ فرمایا اے لوگو نبیؐ کی زندگی کا مطالعہ کرو اور اُس کی پیروی کرو۔ مفسرین کے مطابق نبیؐ کی زندگی کے مطالعے سے ہی قرآن کی سیرت سمجھ آتی ہے ۔ آپؐ کی سیرت پاک کے مطالعہ میں اللہ کی اطاعت و ‘‘واحدانیت ’’ سمجھنے اور عمل کرنے کے اصول و ضوابط مربوط ہیں ۔ فرمایا اے لوگو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی پیروی کرو اور اُس امیر یا حکمران کی جو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی سب سے بڑھ کر پیروی کرنے والا ہو ۔ مگر بد قسمتی سے دورِ حاضر کے علماٗ نے یہودی و عیسائی علماٗ کی طرح اولامر ووٹوں ، نوٹوں ، دھونس و دھمکیوں اور دیگر غیر اخلاقی ہتھکنڈوں سے بر سر اقتدار آنے والی جماعت اور اُس کے چنیدہ شخص کو قرار دیا جو صریحاً اللہ اور اُس کے رسولؐ کے بجائے طاغوت کا پیروکار ہو۔ عوام اُس ماڈرن نمرود کے سامنے ہی نہیں بلکہ اُس کے معاونین اور مصاحبین کے سامنے سجدہ کرنے پر مجبور ہیں ۔
لکھتے ہیں کہ یہ روشن صدی ہے۔ اس صدی میں علم کے ایسے چشمے پھوٹے جنہوں نے نوح انسان کو ایسی آسائشیں اور آسانیاں فراہم کیں جن کا زمانہ قدیم کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ شاید ایسا ہی ہو چونکہ ہر زمانے کے انسان کی مختلف ضروریات تھیں ۔ قرآنِ کریم میں ، خالق کائینات نے اپنی کروڑوں نعمتوں کا ذکر کیا ہے جو زمانے کے لحاظ سے خالق نے مخلوق کو مہیا کیں مگر انسانوں میں بہت کم شکر گزار ہوئے۔ فرمایا زمانے کی قسم انسان صریحاً خسارے میں ہے ۔ یقیناً ہم جدید ٹیکنالوجی کے دور میں رہ رہے ہیں مگر ایک بے سکون ، بد مزہ اور خوف کی زندگی بھی گزار رہے ہیں ۔ وہ اقوام جن کی دسترس میں بیان کردہ آسائشیں اور سہولیات ہیں اُنھیں ان سہولیات کے چھِن جانے خطرہ لاحق رہتا ہے اور وہ جو اِن سہولیات سے محروم ہیں وہ مختلف ہتھکنڈوں اور حربوں سے ان آسائشوں اور عیاشیوں کے حصول کیلئے کوشاں ہیں ۔ نظامی صاحب کا ہی نہیں بلکہ جدید دور کے جمہور دانشور وں کا یہی خیال ہے مگر بیان کردہ سہولیات کرہِ ارض پر آباد آٹھ ارب انسانوں میں سے ایک ارب کو بھی میسر نہیں ۔ غربت ، مفلسی ، جاھلیت اور جرائم میں ترقی یافتہ اقوام سب سے آگے ہیں ۔ سارا یورپ اور امریکہ سودی نظام کے شکنجے میں جھکڑا ہے ۔ عالمی سطح پر اخلاقیات کا خاتمہ ہو چکا ہے اور نیو ورلڈ آرڈرز سرعت سے پھیل رہا ہے ۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے طاقتور اقوام نے کمزور اقوام پر غلبہ حاصل کر لیا ہے ۔ ہم جنس پرستی یورپ اور امریکہ جیسے جدید اور علمی لحاظ سے برتر ممالک میں جائیز قرار دی جا چکی ہے۔ جان ڈیوی اور وٹنگٹن جیسے دانشوروں کا اس بات پر زور ہے کہ جب تک ساری دنیا میں ایک کلچر ، ایک مذھب اور یکساں سیاسی نظام رائج نہیں ہوتا دنیا گلوبل ولیج نہیں بن سکتی ۔ دونوں دانشوروں کا فوکس اسلام اور تاوٗ ازم ہے۔ اسلام اور تاوٗ ازم کے خاتمے کیلئے وہ فادر لیس سوسائیٹی کے قیام پر زور دیتے ہیں ۔ فخر سے لکھتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں بن باپ کے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو جدید معاشرے کے قیام کی طرف مثبت قدم ہے۔
