تحریر: شمس رحمان
تازہ ترین
چار جانوں کے ضیائع ، ان گنت زخمیوں، سینکڑوں گرفتاریوں اور کم از کم اڑتالیس گھنٹوں کے کٹھن سفر کے جوکھم کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تینوں بڑے مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ آج مورخہ 14 مئی 2024 کو ایکشن کمیٹی کے تینوں بنیادی مطالبات کے فوری طور پر نافذ العمل اطلاعیے ( نوٹیفکیشن) جاری ہونے کے بعد کمیٹی کے اجلاس کے بعد ترجمان شوکت نواز میر نے احتجاج ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ رات گئے تک رینجرز عوام پر گولیاں برساتے اور شیلنگ کرتے رہے۔ تاہم آج صبح سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاعات نہیں ہیں۔ آج کا دن عوامی حقوق تحریک کے شہدا کے نام کیا گیا ہے۔ آج پورے خطے میں شہدا کا سوگ منایا جائے گا اور ظاہر ہے کہ یہ دن اب ہر سال آزاد جموں کشمیر میں عوامی حقوق کے نام سے من کر ان شہد کو یاد رکھا جائے گا جس طرح دنیا بھر میں مختلف تحریکوں کے شہدا کو یاد رکھا جاتا ہے اور جن حقوق کے لیے انہوں نے جان دی ہوتی ہے ان کی حفاظت اور فروغ کا عہد کیا جاتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ آج ہی اس تحریک کے دوران گرفتار کیے جانے ولے تمام شہریوں کو رہا کر دیا جائے گا اور مقدمات خارج کر دیے جائیں گے۔
تاہم آزاد کشمیر میں حکمرانی کے انداز میں انا اور انتقام کے واضح رحجانات کے پیش نظر ایک شک ہمیشہ سے قائم رہتا ہے کہ عوام کے منتشر ہونے کے بعد کیے جانے ولے فیصلوں پر ایمانداری سے عمل کیا جائے گا یا نہیں۔امید ہے کہ آزاد کشمیر میں موجودہ ارباب اختیار ایسا کچھ نہیں کریں گے۔ تحریک کا موجودہ مرحلہ جس کو ایک سال ہو چلا ہے اس کے دوران ان گنت سوالات پیدا ہوئے جن پر بحث مباحثہ اس کے قائدین اور شرکاء میں ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیری حکمرانوں اور پاکستان کے ظاہر اور خفیہ اداروں میں بھی جاری رہے گا۔
تاہم میں آج یہاں اس کے ان پہلوؤں پر توجہ مرکوز رکھوں گا جو میرے خیال میں آزاد کشمیر کے اندر متبادل سیاست کو مثبت، تعمیری، صحت مند یعنی ترقی پسندانہ راہوں پر آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
پس منظر اور خطرات
جب یہ تحریک گزشتہ سال شروع ہوئی تو میں میرپور میں موجود تھا ۔ دس سال بعد وطن واپس لوٹنے کی وجہ سے میں بہت سے زمینی حقائق سے آگاہ نہیں تھا۔ راولاکوٹ میں آٹے کی قلت رعایتی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عمرعزیز، سردار قدیر اور ان کے ساتھیوں کے دھرنے سے پہلے میں نے ایک طویل مضمون میں تجویز پیش کی تھی کہ آزاد کشمیر کی تمام آزادی و ترقی پسند جماعتوں کی قیادت کو مل بیٹھ کر ایک مشترکہ جمہوری سیاسی جماعت بنانے کی ضرورت ہے جس کی توجہ کا مرکزاس خطے میں عوام کی روزمرہ زندگی کے حقیقی مسائل کا ٹھوس تجزیہ کر کے ایک مشترکہ اور قابل عمل لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ تاہم جب مجھے عوامی ایکشن کمیٹی کے پہلے جرگے میں شرکت کا موقع ملا تو مجھے معلوم ہوا کہ دراصل اس کے لیے حالات کی کوکھ سے ایک عمل نے جنم لینا شروع کر دیا ہے۔ اپریل 2023 میں میرے واپس برطانیہ جانے کے بعد میں نے اس پر جو ٹاک شو کیے اس میں واضح طور پر کہا تھا بنیادی عوامی مسائل اور حقوق کی اس تحریک کو تین طرح کے بڑے خطرت درپیش ہوں گے۔
