ابن خلدون لکھتے ہیں کہ تاریخ اقوام اور حکمرانوں کے قصے قصیدوں اور حکایات کا نام نہیں بلکہ انسانوں کی فکری، عملی، نظری، مذہبی، سیاسی اور سماجی جدوجہد اور رویوں کا ریکارڈ ہے ۔ قرآن کریم کائناتی، الٰہی، انسانی تاریخ کی سب سے معتبر، مقدس اور مستند کتاب ہے جو انسان کے ظاہری اور باطنی امور سے میزن ہے ۔ سورہ الحشر کی آخری آیت مبارکہ میں فرمان ہے کہ وہ اللہ ہے بنانے والا، نکال کھڑا کرنے والا، صورت کھینچنے والا، اسی کے ہیں سب مبارک نام ۔ جو کچھ آسمانوں اورزمین میں ہے سب اس کی حمد و ثنا کرتا ہے ۔ زبردست حکمتوں والا عزیزوحکیم ۔ اللہ نے کمال قدرت اور کمال حکمت سے انسان کی ظاہری و باطنی صورت نطفے پر کھینچ دی تاکہ وہ اللہ کی حمد و ثناء سے غافل نہ رہے اور اس قدرت و حکمت سے کام لے جو اسے اللہ کی طرف سے عطا ہوئی ۔ جب تک انسان اپنی ظاہری اور باطنی صورت کی پہچان سے غافل رہتا ہے وہ اپنے مقصد پیدائش یعنی ذاتی تاریخ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے ۔ اس کا نصب العین ادھورا، فرسودہ اور بے مقصد ہو کر اسے راہ راست سے ہٹانے کا موجب بن جاتا ہے ۔ وہ جو بھی عمل کرتا ہے اس میں فلاح و اصلاح نہیں بلکہ شروفساد، تکبر و رعونت کا عنصر غالب رہتا ہے ۔ اس کا علم ناقص اور عمل شروفساد پھیلانے اور دیگر انسانوں کے لئے مضر ثابت ہوتا ہے ۔
تاریخ دان وہ شخص ہے جو بلاتفریق مذہب، ملت، رنگ و نسل سچ و جھوٹ کو اپنے علم و تجربے کی روشنی میں چھانٹ کر نہ صرف الگ کرتا ہے بلکہ بغیر کسی لالچ و خوف کے خواص و عوام کی بہتر رہنمائی کے لیے پیش کرتا ہے ۔ تاریخ کو مسخ اور سچ میں جھوٹ کی آمیزش کرنے والوں کو ابن خلدون نے خائن قرار دیا ہے ۔ تاریخ کی فضیلت کے متعلق لکھتے ہیں کہ تاریخ کا علم ایک بلند پائیہ اور فائدہ مند فن ہے چونکہ یہ ہمیں گزشتہ اقوام کے اخلاق، اطوار اور احوال سے روشناس کرواتا ہے ۔ انبیاء کی سیرتوں سے آگاہ کرتا ہے ۔ حکومتوں ، حکمرانوں ، سیاستدانوں ، علماو حکمأ کی سیرت و کردار کی خبر دیتا ہے تاکہ اگر کوئی شخص دینی یا دنیاوی زندگی میں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہے تو اسے مکمل رہنمائی حاصل ہو ۔
تاریخی واقعات کو عملی شکل دینے کے لئے ضروری ہے کہ اسے خطے کے طبعی حالات، عوام کی حاجات، ضروریات، نفسیاتی و جذباتی خیالات اور اردگرد کی ریاستوں اور عوام کے رویوں کی کسوٹی پر پرکھا جائے ۔ لکھتے ہیں کہ حکایات میں جھوٹ کا احتمال اور لغویات کی کافی گنجائش ہوتی ہے اس لیے ضروری ہے كہ ان حکایات کو اصولوں اور ضابطوں کے تحت پرکھا جائے ۔ قرآن پاک میں بار بار یا اُولالباب کا ذکر ہوا ہے کہ اے عقلمندو خیروشر میں فرق کرو اور اللہ کے راسے پر چلو ۔ صراط ِ مستقیم پر چلنے میں ہی دنیا و آخرت کی بھلائیاں ہیں ورنہ انسان شیاطین کے بہکاوے میں آکر سفل کے گڑھے میں گر جاتا ہے ۔
