غالباً 1996ء کی بات ہے۔ برطانیہ کے شہر اولڈہم میں اردو اور مادری زبانوں کی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں بھارت سے جاوید اختر، پاکستان سے احمد فراز،سید امام رضوی، خطہ کشمیر سے رانا فضل حسین، برطانیہ سے محمود ہاشمی، رضا علی عابدی، راف رسل سمیت کئی دانشوروں نے شرکت فرمائی تھی۔ شام کو مشاعرہ ہوا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض بی بی سی ایشین ٹیلی ویژن کے نامور پیشکار چمن لعل چمن نے ادا کیے۔چمن لعل چمن کی معاونت کے لئے ایک انتہائی خوبصورت لڑکی بھی سٹیج پر جلوہ گر ہوئی تو سامعین کی توجہ اُس شوخ و چنچل لڑکی نے لے لی۔ چمن لعل چمن کوجب اس بات کا احساس ہوا تو اُس نے کہا: ”خواتین و حضرات کچھ چیزیں دیکھنے کے لئے ہوتی ہیں اور کچھ سننے کے لئے۔آپ انہیں (لڑکی کی طرف اشارہ کرکے) دیکھیے اور مجھے سنیے۔“ اس پر ایک قہقہ بلند ہوا اور مشاعرہ کا آغاز ہوگیا۔ روایت کے مطابق پہلے مقامی شعرا نے کلام سنا کر مشاعرہ گرم کیا۔ جب مشاعرہ اپنے عروج پر پہنچا تو چمن لعل چمن نے کہا اب میں خطہ کشمیر کی ایک عظیم علمی و ادبی شخصیت، ریڈیو کے خوبصورت پیش کار، گوجری ادب کے چمکتے ستارے بابائے گوجری رانا فضل حسین کو دعوت کلام دیتا ہوں۔ یہ سنتے ہی ایک باریش سفید خشخاشی ڈاڑھی، مناسب قد، ڈھلتی عمرکے سمارٹ بزرگ سٹیج پر تشریف لائے اور گوجری میں اپنا کلام سننا شروع کردیا۔اُنہیں ہر شعر پر تحسین کے ڈونگرے ملنے لگے تو مجھے ایک عجیب مسرت ہوئی۔ بالکل اسی طرح جیسے یہ میرے اپنے بزرگ ہیں اور یہ تحسین کے ڈونگرے مجھے مل رہے ہوں۔ حالانکہ اُس وقت تک مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ بابائے گوجری رانافضل حسین ہیں کون ؟
مشاعرہ رات گئے ختم ہوا۔ میں محترمی محمود ہاشمی کو ساتھ لیکر اپنے گھر بریڈفورڈ چلا گیا۔ دوسرے دن اولڈہم میں پہاڑی کے ایک نامور ادب شمس الرحمان کو فون کرکے بابائے گوجری رانا فضل حسین کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ موصوف کا خاندان 1965ء میں راجوری سے ہجرت کرکے میرپور میں آکر آباد ہوا ہے۔ اگر آپ نے اُن کے ساتھ ملاقات کرنی ہے تو وہ آج آپ کے شہر بریڈفورڈ میں ہیں۔ اور غالباً اپنے ایک عزیز مشتاق احمد کے گھر مقیم ہیں۔ میں نے فون بند کیا اور بابائے گوجری سے ملاقات کے لئے مشتاق حسین کے گھر جاپہنچا۔ اندر گیا تو بابائے گوجری نے انتہائی شفقت سے مجھے گلے لگاتے ہوئے کہا کہ آپ مجھ سے آشنا نہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ آپ میرے عزیز دوست مولوی محمد اسماعیل کے صاحبزادے، ایوب صابر ایڈووکیٹ کے چھوٹے بھائی اور محمود ہاشمی کے شاگرد عزیز ہیں اور میں آپ کی کتاب ”پاکستان سے انگلستان تک“ کا مطالعہ کرچکا ہوں۔یہ سن کر مجھے عجیب مسرت ہوئی۔ میں نے تعجب سے پوچھا کہ آپ کو یہ سب کچھ کس طرح معلوم ہوا!