ایک تو یہ کہ آزاد کشمیر کے حکمران حسب سابق اس کو پاکستان دشمن، بھارت نواز قرار دے کر پاکستان کے اداروں کو ملوث کر کے خود فرسودہ طرز حکمرانی جو ان کے لیے رحمتوں اور نعمتوں کا باعث ہے جاری رکھنا چائیں گے۔ تاہم تحریک کی قیادت میں انفرادی قائد کی بجائے تیس رکنی قیادتی کمیٹی بن جانے کے بعد تحریک کو چارٹر آف ڈیمانڈ پر قائم رکھنے کی حکمت عملی سے پاکستان کے ادارے اس میں ملوث نہ ہوئے۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم انوار الحق نے پاکستان کی سینٹ میں جا کر آزاد کشمیر کا مقدمہ بہت زور سے پیش کیا لیکن بظاہر پزیرائی کے باوجود عملی طور پر عوام کے مطالبات ماننے کے لیے کوئی حقیقی پیش رفت نہ ہوئی۔
دوسرا خطرہ جس کی میں نے نشاندہی کی تھی وہ تھا اس تحریک میں سے خود مختاری اور انقلاب نکالنے کی ممکنہ کوششیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس تحریک کے آغاز سے ہی آزاد کشمیر کے وہ نوجوان جو روایتی سیاسی سیٹ اپ سے نالاں ہیں اور جن کا سیاسی شعور ریاست جموں کشمیر کی وحدت اورخود مختاری اور یا سماجی انقلابی تبدیلیاں برپا کرنے کے نظریات گرد پروان چڑھا ہے وہ ہی اس تحریک کی کھل کر حمایت کر رہے تھے۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی اور ہے کہ روایتی سیاست کی مرکزی حکمت عملی میں عوامی مسائل و ضروریات اور سہولتوں میں اضافے کی بجائے ایک مخصوص بیانیے کے ذریعے عوام کی اپنے اصل مسائل سے توجہ ہٹائے رکھنا اور ان کو اپنے پیچھے لگائے رکھنا رہی ہے۔ آزاد کشمیر میں اگر غور سے دیکھیں تو موجودہ ‘انتخابی سیاستدان’ عوم کی مشکلات کو جان بوجھ کر ختم نہیں کرتے کہ انتخابات کے نزدیک ان مشکلات پر ہی تو ووٹ لینے ہیں۔ گزشتہ برس یہاں قیام کے دوران شروع کے ماہ میں مجھے ایسا محسوس ہوا کہ عام عوام یہ سب کچھ جانتے ہیں لیکن ان کو یقین ہے کہ اس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے اس لیے وہ بس گزارہ کیے جا رہے ہیں۔
جب کہ دوسری طرف خود مختاری اور انقلاب کی سیاست کرنے والوں نے بھی عوام کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس ، عملی اور قابل عمل حکمت عملی کی بجائے عومی مسائل اور مشکلات کو مقامی حکمرانوں اور پاکستان کے غلبے کے متھے مار مار کر نوجوانوں کو سیاسی شعور دیا۔ اس نقطہ نظر سے مقامی حالات کے مطابق مقامی مسائل کو مقامی حکومتی سیٹ اپ میں حل کرنے کی کوششیں فضول نظر آتی ہیں۔
عوام کے مسائل کو اپنے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے ان دونوں سیاسی رحجانات کے درمیان مسائل گھمبیر شکل اختیار کرتے رہے اور عوام پستے رہے۔
تاہم بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صورت حال میں ڈرامائی تبدیلیوں اور تحریک حریت کی الماریوں سے کئی ڈھانچوں کے گرنے کے بعد اس نوجوان نسل کی توجہ آزاد کشمیر کے حالات کی طرف مُڑ گئی۔ گزشتہ برس مئی میں جب راولاکوٹ میں چند تاجروں اور سیاسی کارکنوں نے دھرنا دیا تو چند ماہ کے اندر اندر یہ پونچھ ڈویژن میں پھیل گیا پھر میرپور ڈویژن میں اور پھر مظفر آباد ڈویژن میں اور پھر مظفر آباد میں ‘ عظیم مشاورت’ ( گرانڈ کنسلٹیشن) میں ارٹالیس گھنٹوں کی مشاورت کے بعد ایک پورا ‘منشورِ مطالبات’ ( چارٹر آف ڈیمانڈ ) تیار ہو کر عوام کے سامنے آگیا۔ تینوں ڈویژنوں کی عوام ایکشن کمیٹیاں ‘ جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ‘ میں جُڑ گئیں۔ تیس رکنی کور کمیٹی چن لی گئی جس میں ہر ضلعے سے تین تین نمائندے شامل تھے۔
