شاعروں کی اکثریت اپنے علاوہ کسی اور کو بڑا شاعر تسلیم نہیں کرتی یا کسی دوسرے سخنور کی شاعرانہ قابلیت کا اعتراف کرنے میں بخیلی سے کام لیتی ہے۔میرے دوست صابر رضا عجیب انسان ہیں جو اردو اور پنجابی کے ایک شاندار ادیب اور شاعر ہونے کے باوجود پاکستان سے مانچسٹر آنے والے شاعروں اور ادیبوں کی پذیرائی اور اُن کے اعزاز میں تقریبات کے انعقاد میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھتے۔ صرف یہی نہیں بلکہ برطانیہ کے دیگر شہروں میں بھی اُن کے لیے ادبی محفلوں کے اہتمام کی خاطر نیٹ ورکنگ کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ گزشتہ 30/ برس میں پورے یونائیٹڈ کنگڈم میں سب سے زیادہ ادبی تقریبات، مشاعرے اور کانفرنسیں صابر رضا نے منعقد کی ہیں ان کی وجہ سے مانچسٹر، اردو اور پنجابی زبان و ادب کا محور بنا ہوا ہے۔ صابر رضا اہلِ قلم کے ناز اُٹھانے اور اُن کی فرمائشیں پوری کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ کئی برس پہلے انھوں نے ایک عالمی مشاعرے کا اہتمام کیا جس میں پاکستان اور یورپ سے اردو اور پنجابی کے بہت سے نامور شعرائے کرام شریک تھے۔مشاعرے کے بعد جب شعراء رخصت ہونے لگے تو ایک شاعر کو صابر رضا کے ڈرائنگ روم میں رکھا ہوا کرسٹل کا گھوڑا (ڈیکوریشن پیس) پسند آگیا اور دوسرے شاعر کو اُن کا نیا بلیزر(کوٹ) اچھا لگا اور پھر صابر رضا نے یہ دونوں اشیاء ان شاعروں کو نذر کردیں۔ میں نے ایک بار صابر رضا سے استفسار کیا کہ آپ کو شاعروں اور ادیبوں کی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے اتنی مروت کی کیا ضرورت ہے تو وہ کہنے لگے کہ جب کوئی شاعرفرمائش کرتا ہے تو مجھ سے انکار نہیں ہوتا۔ میں نے بے ساختہ کہا شکر کریں کہ آپ لڑکی نہیں ہیں۔ میرے اس تبصرے پر صابر رضا نے قہقہہ لگایا اور مجھے اپنی غزل کا یہ معنی خیز شعر سنایا۔
؎ابھی کمرے کی بتّی جل رہی ہے
ابھی ہم اس کا مطلب جاگتے ہیں
مہمان نوازی صابر رضا کی طبیعت اور مزاج کا حصہ ہے۔وہ پاکستان، امریکہ، انڈیا اور یورپ کے مختلف ممالک سے جن شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کو اپنی ادبی تقریبات میں بلاتے ہیں۔ اُن کے قیام و طعام، آمد و رفت کے انتظامات اور خاطر مدارت میں دن رات ایک کردیتے ہیں۔ کچھ شاعروں کی حرکتوں اور فرمائشوں سے زچ ہو کر وہ کئی بار کانوں کو ہاتھ لگا کر مشاعرے اور ادبی تقریبات نہ کروانے کا تہیہ کرچکے ہیں لیکن ہر بار موسم گرما میں جب کوئی مہمان شاعر وطن عزیزسے مانچسٹر آتا ہے تو صابر رضا کو اپنی قسم توڑنی پڑتی ہے۔ صابر رضا کی تنظیم کاروانِ ادب مانچسٹر بلکہ پورے برطانیہ میں سب سے فعال آرگنائزیشن ہے۔ یوں تو اس تنظیم میں اِن کے ساتھ اور بہت سے لوگ بھی شریک ہیں لیکن اُن کی اپنی حیثیت میرِ کارواں کی ہے۔ وہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ شریک ِسفر رکھنے کے قائل ہیں۔کئی برس پہلے کی بات ہے کہ صابر رضا پاکستان سے چند نامور شاعروں کے کارواں کو مانچسٹر سے سکاٹ لینڈ لے کر گئے۔ برطانیہ سے چند دیگر شاعروں کے علاوہ میں بھی اِس قافلے کا حصہ تھا۔ ڈاکٹر شفیع کوثر نے گلاسکو میں ایک شاندار مشاعرے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ دورانِ سفر ایک پاکستانی شاعر نے صابر رضا کو بتایا کہ اس کے مالی حالات اچھے نہیں ہیں اور چند ماہ بعد اس کی بیٹی کی شادی طے ہے۔ صابر رضا اس کی یہ بات سن کر فکر مند ہوگئے اور پھر جب گلاسکو میں مشاعرے کے بعد شعرا کو معاوضہ (اعزازیہ) دیا گیا تو صابر رضا نے اپنے اعزازیے اور سفر کے اخراجات کے لیے ملنے والی تمام رقم اس شاعر کو دے دی۔ مجھ سمیت دیگر شعرا نے بھی صابر رضا کی پیروی کی۔مجھے یہ واقعہ اس لیے نہیں بھولتا کہ صابر رضا کی اس شاعر سے کوئی گہری دوستی اور یارانہ بھی نہیں تھا مگر ضرورت مند کے کام آنا صابر رضا کی فطرت میں شامل ہے۔ صابر رضا 1980ء میں ایک پروفیشنل کرکٹر کے طور پر برطانیہ آئے تھے اور ہڈرز فیلڈ میں ایک کلب کی طرف سے کھیلتے رہے۔ اُن کے بڑے بھائی افتخار پہلے سے ہی یہاں ٹیکسٹائل کا کاروبار کرتے تھے۔ صابر رضا نے پہلا شعر پندرہ برس کی عمر میں کہا۔
خواب کیسے سہانے ہوتے ہیں
درحقیقت فسانے ہوتے ہیں
فیصل آباد کے تجارت پیشہ خاندان میں کسی شاعر کا ظہورہونا ایک غیر معمولی بات تھی۔ ابتدا میں ڈاکٹر جاوید زیدی نے اُن کی حوصلہ افزائی کی اور انھیں پڑھنے لکھنے کی طرف راغب کرنے کے لیے کتابیں فراہم کیں۔بعدازاں صابر رضا کو ڈاکٹرریاض مجید کی قربت میسر آئی جنھوں نے اُن کی شعری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔برطانیہ آنے کے بعد بھی صابر رضا نے اپنے شعری تسلسل کو برقرار رکھا۔ صابر رضا کی نثری اور شعری تخلیقات ایک درجن سے زیادہ کتابوں کی شکل میں منظرِعام پر آچکی ہیں۔ اُن کے شعری مجموعوں میں ”سلسلے، فاصلے، بے صوت رنگوں کا شور،تمھارے لیے، بے سمت راہوں کا مسافر، دردِ وراثت، پانیوں سے پرے اور خزاں دریدہ بدن“ کے نام سے شائع ہوئے جبکہ اُن کا پنجابی ناول ”دور دراڈے“ کے نام سے چھپا جسے مسعود کھدرپوش ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ صابر رضا کے افسانوں کا مجموعہ ”آئینے“ اور پنجابی شاعری ”سجرے مکھ دی لو“ کے نام سے کتابی شکل میں یکجا ہوچکی ہے۔صابر رضا کے فن اورشخصیت پر ڈاکٹر عبدالکریم شکور نے بھی ایک کتاب مرتب کی ہے۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں صابر رضا کی شاعری پر ایک مقالہ بھی لکھا جاچکا ہے۔صابررضا کا اردو ناول ”ہم کتنے کارآمد تھے“ ادبی حلقوں سے پذیرائی حاصل کر چکا ہے اور اب ان کا ایک اور پنجابی ناول ٹھنڈی میٹھی دوزخ زیرِ طبع ہے۔