آپ سسلی آئیں تو آپکو مافیا کے علاوہ بہت کچھ دیکھنے اور سیکھنے کو ملتا ہے ، یہ مقامی داستانیں ، لوک کہانیاں ہر طرف ایسے بکھری پڑی ہیں کہ آپ انہیں چننے ( سننے ) بیٹھ جائیں تو وقت گزرنے کا پتہ بھی نہیں چلتا.
میں جس روز سے پلارمو آیا ہوں میں نے ہر طرف دو سروں سے بنے گلدان دیکھے. یہ گلدان، اگر آپ کچھ دیر ان کے چہرے کو دیکھیں ، تو آپ سے بات کرنے لگ جاتے ہیں . مجھے پتہ گرمی بہت ہے اور آپ کو لگے گا کہ مجھے ہیٹ اسٹروک ہو گئی ہے اور میں بہکی بہکی باتیں لکھ رہا ہوں مگر میرا یقین مانیں ان سروں کے پاس کچھ دیر بیٹھیں تو عجیب سا خوف آتا ہے . ایک خوبصورت سر عورت کا اور دوسرا مرد کا جس کی شباہت عربوں جیسی ہے . یہاں کے لوگ اسے ایک موریش مرد کا سر کہتے ہیں . مور اصطلاح ہے جسے عیسائی یورپیوں نے قرون وسطی کے دوران مغرب ( مراکش) ، جزیرہ نما آئبیرین، سسلی اور مالٹا کے مسلمان باشندوں کو نامزد کرنے کے لیے استعمال کیا۔ مورز ابتدائی طور پر مقامی مغربی بربر تھے۔ اس نام کا اطلاق بعد میں عربوں اور عربائزڈ ایبیرین پر بھی ہوا۔
تو قصہ کچھ یوں ہے – کہتے ہیں ایک دن، ایک لڑکی جو عرب پلارمو کے علاقے کلسا میں رہتی تھی، اپنے گھر کی بالکونی میں کچھ پودوں اور پھولوں کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ اچانک ایک سیاہ فام سوداگر وہاں سے گزرا اور وہ فوراً ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے ۔ محبت اندھی ہوتی ہے اور اس محبت کو اتنی قربت ملی کے تمام حجاب گر گئے مگر پھر ایک رات نوجوان لڑکی کو پتہ چلا کہ اس کے معشوق کی ایک بیوی اور بچے اپنے آبائی ملک میں اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ بہت افسردہ ہوئی اسے لگا وہ معشوق کو کھو دے گی .
لڑکی نے حسد سے پاگل ہو کر اسے ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ رکھنے کا طریقہ سوچا اور اس نے اس کا سر کاٹ دیا، اب اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس سر کا کیا کرے پھر اس نے اس بارو میں بھی ترکیب لڑائی اور اس میں تلسی اگا دی ، سر کا گلدان بنایا اور اسے بالکونی پر رکھ دیا.
جیسے جیسے لوگ اس کی بالکونی سے گزرتے تھے، وہ اس کی پھلتی پھولتی تلسی پر رشک کرنے لگے،کہتے ہیں اس لڑکی نے اپنے معشوق کی کھوپڑی میں جو تلسی اگائی اس کی وہ اپنے آنسوؤں سے آبیاری کرتی ۔ کہانی سننے کے بعد مجھے اس حسینہ پہ ترس آیا کیونکہ بقول جناب فرحت عباس شاہ
کسی کلی کسی گل میں کسی چمن میں نہیں
وہ رنگ ہے ہی نہیں جو ترے بدن میں نہیں
مجھے کٹے سر کی اس محبت میں کہیں نہ کوئی عشق نظر آیا اور نہ ہی وہ ولولہ اور جوش جو عشق کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہوتا ہے . بس ایک جسم کو کھونے کی چاہت میں اس نے اپنے معشوق کے سر میں تلسی اگائی جو ایک داستان بن گئی. کیا تلسی آج تک مہک رہی ہے ؟ میں نے لڑکی والے گلدان کی آنکھوں میں آکھیں ڈالیں مگر اب مجھے کوئی جواب نہیں مل رہا تھا ، وہ مجھ سے تب تک ہی باتیں کر رہے تھی جب تک اس کا کہانی میرے لیے ایک راز تھی, اسی لیے کہتے ہیں لاعلمی ایک نعمت ہے.