لیکن سرکار اور سرکاری حلقے اور عوام کے منتخب نمائندے پاؤں تلے سے سرکتی زمین سے بے خبر الزمات لگانے میں مصروف رہے۔ حتیٰ کہ بجلی کے پہلے سے ہی غیر منصفانہ بلوں میں مزید اضافے کا اعلان آ گیا۔ یہ شاید برداشت کے اونٹ پر آخری تنکا تھا۔
میرپور کی صورت حال کے پیش نظر جس پر میری سمجھ و بوجھ کا زیادہ تر دارومدار تھا میں سمجھ رہا تھا کہ کم از کم میرپور میں تو بلات کا بائیکاٹ نہیں ہو گا۔ لیکن میں کتنا غلط تھا۔
بجلی کے بلات کا بائیکاٹ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے اس تحریک کو عوام کے ان حلقوں کے ساتھ بھی جوڑ دیا جو اس سے پہلے مایوسی اور بیزاری کے ساتھ زندگی کیے جا رہے تھے یا آنکھیں بند کیے اپنی اپنی برادری کے سیاستدانوں کے پیچھے چلے جا رہے تھے۔ لیکن جلد ہی صورت حال میں واضح تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ میرپور میں بھی بائیکاٹ کی شرح پچاس فیصد سے اوپر چلی گئی۔ دیگر اضلاع میں تو کہیں زیادہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ دھرنوں میں بھی اضافہ ہوا اور جلوس جلسے بھی ہوتے رہے جن میں عوام کی شرکت توقعات کے بر عکس بڑھتی گئی۔ تب جا کر مذاکرات کا سلسلہ چلا لیکن کوئی ٹھوس نتیجہ نہ نکلا۔
مزاکرات میں اتفاق کیے جانے والے معاملات پر عملی اقدامات نہ ٹھائے جانے کی وجہ سے جب ایکشن کمیٹی نے 5 فروری 2024 کو آزاد کشمیر بھر میں احتجاجوں کا اعلان کیا تو میں اس کے خلاف تھا۔ کیونکہ اس سے تحریک کے اپنی اصل بنیاد سے ہٹنے کا خدشہ تھا۔ یہ تحریک الحاق اور خود مختاری کے نظریات کے لیے نہیں تھی۔ میری سمجھ کے مطابق عام آدمی کے زہن میں الحاق اور خود مختاری کے معاملات الحاق نواز اور آزادی پسند سیاستدانوں کے تھے۔ عام آدمی کو اپنی بنیادی ضروریات سے غرض تھی۔ ایک ایسے نظام کی خواہش تھی جو ان کی زندگیوں کو بہتر بنائے ۔ ان کی محنت کا صلہ دے۔ 5 فروری تک بحث کا موضوع بدل گیا۔
تاہم 4 فروری کو مزاکرات کے بعد مطالبا ت تسلیم کیے جانے کے باوجود جب عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ایکشن کمیٹی نے مارچ میں 11 مئی کو آزاد کشمیر بھر سے مظفر آباد تک ‘لوک مارچ’ کی کال دے دی۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ بھی نظر آ رہی تھی کہ 4 فروری کو مذاکرات کے بعد عوام میں ایک پروپیگنڈہ چل پڑا تھا کہ کمیٹی نے تحریک ختم کر دی ہے۔
میں نے اپنے پروگراموں میں اور نجی ملاقاتوں میں بھی اپنے تحفظات کا ظہار کیا کہ اس تحریک کو درحقیقت لانگ مارچوں کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اگر عوام نے بلات کا بائیکاٹ جاری رکھا تو حکومت کو ریلیف دینا ہی پڑے گا۔ میں نے میرپور میں دوستوں کے ساتھ بات چیت میں یہ بھی کہا کہ یہ عوام کی زندگیاں مزید مشکل بنانے والی حکمت عملی ہے اس لیے عوام نہیں نکلیں گے۔ صرف کچھ سرگرم سیاسی کارکنان ہی مارچ کریں گے۔ لیکن ایک بار پھر میں کتنا غلط تھا۔
11 مئی لوک مارچ اور تشدد