صابر رضا نے کئی دہائیوں پر مشتمل اپنے ادبی سفر میں اپنے تخلیقی حوالوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ اس سفر کے دوران کبھی اپنی ذمہ داریوں سے بھی غافل نہیں ہوئے۔ معاشرتی ناہمواریوں اور ناانصافیوں کے خلاف انھوں نے جو صدائے احتجاج اپنے تخلیقی سفر کے آغاز میں بلند کی تھی۔ وہ آج بھی اُنھیں مظلوم کی حمایت کا علمبردار بنائے ہوئے ہے۔ انھیں اس صداقت کا مکمل ادراک ہے کہ اُن کے لکھے ہوئے لفظوں کااُن کے قاری اور معاشرے پر کیا اثر مرتب ہوگا۔
کوفے آباد ہیں ہر سمت ریا کاری ہے
کربلا تیری طرف اپنا سفر جاری ہے
—
میرے پیچھے ہے سر پھروں کا ہجوم
میری تلوار آخری تو نہیں
—
بے نیازیوں میں ہے حال یہ عطاؤں کا
بٹ رہا ہے چیلوں میں رزق فاختاؤں کا
—
جو خون دے کے ملی وہ زمین میری ہے
وہ جس میں سانپ پلے آستین میری ہے
جو آج تک نہ بِکی وہ زبان رکھتا ہوں
جو آج تک نہ جھکی وہ جبین میری ہے
—
ہم خطا کار، گنہ کار، سیہ کار سہی
کچھ بھی ہو جبر کی تائید نہیں ہو سکتی
اس سے بڑھ کر تیری تعریف بھلا کیا ہوگی
تیرے کردار پر تنقید نہیں ہو سکتی
—
جگنو بھی ٹمٹمائیں تو بندوق تان لیں
کچھ ایسے روشنی کے ستمگر حریف ہیں
—
ریزہ ریزہ ہوئے عکس لیکن رضا آئینے جاگتے ہیں
لوٹ کر راہزن سو رہے ہیں مگر قافلے جاگتے ہیں
میں صابر رضا کی شاعری اورادبی تقریبات کے سلسلے میں اُن کے حسنِ انتظام کا مداح ہوں۔بیرونی دنیااور اجنبی معاشروں میں آباد اردوکے اہلِ قلم نے ہجرتوں کے دُکھ سہہ کر جو ادب تخلیق کیا ہے اس میں معیار اور مقداردونوں حوالوں سے صابر رضا کا بڑا نمایاں حصہ ہے۔ وہ کسی ستائش اور صلے کی تمنا کے بغیر اروداور پنجابی زبان و ادب کی بقا کا عَلَم تھامے ہوئے ہیں۔ وہ نیکی کر کے دریا میں ڈال دیتے ہیں۔مجھے اُن کے جو اشعار پسند ہیں لیجئے آپ بھی اُن سے محظوظ ہوں۔
کبھی تو دھوئے گی منزل تھکن آلود چہرے کو
کبھی تو میرے بالوں سے سفر کی خاک اُترے گی
—
رضا کوئی جسے سُنتا ہے
یقینا وہ مرا لہجہ نہیں ہے
مجھے تو مصلحت کیشی نے مارا
مرا بیٹا مگر مجھ سا نہیں ہے
—
بچھڑنے والے تری دوریاں غنیمت ہیں
یہ فاصلے بھی تری ہجرتوں کا ورثہ ہیں
—
کسی احساس کی تنویر ہے اِن ذہنوں پر
کام پر اُٹھ کے جو جاتے ہیں سویرے بچے
—
تو مِرا ظرف جان جائے گا
طے مرے ساتھ چند گام تو کر
—
ہمارا رزق پھیلا ہے جہاں میں
ہمیں پر کھول کر اڑنا پڑے گا
—
ہم کتنے کارآمد تھے
دُکھ کتنے بے کار ملے
میں دعا گو ہوں کے خالقِ کائنات کا صابر رضاپر کرم جاری رہے تاکہ وہ اسی استقامت کے ساتھ اپنا ادبی سفر جاری رکھیں۔ مانچسٹر میں ادبی محفلوں اور رونقوں کا اہتمام کرتے رہیں۔ ویسے بھی دیارِ غیر میں ہمیں اردو اور پنجابی زبان و ادب کی بقا اور فر وغ کے لیے صابر رضا جیسے انتھک اور پرخلوص لوگوں کی ضرورت ہے۔