تاریخ دان اکثر غلط بیانی کے مرتکب ہوتے ہیں یا پھر کسی لالچ، خوف اور حکمت عملی کے تحت من گھڑت واقعات گھڑنے کا وصف اختیار کر لیتے ہیں ۔ موجودہ دور کی ایک بڑی قباعت تنسیخ تاریخ ہے جسے ہر ملک اور قوم نے اپنا رکھا ہے ۔ تاریخی واقعات کی من گھڑت تاویلات جدید نظام سیاست و حکومت کا اہم مقصد بن چکا ہے ۔ حکومتیں اور حکومتی اداے واقعات و حادثات کو ہی نہیں بلکہ اپنی نا اہلیوں ، نالائیقیوں ، عیاشیوں ، بداعمالیوں اور بداطواریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹے دانشوروں ، مصنفوں ، صحافیوں اور تاریخ مسخ کرنے والوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو سچ کو جھوٹ ثابث کرنے اور رائے عامہ کو ملک دشمن وطن فروش عناصر کے حق میں ہموار کرتے ہیں ۔ قرآن کریم میں فرمان ربی ہے کہ شیطان تمہارے دل میں ہوس و حرص کی ترغیب دیتا ہے جبکہ اللہ تمہیں پاک روزی اور آخرت میں جنت کی بشارت دیتا ہے ۔ تاریخ مسخ کرنے والے دانشور شیطان کے پیروکار ہیں جو عوام کو ورغلانے اور جھوٹی اُمیدیں دلا کر غاصب حکمرانوں کی غلامی قبول کرنے پر راضی کرنے کا ہنر جانتے ہیں ۔
ابن خلدون لکھتے ہیں کہ بنو اُمیہ کے دور سے تاریخ مسخ کرنے اور تاریخ میں ملاوٹ کرنے کا آغاز ہوا ۔ من گھڑت قصوں ، کہانیوں اور جھوٹی فرسودہ روایات پر قدغن لگانے کے بجائے حکمران طبقے نے اسے اپنی تشہیر کا ذریعہ بنا لیا تو فرسودہ خیالات کے حامل قلم کاروں کہ بہتات ہوگئی ۔ شاعروں نے قصیدوں کو ذریعہ معاش بنایاتو تاریخ دانوں نے بد اعمال اور بد اطوار حکمرانوں اور اشراف کو نیکی کے مجسمے اور خدمت خلق کرنے والے دیوتاؤں کا روپ دینے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی، یہی وجہ ہے کہ اسلامی ریاست کا وجود ملوکیت میں ڈھلتا گیا اور علمأ نے منبروں پر کھڑے ہو کر بادشاہوں کے نام کے خطبے پڑھنے شروع کر دیے ۔ ابن خلدون فلسفہ، تاریخ و تمدن یعنی عمرانیات کا ہی امام نہیں بلکہ وہ انسانی نفسیات کے حوالے سے بھی گوہر نایاب ہے ۔
یونانی اور چینی تاریخ دانوں اور ابن خلدون کی خوبی ہے کہ وہ بلاتحقیق کوئی واقعہ نہیں لکھتے ۔ اس سلسلے میں ابن بطوطہ اور ابن خلدون کی بہت سے قدریں مشترک ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یونانی اور چینی تاریخ دان، محقق اور دانشور آج بھی تاریخ کے اوراق پر نہ صرف زندہ ہیں بلکہ قابل تقلید ہیں ۔ ابن خلدون نے بھی ابن بطوطہ کو خراج تحسین پیش کیا اور ارسطو کو عمرانیات کا امام قرار دیا ۔
من گھڑت قصے، کہانیاں اورقصیدے دور حاظر کے قلم کاروں کا کمال فن ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومت نے کمال فن ایوارڈ متعارف کروا رکھا ہے ۔ جو جتنا جھوٹ بولے، لکھے ، عوام کی نفسیات سے کھیلے، انہیں سبز باغ دکھائے، حکمرانوں کی نہ صرف قصیدہ گوئی کرے بلکہ ان کی کرپشن، بدعہدی اور بداطواری میں حصہ داری کو جائزتصور کرتے ہوئے میکاولین سیاست کا مبلغ بن کر شہرت و شہوت میں اپنے ہم عصروں پر بازی لے جائے وہ ہی کمال کا فنکار اور قلم کار تسلیم کیا جاتا ہے ۔