جب مارچ میرپور سے نکلا تو میرے قصبے کالگڑھ ( اسلام گڑھ) میں گولی لگنے سے ایک نوجوان اور نفیس پولیس افسر عدنان قریشی کی موت واقع ہو گئی اور دو شہری گولیوں سے زخمی ہو گئے تو اس وقت جبیر ہوٹل میں بیٹھے میرے جیسے اور کئی لکھاری، صحافی اور تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس تحریک کے بچنے کا۔ اب لوگ اس تحریک کے خلاف ہو جائیں گے اور سرکار اب جبری طور پر بلوں کی ادائیگی کروائے گی۔ اور اس تحریک کی ناکامی کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اس مارچ کا اعلان کیا۔ تاہم دوسری طرف کچھ دوست ایسے بھی تھے جو کہتے تھے ایسا کچھ نہیں ہے۔ ڈڈیال سے آگے کے حالات آپ نہیں جانتے۔ میرا موقف تھا کہ چار پانچ ہزار تک لوگ نکل بھی آئے تو کیا ہو گا؟ لیکن یہاں بھی میرا اندازہ کم از کم ایک لاکھ کے مارجن یعنی 95٪ غلط ثابت ہوا۔ آزاد کشمیر کا شاید ہی کوئی گاؤں اور قصبہ بچا ہو گا جہاں سے لوگ اس مارچ کا حصہ نہ بنے ہوں اور مظفر آباد نہ پہنچے ہوں۔ سوشیالوجیکل نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس مارچ نے عملی طور پر 1947 سے قائم اس حکومتی ڈھانچے کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں جو قبائلی اور علاقائی بنیادوں پر قائم تھا اور کافی حد تک اس ہی نظام کا بگڑا ہو تسلسل ہے جو مہاراجہ کے دور سے چلا آرہا ہے۔ جس میں برادری ، قبیلے اور علاقے کو سیاسی بنا دیا گیا تھا۔
دیوار پر لکھے اس نوشتے کو پڑھنے کے باوجود کہ آزاد کشمیر کا نوجوان اب طفل تسلیوں سے نہیں بہلنے والا ( جس سے درحقیقت موجودہ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے گزشتہ سال سینٹ کی مالی کمیٹی کے جلاس میں پاکستانی حکمرانوں کو خبردار بھی کیا تھا) وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے جبر اور خوف پھیلا کر مارچ ختم کرنے کی کوششیں کیں۔ میں نے ان کی طرف سے پاکستان سے ایف سی اور پی سی منگوانے کو فرسودہ ذہنیت کی علامت کہا تھا۔ آخر میں تو حد ہی ہو گئی۔ بقول وزیر اعظم آزاد کشمیر پاکستان حکومت اور آرمی چیف کی طرف سے خصوصی طور پر صورت حال کا نوٹس لے کر تحریک کے بنیادی مطالبات مان لینے کے بعد جب قافلے مظفر آباد میں اکٹھے ہوئے تو رینجرز جو ایک دن پہلے سے ہی مظفر آباد آ جا رہے تھے وہ اور مظاہرین عوام آمنے سامنے آ گئے۔ ویڈیو کلپ جو سوشل میڈیا پر وائرل ہیں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تڑ تڑ گولیاں چل رہی تھیں۔ آنسو گیس کے دھویں نے شہر کو لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ یہ رپورٹس بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں کہ مظاہرین کی طرف سے بھی پتھراؤ کیا گیا۔ تاہم اسلام گڑھ سے لے کر راستے میں جہاں جہاں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور مظاہرین کو روکا گیا وہاں تصادم ہوا اور بہت سے ناخوشگوار واقعات پیش آئے۔
کیا کیا جائے؟
اس پوری صورت حال کو اگر اس تحریک کی ایک سالہ سرگرمیوں کو سامنے رکھ کر دیکھ جائے تو ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوتا ہے۔ ایسی تحریک جس میں پچاس پچاس ہزار لوگ باہر نکلے اور کوئی یک گملہ تک نہیں ٹوٹا اس کے جلوس کو روکنے کے لیے باہر سے پی سی منگوانے اور پھر آخر میں مطالبات تسلیم کر لیے جانے کے بعد رینجرز بلانے کی کا ضرورت تھی؟ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ عوامی تحریک میں شامل کچھ قوم پرستوں کی طرف سے اس تحریک کو یوں پیش کرنا جیسے یہ پاکستان کے قبضے کے خلاف ہے کا کیا جواز ہے؟ آزاد کشمیر کے قوم پرستوں اور پاکستان کے اداروں کو یہ جان اور مان لینا چاہیے کہ یہاں سے آگے کا راستہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے موجودہ تعلق کو آج کے زمینی حقائق کی روشنی میں از سر نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے کی دہائی دے رہا ہے۔ اس کے تفصیلی خدوخال آزاد کشمیر کے ایک معروف سکالر ڈاکٹر جاوید حیات نے اپنی کتاب ‘ آزاد کشمیر : پولیٹی، پولیٹکس اور پاوور شئیرنگ’ میں بیان کیا ہے۔ میں نے بھی س پر کوئی دس سال پہلے لکھا تھا کہ ریاست کی خود مختاری کا روائیتی نظریہ پوری ریاست کے عوام کے مسائل اور امنگوں کو اس میں شامل کرنے میں اسی طرح ناکام ثابت ہوا ہے جس طرح پاکستان اور بھارت میں قومی ریاست تعمیر کرنے کے تنگ نظر قوم پرستانہ نظریات اور پالیسیاں ۔ پاکستان کے اہل اختیار کے لیے اس تحریک میں یہ سبق ہے کہ وہ نسل جو پرانے جاگیردارانہ اور قبائلی ڈھانچوں کی فرسودگی کے بعد دوکانداری و سوداگری اور سوشل میڈیا کے عہد میں عالمی سرمایہ داری کے سائے میں پیدا ہوئی اور پروان چڑھ رھی ہے وہ موجود اختیاراتی ڈھانچوں سے نہ صرف باہر ہے بلکہ ان سے بیزار ہے۔ جبر کے ذریعے ان کو قابو رکھنے کی پالیسیاں کب تک چلیں گی؟ پاکستان کے اندر صوبوں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے ساتھ نئے حقیقت پسندانہ سماجی معاہدے کیے جائیں جن میں نوجوان نسل کے بیانیے کو شریک اور شامل کیا جائے ورنہ یہ احتجاجات اور تبائی فروغ پذیر رہے گی۔ یہ درست ہے کہ بھارت خاص طور سے بی جے پی کا بھارت پاکستان کے اندر اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں موجود صورت حال کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمل کرتا ہے لیکن اصل سوال یہ نہیں اصل سوال یہ ہے کہ ایسی صورت حال پیدا کیوں ہوتی ہے؟
اسی طرح آزاد کشمیر کے قوم پرستوں کو بھی یہ تلخ حقیقت جان اور مان لینی چاہیے کہ ریاست کی وحدت اور خود مختاری کی تحریک صرف آزاد کشمیر میں ہی ہے۔ دیگر کسی خطے میں پوری ریاست کی خود مختاری کی تحریک نہیں پائی جاتی۔ اس لیے دیگر خطوں کی طرح آپ بھی اپنے خطے میں موجود جتنی بھی گنجائش موجود ہے اس کو استعمال کرتے ہوئے مثبت، تعمیری، صحت مند اور ترقیاتی سیاست کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس خطے کے حقیقی مسائل کے حل، یہاں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے درکار سیاست کریں جس کے لیے تاریخی لمحہ آن پہنچا ہے۔ اس کا راستہ عوامی جمہوری سیاست ہے۔ اس کا منشور تمام اضلاع کے مسائل کا خاتمہ اور تمام اضلاع کے لیے مواقعوں میں اضافہ ہے۔ تارکین وطن کی شکل میں ایک بہت بڑی قوت آپ کے پاس موجود ہیں جن سے اور جن کے ذریعے مالی، فنی و تکنیکی اور علمی وسائل آپ کو میسر آ سکتے ہیں۔ ان کو ہوائی نظریات کی اشاعت کے لیے احتجاجی جلسوں اور تحریکوں کے لیے استعمال نہ کریں۔ تارکین وطن کی اگلی نسلیں یہاں سے رابطہ رشتہ رکھنا چاہتی ہیں لیکن زمین سے کٹے ہوئے نظریات کے زریعے نہیں بلکہ زمین سے جڑی ہوئی عوامی فلاح اور معاشرتی ترقی کی سرگرمیوں کے ذریعے۔
اس کے علاوہ باقی راستے جن پر اس وقت دونوں اطراف چل رہے ہیں وہ مسلسل تباہی کی طرف جاتے ہیں۔ اور اگر ان راستوں پر سفر جاری رہا تو آگے چل کر صرف بھارت ہی نہیں دنیا بھر کے وہ تمام ممالک اپنے اپنے مفادت کے مطابق اس کو استعمال کریں گے اور اس کا استحصال کریں گے جن کے مفادات اس خطے سے جڑے ہیں۔ گھر کے اندر معاملات ٹھیک کر لیں تو باہر والوں کے لیے استعمال کرنا آسان نہیں رہتا۔