…… یہ سنتے ہی انہوں نے مجھے شفقت بھرا دسالا دیا اور کہا ”ایوب صابر میرے پڑوسی ہیں“۔ میں نے کہا اُن کے پڑوسی تو منیر صاحب ہیں۔ میری اس معصومی پررانا صاحب نے ایک دھیمی مسکراہٹ چہرے پر بکھیرتے ہوئے کہا منیر حسین میرا بھتیجا اور داماد ہے۔ اور آپ کا کلاس فیلو۔ تب مجھے وہ بات یاد آئی جب منیرحسین اور میں آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے۔ ایک دن منیرنے مجھے بتایا کہ میرے چچا ریڈیو تراڑ کھل کے پیش کار ہیں۔ اُس زمانے میں ہمارے پاس ریڈیو نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود مجھے اُنہیں دیکھنے اور ملنے کا شوق پیدا ہوا تھا۔اُس کی وجہ غالباً یہی تھی کہ اُس وقت ریڈیو کے آرٹسٹ بھی فلمی ستاروں کی طرح لوگوں کے محبوب ہوتے تھے۔اس واقعہ کے تیس سال بعد آج میرے شوق کی تکمیل ہورہی تھی………… پھر کیا تھا …… باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔رانا صاحب نے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں مٹھاس سے لبریز اوردل موہ لینے والی گفتگو کا آغاز اس طرح کیا کہ میں مبہوت بنا اُن کی پر مغزاور دانائی کی باتیں طفل مکتب کی طرح سنتا رہا۔
دوران گفتگومیں صرف اتنا ہی کہہ سکا کہ:”رانا صاحب آپ عظیم انسان ہیں۔ بڑے انسان کی نشانی یہ ہے کہ اُس میں بناوٹ نہیں ہوتی۔ جو کچھ دل میں ہوتا ہے وہی زبان اور عمل سے ظاہر کرتے ہیں اور پھر بڑے لوگ اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے کام کرتے ہیں۔رانا صاحب آپ برطانیہ میں تشریف لائے اور یہاں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بلا جھجک اپنی ماں بولی کو ایک بین الاقوامی لپیٹ فارم سے متعارف کرواتے ہوئے ہمیں یہ سبق دیا کہ زبانیں چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتیں لوگوں کی سوچ انہیں چھوٹا یا بڑا بناتی ہے۔ زبان تو ذریعہ اظہار ہے۔ اچھی بات جس زبان میں بھی کی جائے وہ اچھی ہی ہوتی ہے۔ اور گالی جس زبان میں بھی دی جائے وہ گالی ہی ہوتی ہے“۔
بابائے گوجری کی یہ باتیں سن کر مجھے اپنے وہ ہزاروں اہل وطن یاد آنے لگے۔ جوریڈیو، ٹیلی ویژن یا نجی محفلوں میں دوسروں پر اپنا علمی رعب ڈالنے کی خاطر انگریزی بولنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ ایسے پروگرام دیکھ کرمیری بیگم شمیم نظامی جو بریڈفورڈ کالج میں انگریزی کی پروفیسر ہیں۔ اکثر مجھ سے پوچھتی ہیں کہ ان لوگوں کو صحیح طور پر انگریزی میں بات کرنی نہیں آتی لیکن پھر بھی غلط سلط انگریزی کیوں بولتے ہیں؟…… کیا ان کی کوئی ماں بولی نہیں؟ …… اس سوال پر میں انہیں صرف یہی جواب دیتا ہوں کہ…… یہ لوگ احساس کمتری میں مبتلا ہیں …… جو ماں بولی کو کمتر سمجھتے ہیں۔ اور احساس برتری کی خاطر دوسری زبانوں کا مصنوعی سہارا لیتے ہیں۔