فرمانِ رَبی ّ ہے کہ اے لوگو شیطان نے تمہارے باپ اور ماں ‘‘آدم ؑ اور حوا ؓ کو ورغلایا ، اُنھیں جنت سے نکلوایا اور اُنھیں برہنہ کر دیا۔ آج کی جدید اور بظاہر روشن صدی میں جدید ، تعلیم ، ثقافت اور ٹیکنالوجی نے ساری انسانیت کو نہ صرف جسمانی بلکہ اخلاقی اور معاشرتی لحاظ سے بھی برہنہ کر دیا ہے ۔
پاکستان کی ہی مثال لیں تو جدید ذرائع مواصلات جن میں اخبار، ٹیلی وژن اور سوشل میڈ یا شامل ہیں نے ایک ایسا انقلاب برپا کیا ہے جسکی دیگر معاشروں میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ٹیلیوژن ڈراموں کے ذریعے اخلاقیات و روایات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے جسے حکومتی تحفظ حاصل ہے ۔ میرا جسم میری مرضی محض ایک نعرہ ہی نہیں بلکہ ایک عملی تحریک ہے جو وباٗ کی طرح پھیل رہی ہے ۔ روشن صدی کا تصور اندھیرے میں روشنی کا سراب ہے جسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ جدید ٹیکنالوجی اور جدید سائینسی علوم نے انسان کو حیوانیت کے درجے سے کم تر درجے پر لا کھڑا کیا ہے جسکا فی الحال کوئی نام وضع نہیں کیا گیا ۔ آج کی دُنیا میں انسان تو کیا حیوان بھی خوف کی زندگی جی رہے ہیں ۔ حیوانی نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی رویوں کا حیوانات اور نباتات پر بھی اثر ہوتا ہے ۔ ذہنی خلفشار ، بلند فشارِ خون ، ذیابیطس اور سرطان جیسی بیماریاں عام ہیں ۔ بے سکونی، بے چینی اور بے آرامی جیسی امراض کا کوئی علاج نہیں ۔ امیر، غریب ، فقیر ، بادشاہ و وزیر سب یک گوشتہ سکون کی تلاش میں ہیں جو اِس زمین پر میسر نہیں ۔
سائنسدان اور کیمیا دان نئی بیماریاں اور نئی دوائیں ایجاد کرنے میں مصروف ، انجنیر اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نئے اور مہلک ہتھیاروں کے تجربات زندہ انسانوں پر کر رہے ہیں۔ ماضی قریب میں افغانستان ، عراق، شام اور لیبیا پر نئے اور مہلک ہتھیار آزما ئے گئے اور اب سر زمین عرب کا ایک ٹکڑا آہن اور آگ میں جل رہا ہے ۔ کیا یہی روشن دُنیا ہے جسکا ایندھن انسان ہیں؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دور آسائشوں کا ہے مگر راحتوں کا ہرگز نہیں ۔ یورپ اور امریکہ کے دولت مند صحراوٗں کی چاندنی راتوں اور گرم ملکوں کے ساحلوں پر بے لباس ہو کر سکون تلاش کرتے ہیں مگر تسکین پھر بھی نہیں ہوتی۔
بے شک سالوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے اور سٹیلائیٹ کے ذریعے آپ سارے جہاں کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں مگر رزق حلال کیلئے دربدر ، بے وطن اور اکثر اپنے عقیدے سے بھی محروم ہو جاتے ہیں ۔
نظامی صاحب کی بیان کرہ روشن صدی کا گزرے ادوار سے موازنہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ فرمانِ الہی ہے کہ گزرا ہوا دور آنیوالے سے بہتر ہے ۔ آج ہم ایک ایسی زندگی جی رہے ہیں جس میں کوئی چیز خالص نہیں حتٰی کہ آب و ہوا بھی آلودہ ہے۔ مصنوعی زندگی، مصنوعی خوراک، مصنوعی رہن سہن اور منافقت سے آلودہ ذاتی ، معاشرتی اور عالمی سطع پر تعلقات ۔ یہ بھی درست ہے کہ امریکہ دُنیا کی بڑی ایٹمی اور مادی قوت ہے اور اُسکے صدر کے پاس دُنیا تباہ کرنے والا بٹن بھی ہے مگر امریکہ کے علاوہ اور بھی ہیں جن میں سے دو کا ہاتھ ہمیشہ بٹن پر رہتا ہے ۔ علاوہ اِن کے کتنے اور بٹن ہیں جن پر امریکہ کا کنٹرول نہیں ۔ امریکہ سمیت ساری دنیا اُن سے خائف ہے۔
بحثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ اپنی کتاب ھدایت و حقیقت میں بیان کیا ہے علاوہ اُس کے سب مفروضے اور من گھڑت قصے ہیں ۔ قرآنی بیان کے مطابق خالق کل نے آدم ؑ سے پہلے زمین میں اپنی نعمتیں رکھیں اور پھر آدم ؑ اور حوا ؓ کو کائینات کے ظاہری و باطنی علوم کے مکمل علم و آگاہی سے مزین کیا ۔ انسان ابتداٗ سے ہی معاشرتی اسلوب سے مزین تھا ۔ وہ نہ تو جنگلوں میں مارا مارا پھرتا تھا اور نہ ہی بھوکا ، ننگا اور غیر مہذب تھا۔ فرمایا میں نے آدم ؑ پر جنت سے پوشاک اتاری ، اسے علم دیا اور آدم ؑ کی ہزار سالہ زندگی میں سولہ صحائف نازل ہوئے۔
اگر ہم آدم ؑ اور اولاد آدمؑ پر اللہ کی تعمتوں کا ذکر کریں تو پھر سارے قرآن کی تشریح درکار ہوگی ۔ اللہ کا ہی فرمان ہے کہ اگر تم میری باتیں لکھنا شروع کرو تو تمہیں سمندروں جتنی سیاہی درکار ہوگی مگر اللہ کی باتیں ختم نہ ہونگی اگرچہ تم اتنے ہی اور سمندرلے آوٗ۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان نے قرآن سے قطعہ تعلق کیا تو شیطان نے اسے اپنی گرفت میں لے کر مادی ، ناسوتی ، استدراجی اور سفلی قوتوں کے تابع فرمان کر دیا ۔ قوم عاد، ثمود ، تبع ، ایکہ، لوط اور اصحاب رس جیسی ہنر مند ، طاقتور ، ذہین اور منصوبہ ساز قومیں کبھی روئے زمین پر پیدا ہوئیں اور نہ ہونگی۔ سب کدھر گئیں کسی کو خبر نہیں ۔ وہ صدیوں تک زمین پر حکمران رہیں اور چند ساعتوں میں تاریخ انسانی کا عبرت ناک باب بن گئیں ۔
‘‘روشن صدی کی بات’’ کا سب سے روشن پہلو نظامی خاندان کی علمی ، اصلاحی اور فلاحی خدمات ہیں جو اندھیرے میں روشنی کے مینار ہیں ۔ نظامی خاندان دنیا میں اُن چند خاندانوں میں شمار ہے جو اللہ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اپنی دولت اللہ کی رضا کیلئے خرچ کر رہے ہیں ۔ دکھی انسانیت کی خدمت محض اللہ کی رضا کیلئے کرنا کوئی آسان کام نہیں ۔ ‘‘روشن صدی کی بات’’ یعقوب نظامی کے بھائی محمد ایوب صابر ایڈووکیٹ کی سرگزشت ہے جسکا انتساب اُنہوں نے اپنے والدین کے نام کیا جنہوں نے ایک ناتواں جسم کو پالا پوسا اور پھر زیور تعلیم سے آراستہ اور دین کا راستہ دکھایا۔
نظامی صاحب نے اپنے وطن پونچھ کا سرسری ذکر کیا ہے ۔ پونچھ محض ایک جاگیر ہی نہیں بلکہ ایک بڑی ریاست تھی جسکی الگ تاریخ ، ثقافت اور خِطے میں ایک کردار رہا ہے ۔ البیرونی نے اسے کشمیر کا صدر دروازہ قرار دیا جسے کھولے بغیر کوئی فاتح کشمیر پر قابض نہیں ہو سکتا ۔ پونچھ کے لوہار و خاندان اور کشمیر کی ذھین ، جفاکش ، دلیر ، خوبصورت اور بے رحم ملکہ دیدہ رانی کے ذکر کے بغیر کشمیر کی تاریخ بھی نا مکمل رہ جاتی ہے۔ پونچھ کے ملدیالوں ، جرالوں ، تھکیالوں اور ڈمالوں کے سیاسی ، سماجی اور عسکری کردار کا ذکر بھی اہم ہے جو پونچھ کی تاریخ کا لازمی جُز ہیں ۔
(جاری ہے)

Exit mobile version