تاریخ نویسی میں ملاوٹ کرنے والوں میں ایسے ایسے نام شامل ہیں جو عام طورپر معزز و محترم تسلیم کیے جاتے ہیں ۔ ان ناموں میں محمد قاسم فرشتہ، احمد یار گار، چچ نامہ جس کا کوئی مصنف ہی نہیں اور دیگر بے شمار تاریخی دان اور کتب ایسی ہیں جنہیں اہمت دی جاتی ہے ۔
وہ تاریخ دان اور دانشور جنہیں واقعات کے حوالے سے ذرہ بھر شک ہوا انہوں نے نہ صرف وہاں اپنا قلم روک لیا بلکہ لاعلمی کا برملا اظہار بھی کیا ۔ مشہور کشمیری شاعر، ادیب اور تاریخ دان پنڈت كلہن بارھویں صدی عیسوی میں مہاراجہ ہرش کے دور میں پیدا ہوا ۔ پنڈت کلہن کی عالمی شہرت یافتہ تصنیف ’’راج ترنگنی‘‘ تاریخ کشمیر پر لکھی جانے والی بے مثال تحریر ہے جس کا ترجمہ دنیا کی ہر زبان میں ہوچکا ہے ۔ پنڈت کلہن نے اپنی تاریخ کا آغاز کشمیر کے پہلے بادشاہ راجہ گوند کے دور سے کیا جس کا زمانہ اقتدار تین ہزار سال قبل مسیح بیان کیا جاتا ہے ۔ پنڈت کلہن کا شمار ان گنتی کے چند تاریخ دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تاریخ مرتب کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیا ۔ پنڈت کلہن نے 1148ء میں راج ترنگنی لکھنے کا آغاز کیا تو اس دور میں قدیم کشمیر پر لکھی جانے والی گیارہ کتابیں موجود تھیں ۔ کلہن نے نہ صرف ان کتب سے استفادہ کیا بلکہ واقعات میں درستگی بھی کی ۔ ان کتابوں میں زیادہ تر دیومالائی قصوں اور ویدکی عہد کے گیتوں ، اشلوکوں اور اپنشدوں پر لکھی جانے والی تحریریں تھیں ۔ کلہن خود بھی شاعر تھا اس لیے وہ شاعرانہ انداز فکر اور دیومالائی کہانیوں سے بہتر مواد اکھٹا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔
تاریخ کے لحاظ سے ویدکی عہد بھی زیادہ قدیم نہیں چونکہ اس کا آغاز پندرہ سو سال قبل مسیح میں ہوا جبکہ راجہ گوند کا زمانہ اقتدار تین ہزار سال قبل مسیح ہے ۔ کلہن نے ہندوؤں کی سب سے معتبر کتاب نیل مت پران کا بھی حوالہ دیا ہے جو ساتویں صدی عیسوی میں لکھی گئی ۔ اسی طرح کٹانی اور سمے ماتریکا کے حوالہ جات بھی درج کیے گئے مگر مذہبی جذبات کو اپنی تحریر پر ہاوی نہ ہونے دیا ۔ بدقسمتی سے ہمارے دور کے تاریخ دانوں کی شاید ہی کوئی تحریر خالص انداز میں لکھی گئی ہو ۔
بابلی اور سومیری تہذیبوں کا دور چھ ہزار سال قبل مسیح بیان ہوا ہے جبکہ قوم عاد پچیس ہزار سال قبل مسیح میں ایک ترقی یافتہ اور خوشحال قوم تھی ۔ وہ لوگ سائنسی علوم سے بہرہ ور تھے ۔ اُن کے محلوں کی چھتیں منقش اور قلعے مضبوط تھے جبکہ اہل ثمود پہاڑوں میں گھر بنانے کے ماہر تھے ۔ قرآنی تاریخ کے مطابق ان جیسی صلاحیتوں اور جسمانی قوت رکھنے والی کوئی قوم روئے زمین پر پیدا نہ ہوئی ۔ چینی تہذیبی و تاریخی ادوار کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ پہلا دور اٹھارہ سو سال قبل مسیح کا ہے جب پہلا شاہی خاندان (شانگ) برسراقتدار آیا ۔ دوسرا چو خاندان کا دور ہے جو ایک ہزار سال قبل مسیح میں چینی اقتدار پر قابض ہوا ۔ تیسرا دور ہان بادشاہوں کا ہے جو دو سو سال قبل مسیح سے دو سو بیس عیسوی تک چین کا حکمران خاندان لکھا گیا ہے ۔ چو خاندان کا دور اقتدار چین کا سنہری دور قرار دیا جاتا ہے چونکہ اس دور میں فلسفہ و ادب تخلیق ہوا ۔ کنفیوشش اور لاؤزے اسی دور میں پیدا ہوئے جنہوں نے کلاسیکل ادب تخلیق کیا اور دنیا کو بیوروکریٹک نظام سے بھی متعارف کروایا ۔ قدیم کتب اور کتبوں کا سراغ لگایا گیا اور انہیں ازسرنو ترتیب دے کر ان کی شرعیں لکھی گئیں ۔ باوجود اس کے چینی تاریخ و ادب میں دیومالائی قصوں ، کہانیوں اور داستانوں کی بھی بھرمار ہے جو بڑی حد تک ہندی، یونانی، مصری، زرتشتی اور بابلی دیومالائی ادب سے مماثلت رکھتی ہیں ۔ ان قصے کہانیوں میں عورتوں کے کردار و عمل پر زیادہ توجہ مرکوز رہی کہ بادشاہوں ، دیوتاؤں ، اشرافیہ یعنی اعلیٰ خاندان کے مردوں اور عام لوگوں کو کتنی عورتیں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ عورتیں نہ صرف ہر دور کے مردوں کی نفسیاتی اور جنسیاتی ضروریات کا ذریعہ رہی ہیں بلکہ نسل انسانی کی نشو ارتقأ کے علاوہ دیوتاؤں کی خدمات اور عبادت گاہوں کی زیب و زینت کا ذمہ بھی عورت کے فرائض میں شامل رہا ہے ۔ عورتیں مال تجارت بھی رہیں اور اب بھی ہیں ۔ موجودہ دور میں عورت فنون لطیفہ ،جاسوسی اور بلیک میلنگ کے علاوہ اعلیٰ سیاسی، صنعتی اور طاقت کے مراکز کہلوانے والے خاندانوں کے درمیان رشتوں ، رابطوں ، تعلق داریوں ، سماجی رابطوں اور سیاسی ضرورتوں کا اہم ذریعہ ہے ۔ پاکستان میں اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں ہوں یا باہمی سیاسی و سماجی روابط ہوں ۔ ہم اکثر سنتے اور پڑھتے ہیں کہ فلاں خاتوں ، فلاں کی بیوی، فلاں کی بیٹی یا بہو ہے اور پھر یہ سلسلہ چلتے چلتے اقتدار کے ایوانوں تک چلا جاتا ہے ۔ اگر ان اعلیٰ خاندانوں کے حسب ونصب کو دیکھا جائے تو کثیر تعداد انگریزوں کے غلاموں اور پھر نو دولتیوں اورکرپٹ سیاسی، صنعتی اور مذہبی گھرانوں کی ہے ۔
اگرچہ موجودہ دور یومالائی قصوں اور کہانیوں کا نہیں مگر علمی، عقلی، نفسیاتی پستی اور پسماندگی کا ضرور ہے ۔ ہمارے دور کا قلمکار بھی بیان کردہ افعال و عمال کا حصہ ہے ۔
ہندو آریاؤں کی مقدس کتاب رگ وید ہے جو ایک ہزار سال قبل مسیح میں لکھی گئی ۔ آریا ڈھائی ہزار سال قبل مسیح میں ہند میں وارد ہوئے اور انہوں نے ہی اسے ہند کا نام دیا ۔ رگ وید میں اٹھارہ سو اٹھارہ بھجن ہیں جو وادی سندھ میں مرتب کیے گئے ۔ رگ وید کے مطابق آریاؤں اور مقامی اسورا اقوام کے بادشاہ ورتر کے درمیان دریائے سندھ کے کنارے خونریز جنگ ہوئی ۔ اس حوالے سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ چچ نام نہیں بلکہ رگ و ید وادی سندھ کی قدیم ترین تاریخی کتاب ہے ۔
