گماں کہتا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے بچوں کا ادب تخلیق ہوا ہو گا۔ ہزاروں لاکھوں برس پہلے جب کسی ماں نے بھوک سے بلبلاتے بچے کو بہلانے کے لیے کوئی کہانی سنائی ہو گی یا کسی نے اپنے بے قرار جگر گوشے کی تسکینِ قلب کے لیے کوئی لوری گائی ہو گی، کسی یتیم کی ہمت جوان رکھنے کے لیے نانی دادی نے فسانہ گھڑا ہو گا کہ اس کا باپ دُور دیس گیا ہے اور جب وہ آئے گا تو اس کے لیے ڈھیروں کھلونے اور مٹھائی لائے گا یا کسی ماں کی آغوشِ محبت سے محروم بچے کو مسرت آگیں قصّوں کے بازوؤں میں پالا پوسا گیا ہو گا۔ اس گماں کو تقویت اس سے بھی ملتی ہے کہ دنیا بھر کی لوک کہانیوں کا بیشتر خزانہ بچوں کی کہانیوں پر مشتمل ہے۔

بچوں کے بے شمار لکھنے والوں نے بچوں کے لیے اُردو میں ایسا شاہکار ادب تخلیق کیا جس نے یکے بعد دیگرے کئی نسلوں کی اخلاقی و روحانی تربیت کی۔ انھیں سوچنا، سمجھنا، سوال کرنا، لکھنا، بولنا سکھایا۔ بدقسمتی سے بچوں کے ادب کا یہ خزانہ وقت کی گرد تلے چُھپتا جا رہا تھا کیونکہ ان میں شائع ہونے والی شاندار کہانیوں کی کتابی صورت میں اشاعت کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا تھا۔


مرحبا، صد ہزار مرحبا
این کار از تو آید و مرداں چنیں کنند
نذیر انبالوی نے بچوں کے لیے بیس حصوں پر مشتمل جو الف لیلہ ترتیب دی ہیں اس میں ایک ہزار ایک کہانیاں شامل ہیں۔ اگر آپ نے بچوں کے ادب کی الف لیلہ کی کتابیں نہیں خریدیں تو فوراً حاصل کیجیے، بچوں کو بھی پڑھوائیے اور خود بھی پڑھیے کہ اس دنیا میں نفرت، تعصب، حسد، کینہ، ظلم، جبر اور دل آزاری کی جو وبائیں پھیلی ہیں اس میں لازم ہے کہ ہم وہ ابتدائی اسباق دوبارہ پڑھیں جو ہم میں محبت، رواداری، ایثار، اخلاص، ہمدردی، دل آسائی اور دلداری کے جذبوں کو نیا جنم دیں۔
نذیر انبالوی صاحب کو ایک بار پھر مبارک باد اور دعائیں۔
فہیم عالم صاحب بھی ہمارے شکریے کے حقدار ہیں کہ وہ اس کار عظیم میں ان کے ہم قدم ہیں۔