بابائے گوجری رانا فضل حسین سے پہلی ملاقات نے میرے لئے ایک ایسا دروازہ کھول دیا جس سے داخل ہوکر میں علم و ادب کے ایک دبستان میں پہنچا جہاں ہرطرف مجھے علم کے موتی پھولوں کی طرح مہکتے نظر آنے لگے…… علم وادب کے علاوہ مجھ پر یہ راز بھی کھلا کہ حب الوطن اور جاں نثار یہ خاندان گفتار کا غازی نہیں بلکہ کردار کا غازی ہے……اس خاندان نے 41شہادتوں کے نذرانہ پیش کیے۔ یوں یہ گھرانہ مجھے شہیدوں کا چمنستان نظر آنے لگا۔ رانا صاحب کے خاندان نے جنگ آزادی میں عملی طور پر حصہ یوں لیا کہ ان کے بھائی کمانڈراحمد مصری اور کمانڈر نور محمد نورغازی جبکہ ان کے بھائی میر حسین اور فقیر محمد نے وطن کی آزادی کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کرکے شہادت کے جام پی کر شہیدوں کی صف میں شامل ہوئے۔
دبستان گوجری کے جس آکاش کے چاند بابائے گوجری ہیں …… اسی آسمان پر چمکنے والے بیس ستاروں میں ان کے بھائی نور محمد نور،ہمشیرہ حسین بی بی،بیٹے غلام سرور رانا، بھتیجے منیر حسین چوہدری، شاہ محمد شہباز جگ مگ کرتے ایک کہکشاں کی مانند نظر آتے ہیں۔اس کہکشاں کے ایک ستارے منیر حسین میرے ہم جماعت ہیں۔جو ان دنوں کمشنر منگلا ڈیم کے عہدہ جلیلیہ پرفا ئز ہیں۔ان کا شمار آزاد کشمیر کے قابل ترین سی ایس پی آفیسروں میں ہوتا ہے۔ منیر چوہدری محنتی، قابل، دیندار اور دیانتداری میں پورے خطہ میں شہرت رکھتے ہیں۔جس وطن میں تخت و تاج کے وارث ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہوں اُن میں ایک بااختیار صاحب اقتدار کا صاف ستھرا دامن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کی رگوں میں پاکیزہ خون اور حلق سے رزق حلال کا لقمہ اُترا اور پھر ایسا کرے بھی کیوں نہ آخر یہ میراث بھی تو غازیوں اور شہیدوں کی ہے۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ ……لیکن منیر حسین کے لئے یہ بھی ایک اعزاز کی بات ہے کہ وہ دبستان گوجری کے چاند بابائے گوجری کے داماد اور بھیتجے ہیں۔یہ بابائے گوجری کی سنگت کا نتیجہ ہے کہ ان کا رجحان علم و ادب کی طرف ہوا۔ ورنہ بیورکریسی کی مسند پر برجمان قدرت اللہ شہاب اور مختار مسعودکے علاوہ کم ہی کسی نے ادب سے دل لگایا۔ منیر حسین گوجری کے صاحب طرز شاعر اور ادیب ہیں۔ان کی شاعری کا مجموعہ ”سانجھ“ چھپ کر مارکیٹ میں آیا اور علمی و ادبی دنیا سے تحسین حاصل کررہا ہے۔ میں شاعری کے قواعد و ضوابط اور اوزان سے واقف نہیں۔ لیکن دوران مطالعہ مجھے ان کے کلام میں ماں دھرتی کی سوندھی سوندھی خوشبو اور آزادی کی تڑپ کا جذبہ جگہ جگہ موجیں مارتا لہلہاتا نظر آتا رہا۔