مصنفین کے مطابق یہ مادری نظام کا دور تھا اس لیے تاریخ میں ورتر کی ماں دانو کا ذکر ہے باپ کا نہیں۔ عورت کو یہ اختیار تھا کہ وہ اپنی پسند کے کسی بھی مرد سے بچہ پیدا کر سکتی تھی ۔ دیکھا جائے تو تاریخ کا عمل کسی بھی دور میں مغالطوں ، مفروضوں ، من گھڑت قصے کہانیوں اور فرضی داستانوں سے خالی نہیں رہا ۔ یہی حال ادب کی دیگر اصناف کا بھی ہے ۔ پاکستان بننے کے بعد جہاں کرپٹ اشرافیہ اور نودولتیہ سیاسی کلچر متعارف ہوا وہی اسی قماش کے دانشوروں کی ایک گھیپ سامنے آئی جنہوں نے حکمرانوں کے قدموں میں بچھ کر ایک ایسی تاریخ کا آغاز کیا جس کی بنیاد منافقت، جھوٹ اور مفاد پرستی پر تھی ۔
’’تاریخ اور دانشور‘‘ کے مصنف ڈاکٹر مبارک علی ریاست اور دانشور کے باب میں لکھتے ہیں کہ دانشوروں کا طبقہ تاریخ میں نیا نہیں بلکہ یہ اسی وقت وجود میں آگیا تھا جب انسان نے فطرت کے متعلق معلومات حاصل کرنا شروع کیں ۔ انسانی معاشرے کا وہ طبقہ جس کو علم سے واقفیت تھی اس نے علم کے سہارے نہ صرف اقتدار پر قبضہ کیا بلکہ روحانی طاقت کا مالک بھی بن گیا ۔ اس طبقہ نے عوام کو علم و شعور سے میزن کرنے کے بجائے حکمرانوں ، قبائلی سرداروں اور سیاسی رہنماؤں کا ساتھ دیا جس کہ وجہ سے آمرانہ سیاست اور ظالمانہ اقتدار اعلیٰ کا تصور اُبھرا ۔ آج دنیا میں جو بھی طرز حکمرانی ہے اس کا بنیادی مقصد مفاد پرستی اور عوامی استحصال ہے ۔
بدقسمتی سے پاکستان جیسا ملک جو دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود پذیر ہوا اسے اس نظریے سے الگ کرنے کی دانشورانہ سوچ ابتدأ سے ہی سامنے آگئی ۔ مفاد پرستانہ دانشوری کی ابتدأ سیکولر نظریات کے حامل ایک مخصوص طبقے نے کی جو دین بیزار ور مغربی سیاسی نظریات کا حامل تھا ۔ ان کے مدمقابل خالص اسلامی سوچ و فکر کے حامل مفکرین کے بجائے مارکسی نظریات کے معلمین آئے تو نظریہ اسلام کے علمأ بھی مغربی اور مارکسی نظریات کے حامیوں کی حمایت میں دو طبقوں میں بٹ گئے ۔ اسلامی سوشلزم اور سیکولر اسلام کی اصطلاحات متعارف کرائی گئیں تو عملی اور غیر عملی مسلمانوں کی تقسیم بھی سامنے آگئی ۔ عاصمہ جہانگیر نے ایک ٹیلیویژن شو میں اعتراف کیا کہ وہ نان پریکٹسنگ مسلمان ہیں ۔ یعنی وہ مسلمان تو ہیں مگر اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں کرتیں ۔ لاہور میں ہر سال عاصمہ جہانگیر کا ہفتہ منایا جاتا ہے جہاں دنیا بھر کے دانشور، مصنفین اور معلمین مدعو کیے جاتے ہیں۔ سارے پاکستان کی اعلیٰ اشرافیہ بشمول اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان بھی اس تقریب میں شامل ہوتے ہیں ۔ عاصمہ جہانگیر کے مقابلے میں مہاتما گاندھی کی نجی زندگی پر نظر ڈالیں تو وہ بڑی حد تک پریکٹسنگ مسلمان تھا ۔ وہ بار بار ہندوؤں کو قرآن پڑھنے کی تلقین کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ قرآن پڑھنے سے تمہارے ہندوانہ عقیدہ پر کوئی فرق نہیں پڑیگا بلکہ تم ایک اچھے انسان بن کر ایک جدید، با اصول اور ترقی پسند معاشرے کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوجاؤَ گے ۔ آغا شورش کاشمیری لکھتے ہیں کہ میں اور جناب عطا اللہ شاہ بخاری گاندھی سے ملنے گئے تو عصر کا وقت ہوگیا ۔ گاندھی نے ملاقات کے دوران رخصت مانگ لی چونکہ ان کی پرارتھنا کا وقت ہوگیا تھا ۔ لکھتے ہیں کہ گاندھی کی پرارتھنا میں دیگر قرآنی آیات کے علاوہ سورۃ فاتحہ اور سورۃ اخلاص بھی شامل تھیں ۔ اس کا ذکر سید عطا اللہ شاہ بخاری کی سوانح حیات میں موجود ہے ۔ ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں کہ ’’پاکستانی معاشرہ آج جن حالات سے دوچار ہے اس کے ذمہ دار پاکستانی سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ دانشور بھی ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد ملک کی فکری بنیادوں کو سیکولر اور ترقی پسند روایات پر استوار کرنے کے بجائے حکمران طبقوں کا ساتھ دے کر ان کی جڑوں کو مضبوط اور خود کو کمزور کر لیا‘‘ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہر دانشور کی تان سیکولرزم پر جا کر ہی ٹوٹتی ہے ؟۔ دانشورکہلوانے والا بڑا طبقہ دو قومی نظریے کے خلاف ایک منظم مہم چلا رہا ہے جس میں حکمران سیاسی خاندان اور ان کے وظیفہ خوار صحافی، دانشور اور تاریخ دان شامل ہیں ۔ ہفتہ عاصمہ جہانگیر، حامد میر کی امن کی آشا اور حامد میر کے اردشیر کاؤَس جی اور ڈاکٹر پرویز ھود بھائی کے ساتھ متعدد ٹیلیویژن پروگراموں کے علاوہ کامران خان شو میں مولانا آزاد کی من گھڑت پیشگوئیوں کے پروگرام شامل ہیں ۔ چونکہ یہ لوگ حکمران طبقے کے علاوہ عالمی سطح پر اسلام اور پاکستان مخالف قوتوں کے کسی نہ کسی طرح آلہ کار ہیں اور اپنا کام پوری دیانتداری سے سر انجام دے رہے ہیں ۔ چونکہ ہمارے علمأاور گدی نشین پیر بھی دوحکمران خاندانوں کے حمایت یافتگان میں شامل ہیں اس لیے دو قومی نظریے اور پاکستان کی دینی اور روحانی اساس کا دفاع ممکن نہیں رہا ۔
ڈاکٹر حنا جمشید اپنی تصنیف ’’کھلی تاریخ‘‘ میں لکھتی ہیں کہ ہم ہندوستان کی صدیوں پرانی تہذیب کے امین ہیں ۔ ہم اپنی مقامی تاریخ کو اکثر و بیشتر تقسیم ہند سے شروع کرتے ہیں ۔ تقسیم کا واقع کیوں رونما ہوا اور تقسیم کے بعد ملک کے سیاسی حالات کیسے بھگاڑ کا شکار ہوئے جس کے نتیجے میں پاک بھارت جنگیں اور سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوا، یہ وہ درد ناک سوالات ہیں جن کا جواب بیشتر کتب میں مفقود ہے ۔ لکھتی ہیں کہ میں نے ان سوالات کے جوابات اپنی زیر نظر تحریر میں ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے ۔
کتاب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر حنا جمشید نے ان درد ناک سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کا جو راستہ اختیار کیا وہ بیان کردہ فکری منزل سے کوسوں دور افسانوی جزیروں ، دیومالائی قصوں، کہانیوں ، ناولوں اور ڈراموں کے صحراؤں میں گم ہوجاتا ہے۔ ڈرامہ نویسوں ، ناول نگاروں ، افسانہ نویسوں ، شاعروں اور کالم نگاروں کی اپنی الگ نفسیات ہوتی ہے جس میں بغض، حسد، شہرت، شہوت، مسلکیت اور مفاد پرستی کا عنصر شامل ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر حنا جمشید نے افغانستان ، کشمیر، قیام پاکستان اور 14اگست1947کے بعد کی مشکلات کا سرسری جائزہ لیا جبکہ خدیجہ مستور، حاجرہ مستور، قدرت اللہ شہاب اور تاریخ پاکستان کے مصنف آئن ٹالبوت نے عمیق مطالعہ کے بعد بہتر مواد پیش کیا ۔ پاکستان کی سیاست، معاشرت، حکومتی ناکامیوں اور مصلحت کوششوں پر کشور ناہید کے بعد عظمیٰ گل نے بہتر کالم نگاری کی ۔ ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی تصنیف ’’سچ تو یہ ہے‘‘کے جواب میں کشور ناہید نے سچ +سچ =جھوٹ جیسا کالم لکھ کر چوہدری صاحب کے سچ کا رخ جھوٹ کی طرف موڑ دیا ۔ اسی طرح عظمیٰ گل نے اپنی تحریر ’’اسیر وفا‘‘ میں تاریخ پاکستان کے تناظر میں تعمیر پاکستان اور تکمیل پاکستان کا ایجنڈا پیش کیا ۔
جناب جی ایم میر (مرحوم) ’’کشور کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ تاریخ نویسی میں یونانی اور رومی اقوام کو دیگر اقوام پر برتری حاصل ہے ۔ قدیم ہندوستان دیگر علوم میں جہاں کمال پر پہنچا وہی تاریخ نویسی کے فن میں نابلد رہا ۔ ویدک ایج کے مصنف آر سی موجمدار لکھتے ہیں کہ ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ علوم کی دیگر شاخوں میں ترقی کے باوجود ہم تاریخ کے علم سے ناآشنا رہے ۔ تاریخ کا علم نہ ہونے کہ وجہ سے ہم ازمنہ قدیم کے ہندی فلسفہ کو بیان کرتے وقت محض قیاس سے کام لیتے ہیں ۔
ڈاکٹر رادھاکشن ’’انڈین فلاسفی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ قدیم ہندوستانی فلاسفی کا دارومدار ویدکی، رزمی، ستری اور مدرسی ادوار پر استوار ہے ۔ ویدکی عہد دیومالائی قصے کہانیوں کا ہے جبکہ رزمیہ دور میں ان ہی قصے کہانیوں سے اخذ کردہ مہا بھارت، رامائن اور بھگوت گیتا مرتب کی گئیں ۔ اگلے دو ادوار ہم نے ان کتابوں کی شرعیں لکھنے میں ضائع کر دیے ۔ ڈاکٹر رادھا کشن نے یونانیوں اور رومیوں کے بعد کشمیری تاریخ نویسوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ کا تسلسل قائم رکھا اور اس فن کو کمال پر پہنچا دیا ۔
پنڈت کلہن کے بعد، مرزا حیدر دوغلات، ملاں احمد شاہ آبادی، ملک حیدر چاڈورہ، نارائن کول عاجز، خواجہ اعظم دیدہ مری سے لے کر منشی محمد دین فوق اور جسٹس یوسف صراف تک پچاس نامور تاریخ دانوں نے تاریخ کشمیر کے تسلسل کو ٹوٹنے نہیں دیا ۔
جنگ آزادی 1947کے بعد تاریخ مسخ کرنے کا سلسلہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شروع کیا گیا ۔ شخصیت پرستی اور قبائلی تعصب نے کشمیر کی تاریخ کو داغدار کرنے کا جو سلسلہ حکومتی سرپرستی میں شروع ہوا وہ آج بھی جاری ہے ۔ جنگ آزادی کشمیر کی ناکامی میں جن لوگوں کا کردار منفی تھا انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا گیا اور جہنوں کے دشمن کی طرف ایک پتھر تک نہیں پھینکا تھا وہ اقتدار کے حق دار ٹھہرے ۔ جنگ آزادی کشمیر کی ناکامیوں اور کوتاہیوں پر کرنل ایم اے حق مرزا، کرنل مرزا حسن (ایم سی) اور لیفٹیننٹ راجہ مظفر خان شہید ستارہ جرأت (دوبار) کے علاوہ کسی میں اخلاقی جرأت نہ ہوئی کہ وہ قوم کے سامنے سچ پیش کرے۔ برادری ازم، کرپشن اور سیاسی غنڈہ گردی نے مسئلہ کشمیر کی شکل ہی بدل ڈالی جس کا خاطر خواہ فائدہ بھارت کو ہوا ۔
