کتاب کہانی۔ کہنے کو تو آپ بیتی ہے مگر لکھنے والے کی کم کتاب کی زیادہ۔ یہ ایک فناہ فی الکتاب زمین ذادے کی کہانی ہے جس نے خود کو کتاب کے حوالے کر دیا۔ اتنا کہ اپنی محبت توجہ دوستی رشتہ داری تعلق داری رزق روزی سب کچھ اسی کے سپرد کر دیا۔ یہ کتاب پھر اس بات کا جواب دیتی ہے کہ اس نے اس عشق کے بدلے اپنے عاشق کو لوٹا کتنا ہے اور لوٹایا کتنا ہے۔ یاسر جواد ہمارے طبقاتی سماج کے ایسے طبقے سے تعلق رکھتا ہے جسے اپنی پیاس بجھانے کے لیے ہر روز اپنے حصے کا کنواں کھودنا پڑتا ہے۔ یاسر نے اس کٹھن کام یا سفر میں تھک کر کبھی ہار نہیں مانی۔ کبھی اس آمر معاشرے کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ وہ خود کو مصنف افسانہ نگار ادیب نہیں سمجھتا وہ ایک مترجم ہے اور مترجم علم و ادب کی سان پر چڑھا ہوا وہ خطرناک ہتھیار ہوتا ہے جس کے وار سے خود علم و ادب بھی بچ نہیں پاتا۔ اس کا کام خاص کر یہ کتاب اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک کامیاب لکھاری ہے جس کی لکھت عصر حاضر کے تقاضوں سے بھٹکا کر نہ ماضی کے کالے پانیوں کے حوالے کرتی ہے نہ مستقبل کے سہانے خواب دکھاتی ہے۔ ایک ادیب افسانہ نگار مورخ دانش ور شاعر سائنس دان ماہر تعلیم اپنے اپنے میدان کا بھیتی اور شناور ہوتا ہے اس نے کسی ایک گھاٹ کا پانی پیا ہوتا ہے مگر ایک ماہر مترجم نے ان سب گھاٹوں کا پانی پی رکھا ہوتا ہے۔ کون کتنے پانی میں ہے اور کس کا پانی کتنا پیتلہ اور کتنا گہرا ہے وہ سب جانتا ہے۔ مترجم کا کام کسی ادیب یا مصنف سے زیادہ مشکل گہرا اور کٹھن ہوتا ہے۔ ادیب اسلوب کی استری ہاتھ میں تھام کر خیال یا کہانی کی شکنیں دور کرتا چلا جاتا ہے مصنف موضوع کو الفاظ کا روپ دے کر اپنا مدعا بیان کرتا ہے لیکن ایک مترجم کو الفاظ کو صرف برتنا ہی نہیں ہوتا بلکہ ان کے اندر گہرائی تک جھانکنا ہوتا ہے متبادل اظہار کے ترازو پر ایک ایک لفظ کو تولنا ہوتا ہے رتی ماشے کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوتا ہے بصورت دیگر وہ اپنے منصب سے ہٹاے جانے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ وہ ہر وقت احتساب کے کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے۔ کتاب کہانی کے مصنف نے فرہاد جیسا جگرا پایا ہے اس نے اپنے اکیلے دم سے زبان کے راستے میں کھڑے اجنبیت کے پہاڑ کو راستے سے ہٹا کر دوسری سمت کھڑے نخلستان کو ہماری آنکھوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ مجھے کہنے دیجیے کہ یاسر جواد نے بغیر وسائل کے تن تنہا اتنا کام کر ڈالا ہے جتنا وسائل سے مالا مال کوئی ادارہ بھی نہیں کر سکا۔ اگر کسی کو شک ہے تو وہ کسی ادارے کو سامنے لاے ترازو کے ایک پلڑے پر وہ پورا ادارہ رکھے ہم دوسرے پلڑے میں ایک انسان کا کام رکھتے ہیں فیصلہ ہو جائے گا۔ کتاب کہانی ہمیں اس انسان کی نجی کہانی سے متعارف کرواتے ہوے تین سو پچاسی صفحات پر پھیلی ہوئی ہوئی داستان کے سفر کے دوران کئی نشیب و فراز سے آگاہ کرتی ہے۔ کئی ایسے مقام آتے ہیں جہاں بے ساختہ ہنسی لبوں پر مچلتی ہے اور اور کہیں آنکھوں کے کٹورے پانی سے بھر جاتے ہیں اور دل پر چوٹ سی پڑتی ہے۔ کہاں ہنسی و مسکراہٹ دل کے آنگن میں سمی ڈالتے ہیں اور کہاں دل پر چوٹ پڑتی ہے یہ بتانا مشکل ہے اسے پڑھ کر ہی سمجھا اور جانا جا سکتا ہے۔ یاسر جواد کی کتاب کہانی کو پڑھ کر جتنا وقت صرف ہو گا اس میں سے کوئی لمحہ ضائع نہیں ہو گا یہی ایک زندہ کتاب کی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ اپنے قاری کا نہ وقت ضائع ہونے دے اور نہ دماغ کے دست سوال کو خالی لوٹائے۔ یہ کتاب اس سے بھی بڑی ہے جو ایک نیم خواندہ دیہاتی پینڈو کسان بیان کر پایا ہے۔ بک کارنر جہلم شاندار کتب شائع کرنے پر قابل صد تحسین ہے۔
مصنف خودنوشت: یاسر جواد
پبلشر :
بک کارنر
Opposite Iqbal Library, Iqbal Library Road, Book Street, Jhelum, Pakistan

+92 314 4440882

info@bookcorner.com.pk

bookcorner.com.pk