بابائے گوجری کے حقیقی جانشین غلام سرور رانا…… دبستان گوجری کے شہاب ثاقب ہیں۔جنہوں نے گوجری اور اردو میں انتہائی خوبصورت اور دلنشین انداز میں ایسا ادب تخلیق کیا جو قاری کو اپنی گرفت میں اس طرح کرلیتا ہے کہ قاری اپنا رشتہ دوسرے تمام کاموں سے توڑ کر صرف راناسرور کا بن جاتا ہے………… میں نے سنا تھا کہ بوڑھ کے درخت کے نیچے کوئی پھول نہیں کھل سکتا…… لیکن رانا غلام سرور کو دیکھ کر یہ کہاوت غلط ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو بابائے گوجری جیسی گھنی چھاؤں میں منیر حسین اور رانا غلام سرور جیسے تروتازہ پھول کبھی بھی نہ کھل سکتے۔ بابائے گوجری جس آسمان کے چاند ہیں۔رانا غلام سرور اُسی گگن کے شہاب ثاقب ہیں۔ ایسا ہونا ہی تھا چونکہ:
جمالِ ہم نشین در من اثر کرد
وگرنہ من ھماں خاکم کہ ہستم
(مجھ پر مجلس میں بیٹھنے کا یہ اثر ہوا۔ ورنہ میری حیثیت خاک جیسی تھی)
بابائے گوجری رانا فضل حسین راجوری کے ایک گاؤں پروڑی گجراں کے خانوادہ ہیں۔یہ گاؤں پیر پنجال کے دامن میں آباد انتہائی خوبصورت سرسبز اور زرخیر ہے۔ یہ زرخیزی زمینی اور ذہنی دونوں حیثیت سے موجود ہے۔ رانا صاحب کا بچپن اسی گاؤں میں گزرا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی پیرپنجال کے گوشے گوشے میں گھومے پھرے اور تحقیقی مواد جمع کرتے کرتے سری نگر تک جا پہنچے۔ پھر جموں کا رخ کیا تو جموں سے ریاسی، بدھل، راجوری بلکہ مہنڈر تک کا چپہ چپہ چھان ڈالا۔زندگی میں ایک ربط رکھتے ہوئے موسم سرما راجوری جبکہ گرمیوں کے آغاز میں پیرپنجال کی ڈھوکوں میں اپنے خاندان کے ساتھ چلے جاتے تھے۔ جہاں فطرت کے قریب رہ کر ان کی ذہنی تربیت فطرتی ماحول میں ہوتی رہی۔ والد بابا فیض کی صحبت سے اس طرح فیضیاب ہوئے کہ اُن کی سنائی ہوئی داستانیں ان کی رگ رگ میں سما گئیں۔ جس نے اُن کے اندر تحقیق و جستجو کا ایک ایسا الاؤ بیدار کیا جس نے انہیں زندگی بھر آرام سے بیٹھنے نہ دیا۔خطہ کشمیر کے سفر نے انہیں اس قدر معلومات پہنچائیں کہ یہ ان کی زندگی کا قیمتی اثاثہ ثابت ہوئیں۔ادبی دنیا کے اس فقیر کو پیر پنجال کے پہاڑی سلسلے اور اس کے دامن کی وادیوں کے درختوں، ندی نالوں، دریاؤں، چشموں، آبشاروں، جھرنوں، جھیلوں، سروں، برف پوش پربتوں، ڈھوکوں، بہکوں، مرگوں،فصلوں، پھلوں، پھولوں، جڑی بوٹیوں،پرندوں، چرندوں، پکڈنڈیوں اور مغلیہ روڈ جیسی شاہراہوں کے علاوہ اس علاقہ کی تاریخ، جغرافیہ،علم و ادب،آستانوں، دینی علوم، درس گاہوں، روحانی شخصیات کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن اور لوک کہانیوں کی جذیات تک کا مکمل علم ہے۔ان معلومات کی بنیاد پر میں رانا فضل حسین کو”پیرپنجال کا انسائیکلوپیڈیا“ تسلیم کرتا ہوں۔