کشمیر کی تاریخ پر انوار ایوب راجہ کی تحریریں "لینٹھا "، ” سرزمین بے آئین ” اور اسرار احمد راجہ کی تصنیف ’’کشمیر کا المیہ‘‘ قدیم عہد کے تسلسل کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی، ثقافتی، اخلاقی اور علمی تنزلی کا نوحہ بھی ہیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ لیفٹیننٹ راجہ مظفر خان شہید کی سولہ صفحات پر مشتمل خود نوشت ’’معرکہ جھنگڑدھرمسال اور نوشہرہ‘‘ کا دوسرا حصہ بھارتی عسکری تجزیہ نگاروں ،جرنیلوں اور تاریخ دانوں نے لکھا اور بی بی سی نے اس پر دستاویزی فلم بنائی۔ المیہ یہ بھی ہے کہ آزاد کشمیر اور پاکستان میں نہ تو کوئی لیفٹیننٹ راجہ مظفر خان شہید کے نام سے واقف ہے اور نہ ہی فوج کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ موجود ہے ۔ تاریخ اور سیاحت پر سمیع اللہ عزیز منہاس کی ’’ناگ سے نیلم تک‘‘اس سلسلہ کی بہترین تصنیف ہے ۔
امسال جناب یعقوب نظامی کی تصنیف ’’دیکھ میرا کشمیر‘‘ منظر عام پر آئی ہے ۔ دیکھا جائے تو یونانی، رومی، چینی اور انگریز سیاحوں کے بعد سمیع اللہ عزیز اور اب جناب یعقوب نظامی نے اس روایت کو دوبارہ زندہ کیا ہے ۔ نظامی صاحب کی تحریر میں بہتری کی گنجائش موجود ہے جو کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں کی جا سکتی ہے ۔ کھڑی کے دو سلطان کتاب کا اجنبی اور اضافی باب لگتا ہے ۔ مشہور قول ہے کہ ایک نیام میں دو تلواریں اور ایک خطے میں دو سلطان نہیں ہوسکتے ۔ مہاتما گاندھی لکھتے ہیں کہ ہر قوم کا ایک ہی سلطان ہوتا ہے ۔ اب بھارت میں بہت سے سلطان پیدا ہوگئے ہیں اس لیے میری ضرورت باقی نہیں رہی ۔ جناب مولانا برکت اللہ جھاگویؒ سے سابق سیکرٹری حکومت آزاد کشمیر ظفر ملک نے کشمیر کی آزادی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا ’’والئی کشمیر سلطان العارفین‘‘ نہیں مانتے ۔ اس میں شک نہیں کہ آزاد کشمیر کا سیاسی اور اخلاقی معیار برادری ازم کے ناسور نے پستی میں ڈال رکھا ہے۔ دانشوری کا تقاضہ ہے کہ اگر اخلاقی برائی پر طعن نہ ہو سکے تو اسے غیر جانبداری سے درگزر کیا جائے ۔ بدقسمتی سے ہم تاریخ کے تاریک دور سے گزر رہے ہیں جس کا دورانیہ طویل ہوتا جا رہا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ ناشکری اور بداعمال قوموں کو علم کی روشنی سے محروم کر دیتا ہے ۔ ان کی آنکھیں تو دیکھتی ہیں مگر دل اندھے ہوجاتے ہیں ۔ حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو ہم ایسی ہی قوم ہیں جو اللہ کے عذاب کی حقدار ہے ۔
تاریخ کا تاریک دور- 11
پرانی پوسٹ