یہ 1990ءکا موسم بہار تھا جب رضا علی عابدی بہاول پور آئے۔ میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا، وہ کسی نوجوان شاعر کی تلاش میں تھے میں اُن دِنوں ریڈیو پاکستان بہاول پور میں اناﺅنسر کے طور پر بھی کام کرتا تھا۔ عابدی صاحب ریڈیوا سٹیشن تشریف لائے تو اُن سے پہلی بار ملاقات ہوئی میں اُن کی آواز کا مداح تو پہلے ہی تھا اُن سے مل کر اُن کی شاندار شخصیت کا بھی پرستار ہو گیا۔ میں اور میرے دوست یوسف لودھی اُنہیں چولستان کی سیر کرانے لے گئے جہاں انہوں نے صحرا کی ریت پر بیٹھ کر میری شاعری ریکارڈ کی اور پھر جب میں لندن آ گیا تو انہوں نے مجھے بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس میں متعارف کرایا۔ اُن سے میری نیاز مندی کا جو سلسلہ قائم ہوا وہ تاحال جاری و ساری ہے۔ رضا علی عابدی پندرہ برس کی عمر سے لکھ رہے ہیں۔انہوں نے پہلی ہجرت 1950ءمیں یوپی کے ایک چھوٹے سے شہر روڑکی سے کراچی اپنے خاندان کے ہمراہ کی تھی۔ 60ءکی دہائی میں جب راولپنڈی سے روزنامہ جنگ کا آغاز ہوا تو وہ پنجاب آ گئے اور پھر 1972ءمیں بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس سے وابستگی انہیں لندن لے آئی۔ ہجرتوں کے اس سلسلے کی وجہ سے سفر رضا علی عابدی کی سرشت میں شامل ہو گیا۔لڑکپن میں انہیں پہلی تحریر کا معاوضہ دو روپے ملا تھا اور چند برس قبل جب انہوں نے پنجاب مڈل سکولنگ پراجیکٹ کے لئے بچوں کی دو کتابیں لکھیں تو انہیں اس کا معاوضہ 2لاکھ روپے دیا گیا۔ دو روپے سے دو لاکھ روپے تک کے اس سفر میں عابدی صاحب نے جرنیلی سڑک اور شیر دریا جیسی بے مثال کتابیں بھی تحریر کیں جنہوں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے۔



ایسے قاعدے اور کتابیں لکھی جائیں جو دادا دادی یا نانا نانی اپنے پوتوں پوتیوں یا نواسوں نواسیوں کو پڑھا سکیں تاکہ انہیں اپنی مادری زبان کی شدھ بدھ حاصل ہو سکے ورنہ کوئی دِن جاتا ہے کہ یہاں اردو بولنے والا صرف وہ رہ جائے گا جو یہاں آ کر سیاسی پناہ لیتا ہے بلکہ اب تو اس پر بھی بندش لگنے والی ہے۔ رضا علی عابدی کی بیشتر تحریریں اور کتابیں اُن کے سفری مشاہدات پر مبنی ہیں۔ وہ ایک ایسے مسافر ادیب اور براڈ کاسٹر ہیں جن کی زندگی واقعی کھلی کتاب کی طرح ہے۔انہوں نے جو محسوس کیا، دیکھا یا سنا وہ سب تحریر کر دیا ہے۔ اردو دنیا کے لوگ انہیں ایک صحافی اور سفرنامہ نگار کے طور پر جانتے ہیں لیکن درحقیقت وہ نیوز کو بھی سٹوری کے طور پر اپنے قاری اور سامع تک پہنچانے کو زیادہ موثر سمجھتے ہیں۔ اُن کی کتابیں اپنی آواز اور جان صاحب بہت منفرد اور عمدہ کہانیوں کے مجموعے ہیں۔ جو اردو کے افسانوی ادب میں خوشگوار اضافہ ہیں۔ رضا علی عابدی کے مداحوں کو اُن کے یہ دونوں افسانوی مجموعے ضرور پڑھنے چاہیئیں۔رضا علی عابدی نے جو کچھ لکھا اگر وہ یہ سب کچھ انگریزی میں تحریر کرتے تو انہیں برطانوی حکومت کئی طرح کے اعزازات دے چکی ہوتی۔ مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ حکومت پاکستان کے اُن ارباب اختیار نے رضا علی عابدی کی کتابوں کو کیونکر نظر انداز کر دیا جو اردو کے ادیبوں کو سرکاری اعزازات دینے کے فیصلے کرتے ہیں۔ رضا علی عابدی اس سلسلے میں نہ تو کسی قسم کی لابی کا سہارا لینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی اعزازات کا حصول اُن کے تخلیقی مشن کا حصہ ہے۔ وہ صرف اس بات سے سرشار رہتے ہیں کہ اُن کی بات اپنے مخاطب تک پہنچ رہی ہے۔ یہ بات اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے لئے باعث فخر ہے کہ رضا علی عابدی نے اس جامعہ کی طرف سے اعزازی ڈاکٹر اور پروفیسر کی ڈگری کو قبول کیا۔قحط الرجال کے اس زمانے میں ہمیں جو بڑے تخلیق کار اور شاندار لوگ میسر ہیں ہمیں اُن کی زندگی میں ہی اُن کے فن اور قابلیت کا اعتراف کرنا چاہیئے۔