پروڑی گجراں کے اس خانوادہ کو اس بات کا مکمل احساس تھا کہ آزادی بڑی نعمت ہے۔چنانچہ آزادی کی خاطر اس خاندان نے تن من دھن قربان کیا اور پھر بے سروسامانی کی حالت میں جنت الارض کو خدا حافظ کہہ کر بچے کچھے خاندان کو پاکستان لانے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان آکر بھی اُن کے اندر آزادی کی سلگتی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی۔اب کی بار انہوں نے عسکری میدان کی بجائے ابلاغ عامہ کے ذریعہ جنگ کا آغاز ریڈیو تراڑ کھل سے کیا۔تاریخ میں پہلی بارریڈیو سے اپنی ماں بولی گوجری زبان میں پروگرام شروع کیے۔ یہ پروگرام اس انداز سے ترتیب دیئے کہ اُن سے کشمیریوں کے اندر آزادی کی تڑپ پیدا ہوئی۔ جن دلوں میں پہلے سے تڑپ تھی انہیں اس طرح کا فیول مہیا کیا کہ وہ جنگ آزادی کے لئے کمربستہ ہوئے۔ریڈیو پروگراموں نے لوگوں کو آزادی کی تڑپ کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کا آغاز بھی کیا۔ یہ اُس تعلیم کا نتیجہ تھا کہ جلد ہی اس ریڈیو نے گوجری زبان کے کئی ادیبوں کی کچھ اس طرح تربیت کی کہ اُنہیں تراش خراش کر اُن میں سے ہیرے پیدا کیے۔ میرے تایا زاد بھائی عبدلمجید شاکر بھی ریڈیو تراڑ کھل کے کندن میں ڈھل کر سونا بنے تھے…… یہ سلسلہ منیر حسین چوہدری، رانا غلام سرور بلکہ اس سے بھی آگئے بڑھتا جارہا ہے۔اسی طرح کے کارناموں کی بدولت رانا فضل حسین کوحکومت پاکستان نے”تمغہ پاکستان“ کا اعزا عطا کیا۔
بابائے گوجری کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے اپنے لوگوں میں ایک اعتماد پیدا کیا۔ ورنہ پچاس سال پہلے لوگوں کی اکثریت گوجری زبان کو اتنی اہمیت اور وہ مقام نہیں دیتی تھی جو مقام اُسے آج ملا۔ لوگوں کی اکثریت اپنی ماں بولی گوجری میں بات کرتے ہوئے ہچکچاتی تھی۔ لیکن رانا صاحب نے لوگوں کے اندر ایک اعتماد پیدا کرکے اہل دانش کا ایک ایسا حلقہ پیدا کیا جو اب گوجری ادبی سنگت میرپور کے پلیٹ فارم سے ادبی کتب کی نشرواشاعت کا کام احسن طریقہ سے انجام دے رہا ہے۔
بابائے گوجری اب بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں لیکن اُن کے اندر کی پیاس ابھی تک بجھی نہیں۔ رانا صاحب کی دس کتابیں چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں۔ جن میں نعت شریف، رُت کا نشان، لہو پھوہار، سانجھادکھڑا، ماہل گیت، شنگراں کا گیت غزل، بانپھل بانپھل پانی، رحمتاں کی رُت، گوجری لوگ بارتے اردو ترجمہ اور بابائے گوجری۔یہ کتابیں شاعری اور نثر میں لکھی گئیں ہیں۔رانا صاحب کی تحریریں شگفتہ، دلنشین اور عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں تحقیق کا کام حد سے زیادہ شامل ہے۔ تحقیق کا کام مشکل اور کٹھن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لکھاڑیوں کی اکثریت اس میدان سے کنی کتراتی رہتی ہے۔ لیکن رانا صاحب نے کمر باندھ کر تحقیق کا کام اس خوبصورتی سے کیا کہ جس سے ہماری آئندہ نسلیں مستفید ہوتی رہیں گئیں۔رانا فضل حسین جیسے محقیقین کے لئے علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ:
وہی ہے صاحب امروز جس نے اپنی ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر فردا